حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَمَةٍ لِبَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ أُعْتِقَتْ وَلَهَا زَوْجٌ، فَقَالَتْ لَهَا حَفْصَةُ: «إِنِّي مُخْبِرَتُكِ وَمَا أُحِبُّ أَنْ تَفْعَلِيهِ، لَكِ الْخِيَارُ مَا لَمْ يَمَسَّكِ زَوْجُكِ، فَإِذَا مَسَّكِ فَلَا خِيَارَ لَكِ»، قَالَتْ: فَاشْهَدِي أَنِّي قَدْ فَارَقْتُهُ ثُمَّ فَارَقْتُهُ
مظاہر امیر خان
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بنی عدی کی ایک لونڈی کو فرمایا: تیرے پاس اختیار ہے جب تک شوہر تجھ سے صحبت نہ کرے، پس وہ لونڈی جدا ہو گئی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ «أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْأَمَةِ إِذَا أُعْتِقَتْ وَلَهَا زَوْجٌ حُرٌّ فَلَا خِيَارَ لَهَا، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا فَلَهَا الْخِيَارُ»
مظاہر امیر خان
اگر لونڈی آزاد ہو جائے اور شوہر آزاد ہو تو کوئی اختیار نہیں، اگر شوہر غلام ہو تو اختیار ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، قَالَ: نا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «لِلْأَمَةِ الْخِيَارُ إِذَا أُعْتِقَتْ، وَإِنْ كَانَ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ»
مظاہر امیر خان
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لونڈی کو آزادی کے بعد اختیار حاصل ہے چاہے اس کا شوہر قریش کا ہو۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَهَا الْخِيَارُ عَبْدًا كَانَ زَوْجُهَا أَوْ حُرًّا» . قَالَ هُشَيْمٌ: وَهُوَ الْقَوْلُ
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: چاہے شوہر غلام ہو یا آزاد، لونڈی کو آزادی کے بعد اختیار حاصل ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شُبْرُمَةَ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: «لَهَا الْخِيَارُ حُرًّا كَانَ زَوْجُهَا أَوْ عَبْدًا»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لونڈی کو آزادی کے بعد اختیار ہے چاہے شوہر غلام ہو یا آزاد۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّهُ كَانَ لَا يَجْعَلُ لَهَا الْخِيَارَ عَلَى الْحُرِّ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: اگر شوہر آزاد ہو تو لونڈی کو اختیار نہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، وَنَافِعٍ، أَنَّهُمَا قَالَا: " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ "
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء اور نافع رحمہما اللہ نے فرمایا: سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر مغیث غلام تھا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا خُيِّرَتْ بَرِيرَةُ رَأَيْتُ زَوْجَهَا يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَكَلَّمَ لَهُ الْعَبَّاسُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْلُبَ إِلَيْهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «زَوْجُكِ وَأَبُو وَلَدِكِ»، قَالَتْ: أَتَأْمُرُنِي بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ»، قَالَتْ: فَإِنْ كُنْتَ شَافِعًا فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، قَالَ: فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ، وَكَانَ عَبْدًا لِآلِ الْمُغِيرَةِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: «أَلَا تَعْجَبُ مِنْ شِدَّةِ بُغْضِ بَرِيرَةَ لِزَوْجِهَا، وَمِنْ شِدَّةِ حُبِّ زَوْجِهَا لَهَا؟»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب سیدہ بریرہ کو اختیار دیا گیا تو میں نے مغیث کو مدینے کی گلیوں میں ان کے پیچھے روتے ہوئے دیکھا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ فِي زَوْجِ بَرِيرَةَ: يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ عَبْدُ بَنِي فُلَانٍ: «كَأَنِّي أَرَاهُ الْآنَ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَبْكِي»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ اللہ عنہما نے فرمایا: مجھے یوں لگتا ہے کہ ابھی مغیث مدینے کی گلیوں میں روتے ہوئے پیچھے پیچھے جا رہا ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ حُرًّا»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سیدہ بریرہ کا شوہر آزاد تھا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ حُرًّا، قَالَتْ: فَلَمَّا أُعْتِقَتْ خَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَأَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اشْتَرِيهَا ثُمَّ أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: بریرہ کے شوہر آزاد تھے، اور جب بریرہ آزاد ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا تو انہوں نے خود کو پسند کیا، اور بریرہ کے مالک چاہتے تھے کہ بریرہ کو بیچ کر ولاء کی شرط رکھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «خریدو اور آزاد کر دو، ولاء اسی کا حق ہے جو آزاد کرے۔»
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، قَالَ: لَا أَدْرِي مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ سَمِعْتُهُ أَوْ غَيْرِهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ يَتَصَدَّقُونَ عَلَى بَرِيرَةَ فَتُهْدِي إِلَيْنَا، فَنَأْكُلُ؟ قَالَ: «نَعَمْ إِنَّهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَكُمْ هَدِيَّةٌ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! لوگ بریرہ کو صدقہ دیتے ہیں اور وہ ہمیں ہدیہ دیتی ہے تو کیا ہم کھا سکتے ہیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، یہ اس پر صدقہ ہے اور تمہارے لیے ہدیہ ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ قَضِيَّاتٍ: جَعَلَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخِيَارَ عَلَى زَوْجِهَا، وَكَانَ مَوَالِيهَا بَاعُوهَا مِنْ عَائِشَةَ وَاشْتَرَطُوا أَنَّ الْوَلَاءَ لَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»، وَتُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِلَحْمٍ فَأَهْدَتْهُ إِلَى عَائِشَةَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ، فَقَالَتْ: إِنَّهُ تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ عَلَى بَرِيرَةَ صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بریرہ کے بارے میں تین فیصلے ہوئے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے شوہر پر اختیار دیا۔ اس کے آقاؤں نے ولاء کی شرط رکھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء اسی کا ہے جو آزاد کرے۔“ بریرہ پر صدقہ کیا گیا گوشت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہدیہ کر دیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس پر صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء اسی کا ہے جو آزاد کرے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الْأَمَةِ تَحْتَ الْحُرِّ أَوِ الْعَبْدِ فَتُعْتَقُ، فَقَالَ: «لَهَا الْخِيَارُ إِذَا أُعْتِقَتْ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر باندی آزاد ہو جائے جبکہ وہ کسی آزاد یا غلام کے نکاح میں ہو تو اسے اختیار حاصل ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ، قَالَ: نا نَافِعٌ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: «أَيُّمَا أَمَةٍ كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ فَأُعْتِقَتْ فَإَنَّ لَهَا الْخِيَارَ مَا لَمْ يَمَسَّهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: جو باندی غلام کے نکاح میں ہو اور آزاد ہو جائے تو اگر شوہر نے مباشرت نہ کی ہو تو اسے اختیار حاصل ہے۔