کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: وہ صورتیں جن میں شوہر کی قسم ایلاء (جماع سے روکنے کی قسم) شمار ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 3096
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «كَانَ لَا يَرَى الْإِيلَاءَ إِلَّا بِيَمِينٍ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ایلاء صرف قسم کے ساتھ معتبر ہے۔“
حدیث نمبر: 3097
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ - وَانْطَلَقَتْ إِلَى أَهْلِهَا مُغَاضِبَةً -: وَاللَّهِ لَا آتِيكِ حَتَّى تَأْتِينِي، قَالَ: إِنْ مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ، فَلَا إِيلَاءَ عَلَيْهِ "
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر مرد بیوی سے کہے: اللہ کی قسم میں تیرے پاس نہ آؤں گا جب تک تو نہ آ جائے، اور عورت ناراض ہو کر چلی جائے، تو چار ماہ گزرنے پر ایلاء نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 3098
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ: أنا خُصَيْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فِي الرَّجُلِ يَغْضَبُ عَلَى امْرَأَتِهِ فَلَا يَقْرَبُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، قَالَ: " لَا يَقَعُ عَلَيْهِ إِيلَاءٌ إِلَّا أَنْ يَكُونَ حَلَفَ، أَوْ قَالَ: لَا أَقْرَبُكِ، وَمَا كَانَ مِنْ غَضَبٍ مِنْ قِبَلِ الْمَرْأَةِ فَإِنَّهُ لَا يَقَعُ فِيهِ الْإِيلَاءُ "
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبير رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص بیوی پر غصہ کرے اور چار مہینے تک اس کے قریب نہ جائے، تو ایلاء واقع نہیں ہوتا، جب تک کہ قسم نہ کھائے یا صاف کہہ دے کہ میں تیرے قریب نہیں آؤں گا، اور اگر عورت کی جانب سے غصہ ہو تو ایلاء نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 3099
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ، وَاللَّهِ لَا أَقْرَبُهَا اللَّيْلَةَ فَتَرَكَهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ قَالَ: إِنْ تَرَكَهَا لِيَمِينِهِ فَهُوَ إِيلَاءٌ "
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر کسی مرد نے اپنی بیوی سے کہا: ”اللہ کی قسم میں آج رات تیرے پاس نہیں آؤں گا۔“ اور پھر اسے چار مہینے چھوڑ دیا، تو اگر وہ اپنی قسم کی وجہ سے چھوڑے تو یہ ایلاء ہے۔
حدیث نمبر: 3100
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِيمَنْ آلَى ثُمَّ طَلَّقَ قَالَ: «يَهْدِمُ الطَّلَاقُ الْإِيلَاءَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جس شخص نے ایلاء کیا اور پھر طلاق دے دی تو طلاق ایلاء کو ختم کر دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 3101
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «الطَّلَاقُ يَهْدِمُ الْإِيلَاءَ» وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: «يَسْتَبِقَانِ كَأَنَّهُمَا فَرَسَا رِهَانٍ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ طلاق ایلاء کو ختم کر دیتی ہے، اور حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا کہ دونوں ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں جیسے دو دوڑنے والے گھوڑے۔
حدیث نمبر: 3102
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «يَهْدِمُ الطَّلَاقُ الْإِيلَاءَ، وَلَكِنَّهُمَا كَفَرَسَيْ رِهَانٍ، فَأَيُّهُمَا سَبَقَ أُخِذَ بِهِ، وَإِنْ وَقَفَا جَمِيعًا أُخِذَ بِهِمَا»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ طلاق ایلاء کو ختم کر دیتی ہے، مگر وہ دونوں ایسے ہیں جیسے دو گھوڑے مقابلے میں ہوں، جو پہلے پہنچے اس پر عمل ہو گا، اور اگر دونوں ایک ساتھ ہوں تو دونوں کا اعتبار ہو گا۔
حدیث نمبر: 3103
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مِثْلَ قَوْلِ الشَّعْبِيِّ
