کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اُس مرد کا بیان جس نے غیبت میں بیوی سے رجوع کیا اور بیوی کو اس کا علم نہ تھا۔
حدیث نمبر: 2491
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ أَبَا كَنَفٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، ثُمَّ سَافَرَ فَرَاجَعَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ لَا تَعْلَمُ، فَاعْتَدَّتْ، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا تَزَوَّجَتْ، فَقَدِمَ عَلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " مِنْ قِبَلِكَ جَاءَ التَّفْرِيطُ. فَكَتَبَ لَهُ: إِنْ كَانَ زَوْجُهَا لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا. فَقَدِمَ وَقَدْ تَهَيَّأَتْ وَامْتَشَطَتْ لِيَدْخُلَ عَلَيْهَا زَوْجُهَا، وَعِنْدَهَا النِّسَاءُ، فَخَلَا بِهَا، فَنَاشَدَهَا اللَّهَ، أَقَرَبَكِ؟ قَالَتْ: لَا. فَأَغْلَقَ الْبَابَ دُونَ النِّسَاءِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَرَأَ عَلَيْهِمْ كِتَابَ عُمَرَ، فَأُقِرَّ مَعَ امْرَأَتِهِ ".
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر اس سے رجوع کیا لیکن اسے اطلاع نہ دی، عورت نے عدت گزار کر نکاح کر لیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: غلطی تمہاری تھی۔
حدیث نمبر: 2492
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے بھی اسی واقعہ کی روایت ہے۔
حدیث نمبر: 2493
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ أَبَا كَنَفٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَعْلَمَهَا الطَّلَاقَ، ثُمَّ رَاجَعَهَا وَلَمْ يُعْلِمْهَا بِالرَّجْعَةِ، فَقَدِمَ أَبُو كَنَفٍ، فَإِذَا هِيَ قَدْ تَزَوَّجَتْ، فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: " النَّجَاءَ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَهِيَ امْرَأَتُكَ، وَإِنْ جِئْتَ بَعْدَ مَا يَدْخُلُ بِهَا فَلَا سَبِيلَ عَلَيْهَا. فَجَاءَ فَوَافَقَهَا لَيْلَةَ عُرْسِهَا، فَقَالَ: اسْتَأْذِنُوا لِي عَلَيْهَا؛ فَإِنَّ لِي إِلَيْهَا حَاجَةً. فَفَعَلُوا، فَأَخَذَ بِرِجْلِهَا "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر مرد طلاق کے بعد رجوع کرے اور بیوی کو خبر نہ دے، تو اگر دوسرا شوہر دخول سے پہلے ہے تو پہلا شوہر زیادہ حق دار ہے، اگر دخول ہو چکا تو اب پہلا شوہر حق دار نہیں۔
حدیث نمبر: 2494
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، وَمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: «إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَأَعْلَمَهَا طَلَاقَهَا، ثُمَّ رَاجَعَهَا وَكَتَمَهَا الرَّجْعَةَ حَتَّى انْقَضَتِ الْعِدَّةُ، فَلَا سَبِيلَ لَهُ عَلَيْهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اگر شوہر طلاق دے کر بیوی کو اطلاع دے، پھر رجوع کرے اور اطلاع نہ دے یہاں تک کہ عدت گزر جائے تو اب اس پر کوئی حق نہیں۔
حدیث نمبر: 2495
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا طَلَّقَ الرُّجُلُ امْرَأَتَهُ، ثُمَّ رَاجَعَهَا فِي غَيْبٍ أَوْ مَشْهَدٍ فَلَمْ يُعْلِمْهَا الرَّجْعَةَ حَتَّى تَنْقَضِيَ الْعِدَّةُ، فَلَا سَبِيلَ لَهُ عَلَيْهَا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اگر شوہر رجوع کرے لیکن بیوی کو خبر نہ دے اور عدت گزر جائے تو اب اس پر کوئی حق نہیں۔
حدیث نمبر: 2496
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَتَّابٌ، قَالَ: أنا خُصَيْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ فِي الرَّجُلِ الْغَائِبِ يَكْتُبُ إِلَى امْرَأَتِهِ بِالطَّلَاقِ، ثُمَّ يَكْتُبُ إِلَيْهَا بِالرَّجْعَةِ، فَلَا يَأْتِيهَا حَتَّى تَتَزَوَّجَ، قَالَ: «إِذَا أَدْرَكَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا الْآخَرُ فَهِيَ امْرَأَتُهُ، وَإِنْ لَمْ يُدْرِكْهَا حَتَّى يَدْخُلَ بِهَا فَقَدْ بَانَتْ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اگر شوہر خط کے ذریعے طلاق دے، پھر رجوع کرے لیکن رجوع کا خط بیوی کو نہ پہنچے اور وہ دوسرا نکاح کر لے، اگر دخول سے پہلے شوہر پہنچ جائے تو بیوی اسی کی ہوگی، ورنہ نہیں۔
حدیث نمبر: 2497
