کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس کے پاس دو باندیاں ہوں جو آپس میں بہنیں ہوں، اور وہ دونوں سے ہمبستری کرے۔
حدیث نمبر: 2905
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ لَهُ أَمَتَانِ وَهُمَا أُخْتَانِ، فَوَطِئَ إِحْدَاهُمَا، وَأَرَادَ أَنْ يَطَأَ الْأُخْرَى، فَقَالَ: «لَيْسَ ذَاكَ لَهُ» . قِيلَ: فَإِنْ قَرِبَهَا؟ قَالَ: «لَا، حَتَّى تَخْرُجَ الَّتِي وَطِئَ مِنْ مِلْكِهِ» .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر کسی شخص کی دو لونڈیاں ہوں اور وہ بہنیں ہوں، اور اس نے ایک سے ہمبستری کی ہو، تو دوسری سے ہمبستری اس وقت تک جائز نہیں جب تک پہلی کو آزاد نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 2906
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعُبَيْدَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ اور ابراہیم رحمہ اللہ نے بھی یہی فتویٰ دیا۔
حدیث نمبر: 2907
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كَانَتْ لَهُ مَمْلُوكَتَانِ أُخْتَانِ، فَوَطِئَ إِحْدَاهُمَا، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَطَأَ الْأُخْرَى، فَأَخْرَجَهَا مِنْ مِلْكِهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق مروی ہے کہ ان کی دو لونڈیاں تھیں، جب ایک سے ہمبستری کی تو دوسری کو آزاد کر دیا۔
حدیث نمبر: 2908
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَطَأُ أَمَتَهُ، أَوْ أَمَةَ غَيْرِهِ، وَهِيَ أُخْتُ امْرَأَتِهِ مِنَ الرَّضَاعَةِ، قَالَ: «يَعْتَزِلُ امْرَأَتَهُ حَتَّى يَسْتَبْرِئَ رَحِمُ الْأَمَةِ» .
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی نے اپنی لونڈی یا کسی اور کی لونڈی سے ہمبستری کی اور وہ بیوی کی رضاعی بہن ہو تو وہ اپنی بیوی سے الگ رہے جب تک لونڈی کا رحم پاک نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 2909
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، مِثْلَهُ
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے بھی یہی فتویٰ دیا۔
حدیث نمبر: 2910
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أنا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ - أَوْ قَالَ: فِي الْمَجْلِسِ - فَدَعَا رَجُلًا، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ لَا أَفْهَمُهُ، فَلَمَّا قَامَ رَفَعَ صَوْتَهُ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُسْمِعَنِي، فَقَالَ: لَوْ شِئْتَ لَاعْتَرَفْتَ، أَلَا تَسْمَعُوا إِلَى قَوْلِهِ: إِنِّي حَرَّمْتُ إِحْدَاهُمَا، إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حَتَّى أَغْضَبُوهُ، فَقَالَ: «إِنَّ جَمَلَكَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُكَ» . فَسَأَلْتُ بَعْضَهُمْ فَزَعَمُوا أَنَّ عِنْدَهُ أُخْتَيْنِ مَمْلُوكَتَيْنِ يَطَؤُهُمَا "
مظاہر امیر خان
محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے نقل کیا: ایک شخص نے کہا کہ میں نے اپنی ایک لونڈی کو حرام کر دیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تیرا اونٹ بھی تیرے ہاتھ کی مملوکہ ہے۔“
حدیث نمبر: 2911
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جَمْعٍ بَيْنَ الْأُمِّ وَابْنَتِهَا، قَالَ: " مَا أُحِبُّ أَنْ أُجِيزَهُمَا جَمِيعًا. قَالَ أَبِي: فَرَدَدْتُ أَنَّ عُمَرَ كَانَ أَشَدَّ فِي ذَلِكَ مِمَّا هُوَ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا ماں اور بیٹی کو اکٹھے رکھا جا سکتا ہے؟ فرمایا: ”مجھے یہ جائز قرار دینا پسند نہیں۔“
حدیث نمبر: 2912
