حدیث نمبر: 2584
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ - يَعْنِي الرَّحَبِيَّ - عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنَ امْرَأَةٍ تَسْأَلُ زَوْجَهَا الطَّلَاقَ مِنْ غَيْرِ أَمْرٍ يَعْتَدِي بِهِ فَتُرِيحُ رِيحَ الْجَنَّةِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت بغیر کسی ظاہری ظلم کے شوہر سے طلاق مانگے، وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گی۔
حدیث نمبر: 2585
حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ، قَالَ: نا عَلِيُّ بْنُ الْأَحْوَلِ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى الْحَسَنِ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنَّ زَوْجَهَا صَوَّامٌ قَوَّامٌ، وَإِنَّهَا لَمْ تُحِبَّهُ، أَفَتَخْتَلِعُ مِنْهُ؟ قَالَ: لَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُنْتَزِعَاتُ وَالْمُخْتَلِعَاتُ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ» . قَالَتْ: أَعِدْ عَلَيَّ , فَأَعَادَ عَلَيْهَا الْحَدِيثَ، قَالَتْ: وَاللَّهِ لَأَصْبِرَنَّ. فَلَمَّا انْصَرَفَتْ قَالَ الْحَسَنُ: مَا كُنْتُ أَرَى بَقِيَتِ امْرَأَةٌ تُصَبِّرُ نَفْسَهَا عَلَى مَكْرُوهٍ لِمَا بَلَغَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے ان سے کہا: میرے شوہر بہت عبادت گزار ہیں لیکن میں ان سے محبت نہیں کرتی، کیا خلع لے لوں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منتزع اور مختلع عورتیں منافق ہیں۔ عورت نے دوبارہ پوچھا، انہوں نے پھر یہی حدیث دہرائی، تو وہ کہنے لگی: اللہ کی قسم! میں صبر کروں گی۔ حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نہ سمجھتا تھا کہ کوئی عورت ناپسندیدگی کے باوجود اتنا صبر کرے گی جب تک کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات نہ پہنچ جائے۔
حدیث نمبر: 2586
حَدَّثَنَا حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُنْتَزِعَاتِ وَالْمُخْتَلِعَاتِ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منتزع اور مختلع عورتیں منافق ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 2587
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنِ الْهَيْثَمِ بِنِ مَالِكٍ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو زَوْجَهَا، فَقَالَ: «مَا تُرِيدِينَ؟ أَتُرِيدِينَ أَنْ تَتَزَوَّجِي شَابًّا ذَا جُمَّةٍ فَيْنَانَةٍ، عَلَى كُلِّ خُصْلَةٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ، أَوْ تَخْتَلِعِي؛ فَتَكُونِي عِنْدَ اللَّهِ أَنْتَنَ مِنْ جِيفَةِ حِمَارٍ» ؟
مظاہر امیر خان
سیدنا ہيثم بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور شوہر کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم چاہتی ہو کہ کسی نوجوان، بالوں والے، ہر ہر بال پر شیطان سوار مرد سے نکاح کرو یا خلع لے کر اللہ کے نزدیک مردار گدھے سے بھی زیادہ گندی ہو جاؤ؟
وضاحت:
قال إبن حجر، ابو بکر بن ابی مریم ضعیف شدید، هذا مرسل، الإصابة في تمييز الصحابة: (11 / 301)
حدیث نمبر: 2588
حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، «أَنَّ امْرَأَةً، اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا عَلَى مَا أَخَذَتْ مِنْهُ وَدَخَلَتْ فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِهِمْ، فَأَجَازَ ذَلِكَ شُرَيْحٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ نے اس عورت کا خلع جائز قرار دیا جس نے شوہر سے کچھ مال لے کر خلع کیا اور معاملہ مکمل ہو چکا تھا۔
حدیث نمبر: 2589
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَوِ الْحَسَنِ - شَكَّ حَمَّادٌ - أَنَّ بِنْتًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو زَوْجَهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْجِعِي، فَإِنِّي أَكْرَهُ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَجُرَّ ذَيْلَهَا تَشْكُو زَوْجَهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ یا حسن رحمہ اللہ (روایت میں شک ہے) سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے شوہر کی شکایت لے کر آئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس جاؤ، میں عورت کے لیے ناپسند کرتا ہوں کہ وہ اپنی چادر گھسیٹ کر شوہر کی شکایت کرے۔
حدیث نمبر: 2590
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، «أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى الْخُلْعَ دُونَ السُّلْطَانِ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ فرماتے تھے: سلطان کی اجازت کے بغیر خلع جائز نہیں۔