حدیث نمبر: 2411
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " كَانَ يُقَالُ: إِذَا قَالَ: اعْتَدِّي فَهُوَ تَطْلِيقَةٌ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر شوہر بیوی سے کہے: ”عدت گزارو“، تو یہ ایک طلاق ہے۔
حدیث نمبر: 2412
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُمَا قَالَا: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: اعْتَدِّي وَهُوَ يَنْوِي الطَّلَاقَ قَالَا: وَاحِدَةٌ، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، وَإِنْ لَمْ يَنْوِ طَلَاقًا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ "
مظاہر امیر خان
حسن بصری اور عبیدہ رحمہما اللہ نے فرمایا: اگر شوہر نیت طلاق کرے تو یہ ایک طلاق ہے، اور اگر نیت نہ ہو تو کچھ نہیں۔
حدیث نمبر: 2413
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو حُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ اعْتَدِّي، فَهِيَ وَاحِدَةٌ، وَإِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ وَاعْتَدِّي، فَهُمَا اثْنَتَانِ "
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر شوہر کہے: ”تو طلاق ہے، عدت گزارو”، تو یہ ایک طلاق ہے، اور اگر کہے: ”تو طلاق ہے اور عدت گزارو“، تو یہ دو طلاقیں ہیں۔
حدیث نمبر: 2414
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: " إِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ: اعْتَدِّي أَوْ عُدِّي أَجَلَكِ، فَإِنَّهَا تَطْلِيقَةٌ وَهُوَ أَمْلَكُ بِهَا "
مظاہر امیر خان
حضرت مکحول رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر شوہر کہے: ”عدت گزارو” یا ”اپنا وقت شمار کرو“ تو یہ ایک طلاق ہے اور شوہر کو رجوع کا حق ہے۔
حدیث نمبر: 2415
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ فُضَيْلٌ: عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ: اعْتَدِّي، فَهُوَ تَطْلِيقَةٌ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر شوہر کہے: ”عدت گزارو“ تو یہ ایک طلاق ہے۔
حدیث نمبر: 2416
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: اعْتَدِّي، قَالَ: «هِيَ تَطْلِيقَةٌ، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر شوہر کہے: ”عدت گزارو“، تو یہ ایک طلاق ہے اور شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے۔