حدیث نمبر: 2724
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَرَدَّ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى طَلَّقَهَا وَهِيَ طَاهِرٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رد کر دیا، یہاں تک کہ اس نے پاکی کی حالت میں طلاق دی۔
حدیث نمبر: 2725
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «لَا تَعْتَدُّ تِلْكَ الْحَيْضَةَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: اس حیض کو عدت میں شمار نہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 2726
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «إِنْ طَلَّقَهَا طَلْقَةً فَهُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا لَمْ تَعْتَدَّ بِهَا، وَإِنْ طَلَّقَهَا طَلَاقًا بَائِنًا اعْتَدَّتْ بِهَا»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر رجعی طلاق دی ہو تو رجوع کا حق ہے اور عدت نہیں، اگر بائن طلاق دی ہے تو عدت شمار کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 2727
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ عُمَرُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا يَنْتَظِرُ بِهَا الطُّهْرَ» قَالَ: فَرَاجَعَهَا ابْنُ عُمَرَ لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَاجَةٌ فَقُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: اعْتَدَدْتَ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟ قَالَ: فَمَهْ أَرَأَيْتَ إِنْ كُنْتُ عَجَزْتُ وَاسْتَحْمَقْتُ.
مظاہر امیر خان
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، تو آپ نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ رجوع کرے اور جب پاک ہو جائے تو طلاق دے۔“ ابن عمر نے رجوع کر لیا، میں نے پوچھا: کیا اس طلاق کو شمار کیا؟ کہا: اگر میں نے غلطی کی تو کیا؟
حدیث نمبر: 2728
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، بِنَحْو مِمَّا ذَكَرَ خَالِدٌ إِلَّا أَنَّ أَحَدَهُمَا، زَعَمَ أَنَّ الَّذِي سَأَلَهُ: اعْتَدَدْتَ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ هُوَ يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ
مظاہر امیر خان
یہی روایت یونس بن جبیر رحمہ اللہ کے حوالے سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2729
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا لَيْثٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى شُرَيْحٍ فَقَالَ: إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: «أَخَلَطْتَ حَلَالًا بِحَرَامٍ وَخَبِيثًا بِطَيِّبٍ؟ أَمْهِلْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَأْتَنِفَ حَيْضًا ثُمَّ لَا تَحِلُّ يَعْنِي لَكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے شریح کے سامنے آ کر کہا کہ اس نے بیوی کو حیض کی حالت میں تین طلاقیں دے دیں، شریح نے کہا: تم نے حلال کو حرام کے ساتھ اور پاک کو ناپاک سے ملا دیا؟ اب اسے پاک ہونے دو پھر حیض آئے، پھر وہ تم پر حلال نہیں جب تک کہ دوسرا شوہر نہ کرے۔
حدیث نمبر: 2730
حَدَّثَنَا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، نا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ ذَلِكَ بِشَيْءٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، آپ نے فرمایا: ”یہ کوئی طلاق نہیں۔“
حدیث نمبر: 2731
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ طَاهِرٌ اعْتَدَّتْ ثَلَاثَ حِيَضٍ سِوَى الْحَيْضَةِ الَّتِي طَهُرَتْ مِنْهَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر عورت کو پاکی کی حالت میں طلاق دی جائے تو وہ تین حیض عدت گزارے گی، اس حیض کو شمار نہیں کرے گی جس سے پاک ہوئی۔