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ بھی حضرت شعبی رحمہ اللہ کی طرح فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 3104
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جَرِيحٍ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِذَا آلَى ثُمَّ طَلَّقَ فَهُمَا كَفَرَسَيْ رِهَانٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص ایلاء کرے پھر طلاق دے تو یہ دونوں ایسے ہیں جیسے دو دوڑتے گھوڑے۔
وضاحت:
وضآحت: إسماعیل بن عیاش: اگر اپنے شامی شیوخ سے روایت کریں تو ثقہ، لیکن جب غیر شامی (یعنی مکی، عراقی) سے روایت کریں، تو ضعیف قرار دیے جاتے ہیں۔
ابن جریج: ثقہ، مگر مدلس ہیں، اور یہاں عن سے روایت ہے۔
عمن حدثه: یہ مجہول راوی ہے، اس کا تعیین نہیں ہے۔
? لہٰذا سند میں دو علتیں ہیں: إسماعیل بن عیاش کا غیر شامی راوی سے روایت کرنا۔
ابن جریج کا عنعنہ اور مجہول راوی۔
ابن جریج: ثقہ، مگر مدلس ہیں، اور یہاں عن سے روایت ہے۔
عمن حدثه: یہ مجہول راوی ہے، اس کا تعیین نہیں ہے۔
? لہٰذا سند میں دو علتیں ہیں: إسماعیل بن عیاش کا غیر شامی راوی سے روایت کرنا۔
ابن جریج کا عنعنہ اور مجہول راوی۔
حدیث نمبر: 3105
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ «يَسْتَبِقَانِ» وَابْنُ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ: «يَهْدِمُ الطَّلَاقُ الْإِيلَاءَ» قَالَ هُشَيْمٌ: الْقَوْلُ عَلَى مَا قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”دونوں سبقت کرتے ہیں۔“ اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”طلاق ایلاء کو ختم کر دیتی ہے۔“ اور ہشیم نے کہا: ”قول اسی پر ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔“
حدیث نمبر: 3106
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ: أنا خُصَيْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: «إِذَا آلَى الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ طَلَّقَهَا فَإِنْ مَضَتْ عِدَّةُ الطَّلَاقِ هَدَمَ الطَّلَاقُ الْإِيلَاءَ، وَكَانَتْ تَطْلِيقَةً، وَإِنْ مَضَتْ عِدَّةُ الْإِيلَاءِ قَبْلَ عِدَّةِ الطَّلَاقِ كَانَتْ تَطْلِيقَتَيْنِ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر کسی شخص نے بیوی سے ایلاء کیا، پھر طلاق دی، تو اگر طلاق کی عدت پہلے پوری ہو جائے تو طلاق ایلاء کو ختم کر دے گی اور ایک طلاق شمار ہو گی، اور اگر ایلاء کی عدت پہلے پوری ہو جائے تو دو طلاقیں شمار ہوں گی۔
حدیث نمبر: 3107
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَمُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِيلَاءُ الْعَبْدِ مِنَ الْحُرَّةِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ، وَإِيَلَاؤُهُ مِنَ الْأَمَةِ شَهْرَيْنِ»
مظاہر امیر خان
حسن اور ابراہیم رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ غلام اگر آزاد عورت سے ایلاء کرے تو چار مہینے، اور اگر باندی سے کرے تو دو مہینے کی مدت مقرر ہو گی۔
حدیث نمبر: 3108
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا ظَاهَرَ الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ أَمَةٌ، فَعَلَيْهِ نِصْفُ كَفَّارَةِ الْحُرَّةِ، وَإِنْ ظَاهَرَ مِنْ أَمَتِهِ فَعَلَيْهِ كَفَّارَةُ الْحُرَّةِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی باندی سے ظہار کرے تو آزاد عورت کی کفارہ لازم ہو گی، اور اگر کسی آزاد عورت سے ظہار کرے جو باندی ہو تو نصف کفارہ ہو گا۔
حدیث نمبر: 3109
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُكِ فَمَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ قَبْلَ أَنْ يُكَلِّمَهَا، قَالَ: «إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِيلَاءً، وَإِنَّمَا كَانَ الْإِيلَاءُ فِي الْجِمَاعِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص قسم کھائے کہ میں تجھ سے بات نہیں کروں گا اور چار مہینے گزر جائیں تو میں ڈرتا ہوں کہ یہ ایلاء ہو جائے، مگر اصل ایلاء جماع میں ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 3110
