حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کے درمیان جدائی کر دی اور بچے کو ماں کا قرار دیا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، نا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: " شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَنَا رَاجَعْتُهَا "
مظاہر امیر خان
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لعان کرنے والے جوڑے کے درمیان جدائی کرتے ہوئے دیکھا، اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی، مرد نے کہا: اگر میں اسے رجوع کروں تو جھوٹا ہوں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ ابْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: «حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، وَأَحَدُكُمَا كَاذِبٌ، لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا»، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي، فَقَالَ: «لَا مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے جوڑے سے فرمایا: ”تم دونوں کا معاملہ اللہ پر ہے، تم میں سے ایک جھوٹا ہے، اس پر تیرا کوئی حق نہیں۔“ اس نے کہا: میرا مال؟ فرمایا: ”اگر سچا ہے تو یہ مال اس وجہ سے ہے کہ تم نے اس سے فائدہ اٹھایا، اور اگر جھوٹا ہے تو یہ تمہارے لیے زیادہ دور ہے۔“
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: لَمَّا تَلَاعَنَا لَزِمَهَا، فَقَالَ لَهَا: مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَهُوَ أَبْعَدُ لَكَ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، وَحِسَابَكُمَا عَلَى اللَّهِ، وَلَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب لعان مکمل ہوا تو شوہر نے بیوی سے اپنا مال مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر سچے ہو تو وہ مال اس وجہ سے تھا کہ تم نے اس سے فائدہ اٹھایا، اور اگر جھوٹے ہو تو تم اس سے بہت دور ہو، اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔“
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ: فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيِّ بَنِي الْعَجْلَانِ وَقَالَ: «اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ»، فَقَالَ ذَلِكَ: ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کے متعلق پوچھا، فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عجلان کے دو بھائیوں میں لعان کروایا اور فرمایا: ”اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، کیا تم میں سے کوئی توبہ کرتا ہے؟“ یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمائی۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى أَحَدَ بَنِي الْعَجْلَانِ الصَّدَاقَ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عجلان کے ایک شخص کو بیوی کا مہر واپس دلایا۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «الْمُلَاعَنَةُ أَعْظَمُ مِنَ الرَّجْمِ»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لعان رجم سے زیادہ سخت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: «الْمُتَلَاعِنَانِ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا وَلَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لعان کرنے والے مرد و عورت کے درمیان ہمیشہ کے لیے جدائی کر دی جائے گی اور وہ کبھی دوبارہ جمع نہیں ہوں گے۔
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «يُجْلَدُ قَاذِفٌ ابْنِ الْمُتَلَاعِنَةِ، وَلَا تَنْكِحُ الْمُلَاعَنَةُ الْمَلَاعِنَ أَبَدًا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: لعان کرنے والے کے بچے کو اگر کوئی شخص الزام دے تو اسے کوڑے مارے جائیں، اور لعان کرنے والی عورت، لعان کرنے والے مرد سے کبھی نکاح نہیں کر سکتی۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عنِ أَبِيهِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ قَالَ زَوْجُ الْمَرْأَةِ: وَاللَّهِ مَا قَرَبْتُهَا مُنْذُ عَفَرْنَا، وَالْعَفْرُ أَنْ تَسْقِيَ النَّخْلَ بَعْدَمَا تَتْرُكُ مِنَ السَّقْيِ شَهْرَيْنِ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ بَيِّنْ»، فَكَانَ زَوْجُ الْمَرْأَةِ أَصْهَبَ الشَّعْرِ، حَمْشَ السَّاقَيْنِ وَالذِّرَاعَيْنِ فَجَاءَتْ بِغُلَامٍ أَسْوَدَ جَعْدٍ قَطَطٍ عَبْلِ الذِّرَاعَيْنِ فَقَالَ شَدَّادُ بْنُ الْهَادِ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَهِيَ الْمَرْأَةُ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ رَاجِمَهَا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُهَا» ؟ قَالَ: لَا، تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ قَدِ اعْتَلَنَتْ فِي الْإِسْلَامِ فَنَادَاهُ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ: كَيْفَ صِفَةُ الْغُلَامِ؟ فَقَالَ: جَاءَتْ بِهِ عَلَى الْوَصْفِ السَّيِّئِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرد اور عورت کے درمیان لعان کروایا، مرد نے کہا: اللہ کی قسم میں نے اسے چھوا تک نہیں جب سے ہم نے کھجوروں کو پانی دینا چھوڑا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ظاہر کر دے۔“ پھر عورت نے ایسا بچہ جنا جس کی صفات مرد سے بالکل مختلف تھیں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: ذَكَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ: وَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا امْرَأَةً بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا» ؟ قَالَ: لَا قَالَ: تِلْكَ الْمَرْأَةُ أَعْلَنَتْ
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ وہ عورت نہیں تھی جس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر بغیر گواہی کے کسی عورت کو رجم کرتا تو اسے کرتا، بلکہ یہ دوسری عورت تھی جو اسلام میں بیمار ہو گئی تھی۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُصَانٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «وَلَدُ الْمُلَاعَنَةِ يَلْحَقُ بِأُمِّهِ، وَإِنْ رَمَاهُ إِنْسَانٌ أَوْ رَمَى أُمَّهُ جُلِدَ»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: لعان کے بعد بچہ ماں سے منسوب ہو گا، اور اگر کوئی اس بچے یا اس کی ماں پر تہمت لگائے گا تو اسے کوڑے مارے جائیں گے۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «وَلَدُ الْمُلَاعَنَةِ يَلْحَقُ بِأُمِّهِ، وَيَعْقِلُونَ عَنْهُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: لعان کے بعد بچہ ماں سے منسوب ہو گا اور اس کی طرف سے دیت ادا کی جائے گی۔
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «مَنْ قَذَفَ وَلَدَ الْمُلَاعَنَةِ بِأُمِّهِ جُلِدَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: جو کوئی لعان شدہ بچے کو اس کی ماں کی طرف نسبت دے کر تہمت لگائے اسے کوڑے مارے جائیں۔