کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اُس مرد کا بیان جس نے بیماری کی حالت میں بیوی کو طلاق دی، اور یہ کہ اس کی میراث کا حق دار کون ہوگا۔
حدیث نمبر: 3135
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِي الطَّلَاقَ إِلَّا طَلَّقْتُهَا، وَكَانَتْ تُمَاضِرُ بِنْتُ الْأَصْبَغِ أُمُّ أَبِي سَلَمَةَ فِي خُلُقِهَا بَعْضُ مَا فِيهِ، فَسَأَلَتْهُ الطَّلَاقَ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَقَالَ لَهَا: «إِذَا حِضْتِ ثُمَّ طَهُرْتِ فَآذِنِينِي» فَآذَنَتْهُ، فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ، وَمَاتَ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ فَوَرَّثَهَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْهُ بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ
مظاہر امیر خان
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے کہا: ”میری کسی بیوی نے طلاق مانگی تو میں طلاق دوں گا۔“ جب تماضر بنت اصبغ نے طلاق کا مطالبہ کیا تو فرمایا: ”جب تم حیض سے پاک ہو جاؤ تو خبر دینا۔“ اور پھر اسے طلاق دی، اور وہ عدت گزارنے کے بعد میراث میں شریک ہوئی۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3135
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 2113، 2114، 2115، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1958، 1959، 1970، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 15229، 15231، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4051، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12191، 12192، 12193، 12194، 12195، 12197، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19372»
قال ابن عبدالبر: وأصح الروايات عنه أنه ورثها بعد انقضاء العدة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 120)
حدیث نمبر: 3136
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: " لَا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ الطَّلَاقَ إِلَّا طَلَّقْتُهَا، فَغَارَتْ تُمَاضِرُ بِنْتُ الْأَصْبَغِ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تَسْأَلُهُ طَلَاقَهَا، فَقَالَ لِلرَّسُولِ: قُلْ لَهَا: «إِذَا حَاضَتْ فَلْتُؤْذِنِّي» فَحَاضَتْ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَقَالَ لِلرَّسُولِ قُلْ لَهَا: إِذَا طَهُرْتِ فَلْتُؤْذِنَنِي، فَطَهُرَتْ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَغَضِبَ، وَقَالَ أَيْضًا: «هِيَ طَالِقٌ الْبَتَّةَ لَا رَجْعَ إِلَيْهَا» فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: لَا أُوَرِّثُ تُمَاضِرَ شَيْئًا، فَارْتَفَعُوا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي الْعِدَّةِ فَوَرَّثَهَا مِنْهُ، فَصَالَحُوهَا مِنْ نَصِيبِهَا رُبُعَ الثَّمَنِ عَلَى ثَمَانِينَ أَلْفًا فَمَا أَوْفَوْهَا
مظاہر امیر خان
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں کسی طلاق مانگنے والی عورت کو نہیں چھوڑوں گا۔“ جب تماضر نے طلاق مانگی تو انہوں نے کہا: ”جب حیض آئے تو اطلاع دو۔“ پھر جب طہر آیا تو انہوں نے غصے میں طلاق بائن دی اور جلد ہی وفات پا گئے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو میراث میں شریک کر دیا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3136
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 2113، 2114، 2115، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1958، 1959، 1970، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 15229، 15231، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4051، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12191، 12192، 12193، 12194، 12195، 12197، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19372»
قال ابن عبدالبر: وأصح الروايات عنه أنه ورثها بعد انقضاء العدة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 120)
حدیث نمبر: 3137
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى شُرَيْحٍ فِي الَّذِي طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَرَضِهِ «تَرِثُهُ وَلَا يَرِثُهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے شریح کو لکھا: ”جس شخص نے بیماری کی حالت میں بیوی کو تین طلاقیں دیں تو عورت اس کی وارث ہو گی، لیکن مرد عورت کا وارث نہ ہو گا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3137
درجۂ حدیث محدثین: مرسل ضعيف
تخریج حدیث «مرسل ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1960، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 15233، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12201»
روایت مرسل ہے کیونکہ إبراهيم النخعي نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مباشرتًا روایت نہیں کی، وہ ان سے مدرک نہیں ہیں۔ لہٰذا:، یہ اثر مرسل ہے (یعنی تابعی کا قول یا تابعی کا قول عن الصحابی)۔
شریک بن عبد الله کی ضعف کی کیفیت بھی اس کو مزید قابل احتجاج نہیں بناتی۔
لہٰذا یہ روایت "ضعیف" ہے مرسل ہونے کی وجہ سے، اور شریک کے انفراد سے بھی اس میں کلام ہے۔
حدیث نمبر: 3138
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ: نا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ فِيمَا جَاءَ بِهِ عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ إِلَى شُرَيْحٍ: «فِي عَيْنِ الدَّابَّةِ رُبُعُ ثَمَنِهَا، وَالْأَصَابِعُ سَوَاءٌ، وَجِرَاحَاتُ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ سَوَاءٌ إِلَّا السِّنَّ وَالْمُوضِحَةَ، وَخَيْرُ أَحْيَانِ الرَّجُلِ أَنْ يَصْدُقَ بِاعْتِرَافِهِ بِوَلَدِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ، فَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، وَرِثَتْهُ مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عروہ بارقی رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے شریح کے پاس یہ حکم لے کر آئے کہ جانور کی آنکھ ضائع ہو جائے تو اس کا چوتھائی قیمت دیا جائے، انگلیاں سب برابر ہیں، مرد و عورت کے زخموں کا حکم برابر ہے، سوائے دانت اور ہڈی کے زخم کے، اور بہترین حالت آدمی کی یہ ہے کہ مرتے وقت اپنے بچے کا اعتراف کرے، اور اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے تو وہ عدت کے اندر اس کی وارث ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3138