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، وَمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: آلَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَنَسٍ مِنِ امْرَأَتِهِ، ثُمَّ خَرَجَ، فَجَاءَ وَقَدْ مَضَى وَقْتُ الْإِيلَاءِ، فَدَخَلَ بِامْرَأَتِهِ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: مَا فَعَلْتَ فِي يَمِينِكَ؟ قَالَ مَا ذَكَرْتُهَا فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «انْطَلِقْ فَأَعْلِمْهَا أَنَّهَا قَدْ بَانَتْ مِنْكَ، ثُمَّ اخْطُبْهَا، فَخَطَبَهَا، فَتَزَوَّجَهَا عَلَى رِطْلٍ مِنْ فِضَّةٍ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن انس رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر چلے گئے، واپس آئے تو مدت گزر چکی تھی، اور بیوی سے ہمبستری کر لی، جب ان سے ان کی قسم کے بارے میں پوچھا گیا تو کہا کہ میں نے یاد نہیں رکھا، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر معاملہ بتایا تو انہوں نے فرمایا: ”جاؤ اور اسے اطلاع دو کہ وہ تم سے جدا ہو چکی ہے، پھر اسے نکاح کا پیغام دو۔“ پس اس نے پیغام دیا اور ایک رطل چاندی پر نکاح کیا۔
حدیث نمبر: 3111
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى شُرَيْحٍ فَقَالَ: إِنَّهُ آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ فَمَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ قَبْلَ أَنْ يَفِيءَ إِلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ شُرَيْحٌ: {وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سُمَيْعٌ عَلِيمٌ} [البقرة: 227] فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: أَفْتِنِي، فَلَمْ يَزِدْهُ عَلَى ذَلِكَ، فَانْطَلَقَ إِلَى مَسْرُوقٍ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي كَانَ مِنْهُ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا أُمَيَّةَ لَوْ أَنَّ النَّاسَ فَعَلُوا مِثْلَ مَا فَعَلَ مَنْ كَانَ يُفَرِّجَ عَنْكَ، ثُمَّ قَالَ: «إِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ بَانَتْ مِنْكَ بِتَطْلِيقَةٍ، وَتَعْتَدُّ ثَلَاثَ حِيَضٍ وَتَخْطُبُهَا إِنْ شِئْتَ، وَلَا يَخْطُبُهَا غَيْرُكَ حَتَّى تَنْقَضِيَ الْعِدَّةُ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا شریح رحمہ اللہ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے بیوی سے ایلاء کیا اور چار مہینے گزر گئے ہیں، تو شریح نے یہ آیت پڑھی: «وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» پھر وہ شخص مسروق رحمہ اللہ کے پاس گیا اور سارا ماجرا بیان کیا تو مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ سیدنا ابو امیہ پر رحم کرے، اگر لوگ اس جیسے ہوتے تو تجھ پر آسانی ہوتی۔“ پھر فرمایا: ”جب چار مہینے مکمل ہوں تو ایک طلاق واقع ہو جائے گی، عورت تین حیض کی عدت گزارے گی، پھر اگر تم چاہو تو دوران عدت نکاح کا پیغام دے سکتے ہو، لیکن کوئی اور شخص عدت کے دوران نکاح کا پیغام نہیں دے سکتا۔“
حدیث نمبر: 3112
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، بِمِثْلِ حَدِيثِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ الشَّعْبِيُّ لَمَّا قَالَ مَسْرُوقٌ مَا قَالَ: ائْتِ شُرَيْحًا، فَأَتَيْتُ شُرَيْحًا فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ مَسْرُوقٍ، فَقَالَ لِي شُرَيْحٌ: هَلْ تَعْرِفُ الرَّجُلَ؟ فَقُلْتُ: لَعَلِّي أَعْرِفُهُ، قَالَ: انْظُرْهُ لِي فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَنَظَرْتُ، فَإِذَا أَنَا بِهِ فَقُلْتُ لَهُ: تَعَالَ يَدْعُوكَ شُرَيْحٌ، فَأَتَيْتُهُ بِهِ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لَهُ مَسْرُوقٌ
