حدیث نمبر: 3011
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَا يُجْزِئُ فِي الظِّهَارِ عِتْقُ يَهُودِيٍّ، وَلَا نَصْرَانِيٍّ» وَكَانَ يَقُولُ: لَا يُجْزِئُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكَفَّارَاتِ إِلَّا عِتْقُ مُسْلِمٍ "
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ظہار کے کفارے میں یہودی یا نصرانی غلام کا آزاد کرنا کافی نہیں، بلکہ صرف مسلمان غلام آزاد کرنا کافی ہے۔“
حدیث نمبر: 3012
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ قَالَ: «لَا يُجْزِئُ عِتْقُ الصَّبِيِّ فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ظہار کے کفارے میں نابالغ غلام کا آزاد کرنا کافی نہیں۔“
حدیث نمبر: 3013
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، «أَنَّهُ كَانَ يَرَى عِتْقَ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ جَائِزًا فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ یہود و نصاریٰ غلام کو ظہار کے کفارے میں آزاد کرنا جائز سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 3014
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ بھی یہود و نصاریٰ غلام کے ظہار میں آزاد کرنے کو جائز سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 3015
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، «أَنَّهُ كَانَ يُجِيزُ عِتْقَ الْأَعْوَرِ فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ، وَلَا يُجِيزُ عِتْقَ الْأَعْمَى»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ظہار کے کفارے میں کانے غلام کو آزاد کرنا جائز ہے مگر اندھے کو آزاد کرنا جائز نہیں۔“
حدیث نمبر: 3016
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ «أَنَّهُ كَانَ يَرَى عِتْقَ أُمِّ الْوَلَدِ جَائِزًا فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ام ولد کو ظہار کے کفارے میں آزاد کرنا جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 3017
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا رَجُلٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ قَالَ: «لَا يَجُوزُ عِتْقُ أُمِّ الْوَلَدِ فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ» «وَكَانَ يَرَى عِتْقَ الْمُدَبَّرَةِ فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ جَائِزًا»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ام ولد کو ظہار کے کفارے میں آزاد کرنا جائز نہیں، لیکن مدبرہ کو آزاد کرنا جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 3018
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا حَجَّاجٌ، عَنْ مُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَجُوزُ أُمُّ الْوَلَدِ فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ، وَلَا يَجُوزُ الْمُعْتَقَةُ عَنْ دُبُرٍ، قُلْتُ: فَمَا بَالُ الْمُعْتَقَةِ عَنْ دُبُرٍ لَا يَجُوزُ عِتْقُهَا قَالَ: «لِمَا يُخْتَلَفُ فِيهَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ظہار کی کفارہ میں ام ولد اور معتقہ عن دبر کا عتق جائز نہیں۔“ میں نے پوچھا: ”معتقہ عن دبر کا کیا مسئلہ ہے؟“ فرمایا: ”اس میں اختلاف کی وجہ سے۔“
حدیث نمبر: 3019
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ الْحَكَمِ، يَقُولُ: " لَا تُجْزِئُ أُمُّ الْوَلَدِ، وَالْمُعْتَقَةُ عَنْ دُبُرٍ فِي كَفَّارَةِ الظِّهَارِ؛ لِأَنَّهُ قَدْ جَرَتْ فِيهِمَا الْعَتَاقَةُ نا سَعِيدٌ، قَالَ هُشَيْمٌ: وَهُوَ الْقَوْلُ
مظاہر امیر خان
حضرت حکم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ظہار کی کفارہ میں ام ولد اور معتقہ عن دبر کافی نہیں کیونکہ ان پر آزادی کا حکم پہلے ہی جاری ہو چکا ہے۔“ ہشیم نے کہا: ”یہی صحیح قول ہے۔“
حدیث نمبر: 3020
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: إِنْ قَرَبْتُكِ سَنَةً فَأَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، فَانْطَلَقْنَا إِلَى الشَّعْبِيِّ، فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْإِيلَاءُ فِي الظِّهَارِ، وَلَا الظِّهَارُ فِي الْإِيلَاءِ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے کہا: ”اگر میں تم سے ایک سال تک قربت کروں تو تم مجھ پر ماں کی طرح ہو۔“ تو فرمایا: ”ایلاء ظہار میں داخل نہیں ہوتا اور نہ ہی ظہار ایلاء میں۔“
حدیث نمبر: 3021
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جَرِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: " إِذَا ظَاهَرَ الرَّجُلُ مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ مَاتَ، أَوْ مَاتَتْ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ، قَالَ: يَتَوَارَثَانِ "
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر شوہر نے بیوی سے ظہار کیا اور پھر وہ یا بیوی مر گئی تو دونوں میں وراثت جاری ہو گی۔“
حدیث نمبر: 3022
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي رَجُلٍ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ غَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ قَالَ: «يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَعُودُ، وَعَلَيْهِ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس نے بیوی سے ظہار کیا پھر کفارہ سے پہلے اس سے قربت کی تو اللہ سے استغفار کرے، دوبارہ ایسا نہ کرے اور ایک ہی کفارہ دے۔“
حدیث نمبر: 3023
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: نا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَالْحَسَنِ، وَعَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: «لَيْسَ لِلْمُظَاهِرِ وَقْتٌ إِذَا كَفَّرَ فَهِيَ امْرَأَتُهُ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب، حسن اور ابراہیم رحمہم اللہ نے فرمایا: ”مظاہر کے لیے کوئی مقررہ وقت نہیں، جب کفارہ دے دے تو وہ اس کی بیوی ہے۔“