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ، أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ جَارِيَتَانِ امْرَأَةٌ وَابْنَتُهَا، فَوَلَدَتَا مِنْهُ جَمِيعًا، فَسَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: آيَتَانِ: إِحْدَاهُمَا تُحَرِّمُ عَلَيْكَ، وَالْأُخْرَى تُحِلُّ لَكَ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ، وَلَسْتُ أَفْعَلُهُ أَنَا وَلَا أَهْلِي "
مظاہر امیر خان
ایک شخص کے پاس لونڈی اور اس کی بیٹی تھی اور دونوں سے اس کی اولاد ہوئی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو فرمایا: ”ایک آیت حرام کرتی ہے اور ایک آیت حلال، لیکن میں اور میرے اہل ایسا نہیں کرتے۔“
حدیث نمبر: 2913
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ذَكَرُوا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا أُخْرَى، إِنَّمَا يُحَرِّمُ عَلَيَّ قَرَابَتِي مِنْهُنَّ، وَلَا تُحَرِّمُ عَلَيَّ قَرَابَةُ بَعْضِهِنَّ مِنْ بَعْضٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ایک آیت حلال کرتی ہے اور ایک آیت حرام، لیکن قرابت حرام کرتی ہے، ان کی آپس کی قرابت حرام نہیں کرتی۔“
حدیث نمبر: 2914
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَ لَهَا: إِنَّ قِنَّةً قَدْ كَبِرَتْ - أَمَةٌ لَهُ كَانَ يَطَؤُهَا - وَلَهَا ابْنَةٌ، أَيَحِلُّ لِي أَنْ أَغْشَاهَا؟ قَالَتْ: «أَنْهَاكَ عَنْهَا وَمَنْ أَطَاعَنِي» قَالَ سَعِيدٌ: وَسَأَلْتُ سُفْيَانَ عَنْ حَدِيثِ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَمَّارٍ، قَالَ: «يَحْرُمَ مِنَ الْإِمَاءِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْحَرَائِرِ إِلَّا الْعَدَدَ» . فَقَالَ مُطَرِّفٌ عَنْ أَبِي فُلَانٍ. فَقُلْتُ لَهُ: عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنْ عَمَّارٍ؟ . قَالَ: نَعَمْ
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا: ایک غلامنی بڑی ہو گئی ہے، اس کی بیٹی ہے، کیا اس کے ساتھ تعلق جائز ہے؟ فرمایا: ”میں اور جو میری بات مانے، اسے منع کرتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 2915
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «يَحْرُمُ مِنَ الْإِمَاءِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْحَرَائِرِ إِلَّا الْعَدَدَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”باندیوں کے بارے میں بھی وہی حرمت ہے جو آزاد عورتوں میں ہے سوائے عدد کے۔“
حدیث نمبر: 2916
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، سُئِلَ عَنِ الْأُخْتَيْنِ مِمَّا مَلَكَتِ الْيَمِينُ، فَقَالَ: «لَا أُحِلُّهُمَا وَلَا أُحَرِّمُهُمَا، أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا أُخْرَى» . فَبَلَغَ ابْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: «لَا تَجْمَعْهُمَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے باندیوں میں دو بہنوں کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: ”میں نہ ان کو حلال کہتا ہوں نہ حرام، ایک آیت نے حلال کیا دوسری نے حرام کیا۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو کی خبر پہنچی تو فرمایا: ”انہیں اکٹھا نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 2917
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا الْأَحْوَصُ (1)، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي عَاصِمٍ (2)، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَيَقَعُ الرَّجُلُ عَلَى الْجَارِيَةِ وَابْنَتِهَا تَكُونَانِ لَهُ مَمْلُوكَتَيْنِ ؟ قَالَ: « حَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ وَأَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ أُخْرَى، وَلَمْ أَكُنْ لِأَفْعَلَهُ » .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ اگر کسی کے پاس ایک لونڈی اور اس کی بیٹی ہو تو کیا دونوں سے ہمبستری جائز ہے؟ فرمایا: ”ایک آیت نے حرام کیا، ایک آیت نے حلال کیا، لیکن میں ایسا نہیں کرتا۔“