کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس کی چار بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے ایک کو طلاق دے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ رَجُلٍ لَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَطَلَّقَ وَاحِدَةً، قَالَ: «لَا يَنْكِحُ حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّةُ الْمُطَلَّقَةِ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس چار بیویاں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے، تو جب تک طلاق یافتہ کی عدت پوری نہ ہو، نئی شادی نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ: أنا خُصَيْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: " لَا يَتَزَوَّجُ حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّةُ الَّتِي طَلَّقَ
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب تک طلاق یافتہ عورت کی عدت پوری نہ ہو، نیا نکاح نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «لَا يَتَزَوَّجُ الْخَامِسَةَ حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّةُ الَّتِي طَلَّقَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پانچویں عورت سے نکاح نہ کرے جب تک پہلی طلاق یافتہ کی عدت پوری نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي رَجُلٍ لَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَطَلَّقَ إِحْدَاهُنَّ، قَالَ: «لَا يَتَزَوَّجُ رَابِعَةً حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّةُ الَّتِي طَلَّقَ، فَإِنْ كَانَ لَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَمَاتَتْ إِحْدَاهُنَّ، تَزَوَّجَ مَكَانَهَا إِنْ شَاءَ، فَلَيْسَ الْمَوْتُ مِثْلَ الطَّلَاقِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی کے پاس چار بیویاں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے، تو نئی بیوی نہ لے جب تک عدت پوری نہ ہو۔ اگر بیوی مر جائے تو فوراً نکاح کر سکتا ہے کیونکہ موت طلاق جیسی نہیں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: «إِنْ كَانَ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَلْيَنْكِحْ»
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر طلاق تین بار دے دی ہو تو چاہے تو نکاح کر لے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُخْتَهَا، فَإِنْ كَانَ بِامْرَأَتِهِ حَبَلٌ لَمْ يَتَزَوَّجْ أُخْتَهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ بِهَا حَبَلٌ تَزَوَّجَ أُخْتَهَا إِنْ شَاءَ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی نے بیوی کو طلاق دی اور اس میں حمل ہو تو اس کی بہن سے نکاح عدت ختم ہونے کے بعد ہو گا، اور اگر حمل نہ ہو تو فوراً نکاح کر سکتا ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «لَا يَتَزَوَّجُهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّةُ أُخْتِهَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب تک بہن کی عدت نہ پوری ہو نئی بہن سے نکاح نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ: «إِذَا طَلَّقَهَا طَلَاقًا بَائِنًا فَلْيَتَزَوَّجْ أُخْتَهَا إِنْ شَاءَ فِي عِدَّتِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر طلاق بائنہ ہو تو عدت کے دوران بہن سے نکاح کر سکتا ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: قَدِمَ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْمَدِينَةَ وَهُوَ يُرِيدُ الْحَجَّ، فَأَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِهَا، وَعِنْدَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ، فَسَأَلَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: طَلِّقْ إِحْدَى نِسَائِكَ طَلَاقًا بَائِنًا، ثُمَّ تَزَوَّجْ. فَفَعَلَ ذَلِكَ "
مظاہر امیر خان
جب ولید بن عبدالملک حج کے ارادے سے مدینہ آیا اور اس کے پاس چار بیویاں تھیں تو عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے مشورہ کیا، انہوں نے کہا: ”ایک کو بائنہ طلاق دے پھر نکاح کر لے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ لِلْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ، فَطَلَّقَ وَاحِدَةً الْبَتَّةَ، وَتَزَوَّجَ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، فَعَابَ ذَلِكَ عَلَيْهِ كَثِيرٌ مِنَ الْفُقَهَاءِ، وَلَيْسَ كُلُّهُمْ عَابَهُ ".
مظاہر امیر خان
بعض فقہاء نے ولید بن عبدالملک پر نکاح سے پہلے عدت نہ پوری کرنے پر اعتراض کیا، لیکن سب نے اعتراض نہ کیا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: إِذَا عَابَهُ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ فَأَيُّ شَيْءٍ بَقِيَ؟
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے اعتراض کیا تو پھر کس چیز کی گنجائش رہ گئی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجَهَا غَابَ عَنْهَا فَأَطَالَ الْغَيْبَةَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرَبَّصَ أَرْبَعَ سِنِينَ، فَفَعَلَتْ، ثُمَّ أَتَتْهُ فَأَمَرَ وَلِيَّهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا، فَطَلَّقَهَا، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ، فَفَعَلَتْ، ثُمَّ أَتَتْهُ فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَفَعَلَتْ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَزَوَّجَ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت آئی جس کا شوہر غائب تھا، آپ نے چار سال انتظار کا حکم دیا، پھر ولی کو طلاق کا حکم دیا، پھر تین حیض عدت، پھر چار ماہ دس دن عدت، پھر نکاح کی اجازت دی۔