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَشُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا رَاجَعَهَا فِي الْعِدَّةِ فَهِيَ امْرَأَتُهُ، تَزَوَّجَتْ أَوْ لَمْ تَتَزَوَّجْ، دَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا، عَلِمَتْ أَوْ لَمْ تَعْلَمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اگر شوہر عدت میں رجوع کر لے تو عورت اسی کی ہوگی چاہے نکاح کر لے یا نہ کرے، دخول ہو یا نہ ہو، جانتی ہو یا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 2498
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً فَأَعْلَمَهَا بِالطَّلَاقِ، ثُمَّ سَافَرَ وَكَتَبَ إِلَيْهَا بِالرَّجْعَةِ فَلَمْ يَبْلُغْهَا الْكِتَابُ، حَتَّى انْقَضَتِ الْعِدَّةُ، فَأَتَى شُرَيْحًا فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: «إِنْ كَانَتْ تَزَوَّجَتْ فَلَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا، وَإِنْ كَانَتْ لَمْ تَتَزَوَّجْ فَارْفَعْهَا إِلَى السُّلْطَانِ، فَيَكُونُونَ هُمُ الَّذِينَ يَرُدُّونَهَا عَلَيْكَ أَوْ يَمْنَعُونَكَهَا، وَأَعْلِمُوهُنَّ الرَّجْعَةَ كَمَا تُعْلِمُونَهُنَّ الطَّلَاقَ»
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور اطلاع دی، پھر سفر کر گیا اور رجوع کا خط لکھا، جو عدت ختم ہونے کے بعد پہنچا، تو شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر وہ نکاح کر چکی ہے تو تمہارا کوئی حق نہیں، اگر نکاح نہیں کیا تو سلطان کے پاس لے جاؤ، وہی فیصلہ کریں گے، اور رجوع کی اطلاع دینا ایسے ہی ضروری ہے جیسے طلاق کی اطلاع دینا۔
حدیث نمبر: 2499
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَمُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَأَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، أَنَّهُمْ قَالُوا فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَاحِدَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ، ثُمَّ غَشِيَهَا فِي الْعِدَّةِ: «إِنَّهَا مُرَاجَعَةٌ، وَيُشْهِدُ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری، ابراہیم نخعی، اور شعبی رحمہم اللہ نے فرمایا: اگر کسی نے بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں اور عدت میں اس سے ہمبستری کی تو رجوع ہو گیا، اور گواہی دینا ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 2500
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، فَقَالَ: إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يُشْهِدْ، وَرَاجَعَ وَلَمْ يُشْهِدْ، فَقَالَ لَهُ عِمْرَانُ: «طَلَّقْتَ لِغَيْرِ عِدَّةٍ، وَرَاجَعْتَ فِي غَيْرِ سُنَّةٍ، أَشْهِدْ عَلَى مَا صَنَعْتَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بغیر گواہ کے طلاق دی اور رجوع کیا، تو سیدنا عمران نے فرمایا: طلاق سنت کے مطابق نہیں دی، رجوع بھی درست طریقے پر نہ ہوا، اب گواہی دے دو۔
حدیث نمبر: 2501
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عُبَيْدَةُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ رَوَاحٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ سِرًّا وَرَاجَعَ سِرًّا، فَقَالَ: «طَلَّقْتَ فِي غَيْرِ عِدَّةٍ، وَرَاجَعْتَ عَمًى، أَشْهِدْ عَلَى مَا صَنَعْتَ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کسی نے چپکے سے طلاق دی اور رجوع کیا تو یہ اندھیرے میں رجوع ہے، گواہی لازم ہے۔
حدیث نمبر: 2502
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «إِذَا طَلَّقَ وَلَمْ يُشْهِدْ، وَرَاجَعَ وَلَمْ يُشْهِدْ، فَلْيُشْهِدْ عَلَى مَا صَنَعَ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص طلاق اور رجوع کرے اور گواہ نہ بنائے، اب گواہی دے۔
حدیث نمبر: 2503
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «رُدُّوا الْجَهَالَاتِ إِلَى السُّنَّةِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جہالتوں کو سنت کی طرف لوٹاؤ۔
حدیث نمبر: 2504
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: " خَالَفْتُ رَجُلًا مِنَ الْقُرَّاءِ الْأَوَّلِينَ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ فَيَكْتُمُهَا رَجْعَتَهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا، فَسَأَلْتُ شُرَيْحًا، فَقَالَ: لَهُ فَسْوَةُ الضَّبُعِ "
مظاہر امیر خان
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے ایک قاری سے اختلاف کیا، پھر حضرت شریح رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اس کا معاملہ کچھ بھی نہیں۔