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث « إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1961، 1962، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16386، 16411، 16412، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 17493، 17700، 17748، 18418، 18419، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19377، 19414، 27517، 27534، 27968، 28067»
قال ابن حجر: سنده صحيح إن كان النخعي سمعه من شريح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (12 / 223)
حدیث نمبر: 3139
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ فِيمَا جَاءَ بِهِ عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ إِلَى شُرَيْحٍ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ: " الْأَصَابِعَ سَوَاءٌ، الْخِنْصَرُ وَالْإِبْهَامُ سَوَاءٌ، وَأَنَّ جُرُوحَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ سَوَاءٌ فِي السِّنِّ وَالْمُوضِحَةِ، فَمَا خَلَا فَعَلَى النِّصْفِ، وَإِنَّ فِي عَيْنِ الدَّابَّةِ رُبُعَ ثَمَنِهَا، وَإِنَّ أَحَقَّ أَحْوَالِ الرَّجُلِ أَنْ يَصْدُقَ عَلَيْهَا عِنْدَ مَوْتِهِ فِي وَلَدِهِ إِذَا أَقَرَّ بِهِ، قَالَ مُغِيرَةُ: وَأُنْسِيتُ الْخَامِسَةَ حَتَّى ذَكَّرَنِي عُبَيْدَةُ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، وَرِثَتْهُ مَا دَامَتْ فِي الْعِدَّةِ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عروہ بارقی رضی اللہ عنہ کے ذریعے شریح کو لکھا: ”انگلیاں سب برابر ہیں، چھوٹی انگلی اور انگوٹھا بھی برابر ہیں، مرد و عورت کے زخموں میں برابر دیت ہے، سوائے دانت اور ہڈی کے، جانور کی آنکھ ضائع ہو تو چوتھائی قیمت دی جائے، اور آدمی کی بہترین حالت یہ ہے کہ موت کے وقت اپنے بیٹے کا اعتراف کرے، اور اگر کسی نے بیوی کو تین طلاقیں دی ہوں اور وہ عدت میں ہو تو وہ اس کی وارث ہے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3139
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «إسنادہ صحیح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1961، 1962، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16386، 16411، 16412، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 17493، 17700، 17748، 18418، 18419، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19377، 19414، 27517، 27534، 27968، 28067»
قال ابن حجر: سنده صحيح إن كان النخعي سمعه من شريح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (12 / 223)
حدیث نمبر: 3140
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ إِنْ مَاتَ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ وَرِثَتْهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ شُبْرُمَةَ: أَرَأَيْتَ إِنِ انْقَضَتِ الْعِدَّةُ أَتَتَزَوَّجُ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: فَإِنْ هَذَا مَاتَ، وَمَاتَ الْأَوَّلُ أَتَرِثُ زَوْجَيْنِ؟ قَالَ: " لَا، رَجَعَ إِلَى الْعِدَّةِ قَالَ: «تَرِثُهُ مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ»
مظاہر امیر خان
ابو ہاشم کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بیماری کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے اور اس بیماری میں مر جائے تو بیوی اس کی وارث ہو گی، ابن شبرمہ نے کہا: ”اگر عدت پوری ہو جائے تو کیا وہ کسی اور سے نکاح کر سکتی ہے؟“ کہا: ”ہاں۔“ تو پوچھا: ”اگر دوسرا شوہر مر جائے تو کیا دونوں کا وارث بنے گی؟“ کہا: ”نہیں، عدت ہی معیار ہے، جب تک عدت میں ہو گی وراثت پائے گی۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3140
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 3141
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَرَضِهِ، قَالَا: «تَعْتَدُّ عِدَّةَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَتَرِثُهُ مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم اور حضرت شعبی رحمہما اللہ کہتے ہیں: ”اگر کسی نے بیماری میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، تو بیوی عدت وفات گزارے گی اور وراثت میں حصہ پائے گی۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3141
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1964، 1965، 1967، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11106، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19378، 19415»
حدیث نمبر: 3142
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، أَنَّهُمَا قَالَا فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَاحِدَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ وَهُوَ مَرِيضٌ، ثُمَّ مَاتَ قَالَا: «تَسْتَأْنِفُ عِدَّةَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَتَرِثُهُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم اور حضرت شعبی رحمہما اللہ کہتے ہیں: ”اگر کسی نے بیماری میں ایک یا دو طلاقیں دیں، پھر مر گیا تو بیوی عدت وفات گزارے گی اور وارث ہو گی۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3142
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1964، 1965، 1967، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11106، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19378، 19415»