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بھی حضرت مسروق رحمہ اللہ کے قول کو بیان کیا، اور جب مسروق رحمہ اللہ نے وہ بات کہی تو شعبی نے شریح سے جا کر خبر دی، شریح نے پوچھا: ”کیا تم اس شخص کو جانتے ہو؟“ شعبی نے کہا: ”شاید۔“ تو شریح نے کہا: ”مسجد میں دیکھو۔“ جب شعبی نے دیکھا تو اسے بلا کر لایا، شریح نے اس سے وہی بات کہی جو مسروق رحمہ اللہ نے کہی تھی۔
حدیث نمبر: 3113
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى شُرَيْحًا فَسَأَلَهُ عَنِ الْإِيلَاءِ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ فَرَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ كَمَا سَأَلَهُ، فَأَتَى الرَّجُلُ مَسْرُوقًا، فَسَأَلَهُ وَذَكَرَ لَهُ قَوْلَ شُرَيْحٍ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا أُمَيَّةَ لَوْ أُتِيَ غَيْرُهُ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ وَمَنْ كَانَ يُفَرِّجُ عَنْكَ؟ فَقَالَ مَسْرُوقٌ: «إِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ بَانَتْ بِتَطْلِيقَةٍ وَيَخْطُبُهَا فِي الْعِدَّةِ، فَإِذَا قَضَتِ الْعِدَّةَ خَطَبَهَا مَعَ الْخُطَّابِ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص شریح کے پاس آیا اور ایلاء کے بارے میں سوال کیا، شریح نے یہی آیت تلاوت کی، پھر وہ شخص مسروق رحمہ اللہ کے پاس گیا اور سارا واقعہ بیان کیا، مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ سیدنا ابو امیہ پر رحم کرے، اگر اور لوگ بھی ایسے ہوتے۔“ پھر فرمایا: ”جب چار مہینے گزر جائیں تو ایک طلاق واقع ہو گی، اور وہ عدت کے اندر نکاح کا پیغام دے سکتا ہے، اور جب عدت پوری ہو جائے تو دوسرے مردوں کے ساتھ نکاح کے لیے مقابلے میں آ سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3114
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: «إِذَا آلَى الرَّجُلُ فَمَضَتِ الْأَرْبَعَةُ الْأَشْهُرِ فَلَيْسَ عَلَيْهَا عِدَّةٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر کسی شخص نے ایلاء کیا اور چار مہینے گزر گئے تو بیوی پر کوئی عدت لازم نہیں۔
حدیث نمبر: 3115
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: آلَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَنَسٍ مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ خَرَجَ، فَغَابَ عَنْهَا سِتَّةَ أَشْهُرٍ، ثُمَّ جَاءَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا قَدْ بَانَتْ مِنْكَ، فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: «ائْتِهَا فَأَعْلِمْهَا أَنَّهَا قَدْ بَانَتْ مِنْكَ، ثُمَّ اخْطُبْهَا إِلَى نَفْسِهَا» فَأَتَاهَا فَأَعْلَمَهَا وَخَطَبَهَا إِلَى نَفْسِهَا، وَأَصْدَقَهَا رِطْلًا مِنْ وَرِقٍ
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن انس رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا اور پھر چھ مہینے غائب رہے، پھر واپس آ کر بیوی کے پاس آئے، تو لوگوں نے کہا کہ وہ تم سے جدا ہو چکی ہے، پس سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ذکر کیا، انہوں نے فرمایا: ”اس کے پاس جاؤ اور اطلاع دو کہ تم سے جدا ہو چکی ہے، پھر اسے نکاح کا پیغام دو۔“ چنانچہ اس نے نکاح کیا اور ایک رطل چاندی مہر مقرر کی۔
حدیث نمبر: 3116
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «يُوقَفُ الَّذِي يُؤْلِي عِنْدَ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ، فَإِمَّا أَنْ يَفِيءَ، وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابن طاؤس رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایلاء کرنے والے کو چار مہینے کے اختتام پر روکا جائے گا، پھر یا تو رجوع کرے یا طلاق دے۔
حدیث نمبر: 3117
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي الْإِيلَاءِ قَالَ: «يُوقَفُ عِنْدَ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ»
مظاہر امیر خان
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایلاء کرنے والے کو چار مہینے مکمل ہونے پر روکا جائے گا۔