حدیث نمبر: 3143
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَرَضِهِ قَالَ: «تَرِثُهُ مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ»
مظاہر امیر خان
حضرت ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اگر کسی نے بیماری میں بیوی کو تین طلاقیں دیں تو وہ عدت میں ہو تو وراثت میں حصہ پائے گی۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3143
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
حدیث نمبر: 3144
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، وَهُوَ مَرِيضٌ قَالَ: «لَهَا الْمِيرَاثُ إِنْ مَاتَ وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَلَا مِيرَاثَ لَهَا» قَالَ هُشَيْمٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جو شخص بیماری میں بیوی کو تین طلاقیں دے، اگر بیوی عدت میں ہو تو وارث ہو گی، اگر عدت ختم ہو جائے تو وراثت نہیں ملے گی، اور ہم اسی پر عمل کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3144
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1964، 1965، 1967، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11106، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19378، 19415»
حدیث نمبر: 3145
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «بَابٌ مِنَ الطَّلَاقِ جَسِيمٌ، إِذَا وَرِثَتِ الْمَرْأَةُ اعْتَدَّتْ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ طلاق کا باب بہت بڑا ہے، جب عورت وراثت پائے تو عدت بھی گزارے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3145
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 932، 1968، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19417»
حدیث نمبر: 3146
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ، فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ فِي صِحَّتِهِ ثُمَّ مَرِضَ، فَطَلَّقَهَا الثَّالِثَةَ لِلْعِدَّةِ فِي مَرَضِهِ، فَمَاتَ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ، قَالَ: «لَا تَرِثُهُ لِأَنَّهُ لَمْ يَعْتَدِ»
مظاہر امیر خان
حضرت حارث عکلی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر کسی نے صحت میں دو طلاقیں دیں اور بیماری میں تیسری، پھر فوت ہو گیا، تو عورت کو وراثت نہیں ملے گی کیونکہ وہ عدت میں نہیں تھی۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3146
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 3147
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، قَالَ: نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، «طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فِي مَرَضِهِ فَمَاتَ بَعْدَ مَا حَلَّتْ، فَوَرَّثَهَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ»
مظاہر امیر خان
حضرت ہشام بن عروہ اور حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیماری میں اپنی بیوی کو طلاق دی، بیوی حلال ہو گئی، پھر فوت ہو گئے، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بیوی کو وارث قرار دیا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3147
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لغيرہ
تخریج حدیث «إسناده حسن لغيرہ، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 2113، 2114، 2115، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1958، 1959، 1970، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 15229، 15231، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4051، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12191، 12192، 12193، 12194، 12195، 12197، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19372»
حدیث نمبر: 3148
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِيمَنْ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا وَهُوَ مَرِيضٌ , قَالَ: «لَهَا نِصْفُ الصَّدَاقِ، وَلَا مِيرَاثَ لَهَا، وَلَا عِدَّةَ عَلَيْهَا» قَالَ هُشَيْمٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جس نے بیوی کو بغیر ہمبستری کے بیماری میں طلاق دی، تو بیوی کو آدھا مہر ملے گا، نہ عدت لازم، نہ وراثت۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3148
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1971، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12218، 12220، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17541»
حدیث نمبر: 3149
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: لَهَا الصَّدَاقُ كَامِلًا، وَالْمِيرَاثُ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”بیوی کو مکمل مہر، وراثت اور عدت لازم ہو گی۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3149
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1972، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12221، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17545»
حدیث نمبر: 3150
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ وَهُوَ مَرِيضٌ قَالَ: «لَا يَتَوَارَثَانِ، وَلَا نَفَقَةَ لَهَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ بِهَا حَمْلٌ، أَوْ تُطَلَّقَ مُضَارَّةً فِي مَرَضِهِ فَيَمُوتُ، وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جو شخص اپنی بیوی کو ”البتہ“ طلاق دے بیماری میں، تو ان کے درمیان نہ وراثت ہو گی نہ نفقہ، سوائے اس کے کہ حمل ہو یا ضرر پہنچانے کے لیے طلاق دے کر مر جائے اور بیوی عدت میں ہو۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3150
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1973، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12018، 12043، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18995، 18998، 19384»