کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی کو طلاق دے، پھر وہ تین حیض گزار لے اور شوہر اس سے طہارت سے پہلے رجوع کر لے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَحَاضَتْ ثَلَاثَ حِيَضٍ فَلَمَّا دَخَلَتْ لِتَغْتَسِلَ أَرَادَ الدُّخُولَ عَلَيْهَا فَمُنِعَ مِنْ ذَاكَ وَكَانَتْ ذَاتَ حَشَمٍ فَاخْتَصَمُوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَتْ: " رَأَيْتُ الطُّهْرَ وَوَضَعْتُ الثِّيَابَ وَقَرَّبْتُ الْمَاءَ، قَالَ: «هَلْ كُنْتِ اسْتَنْفَضْتِ؟» قَالَتْ: لَا، فَرَدَّهَا عَلَيْهِ ".
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک انصاری نے بیوی کو طلاق دی، وہ تین حیض گزار چکی، مگر غسل سے پہلے رجوع ممکن تھا، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تحقیق کے بعد رجوع کروا دیا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
یہی واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: «هُوَ أَحَقُّ بِهَا مَا لَمْ تَغْتَسِلْ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ» .
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب اور عبداللہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا: شوہر بیوی پر اس وقت تک حق رکھتا ہے جب تک وہ تیسرے حیض سے غسل نہ کر لے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِثْلَهُ.
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہی قول مروی ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، مِثْلَ ذَلِكَ.
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بھی یہی قول مروی ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حَجَّاجٌ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ، وَعُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَا مِثْلَ ذَلِكَ.
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوالدرداء اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم نے فرمایا: طلاق کے بعد رجوع کا حق غسل سے پہلے تک ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، مِثْلَهُ
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بھی یہی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلَاعِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَلِيًّا، وَابْنَ مَسْعُودٍ وَأَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ وَأَبَا الدَّرْدَاءِ وَعُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ قَالُوا: «هُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا مَا لَمْ تَغْتَسِلْ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان، علی، ابن مسعود، ابو موسیٰ اشعری، ابوالدرداء، اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم نے فرمایا: شوہر کو رجوع کا حق ہے جب تک بیوی تیسرے حیض سے غسل نہ کر لے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: «هُوَ أَحَقُّ بِهَا مَا كَانَتْ فِي الدَّمِ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: شوہر کا حق ہے جب تک بیوی خون حیض میں ہو۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «يُبِينُهَا مِنْ زَوْجِهَا إِذَا طَعَنَتْ فِي الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب تیسرے حیض میں داخل ہو جائے تو شوہر سے جدا ہو جاتی ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: «إِذَا طَعَنَتْ فِي الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَرِئَ مِنْهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تیسرے حیض میں داخل ہو تو بیوی شوہر سے علیحدہ ہو جاتی ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «إِذَا حَاضَتِ الْمُطَلَّقَةُ الثَّالِثَةَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ إِلَّا أَنَّهَا لَا تَزَوَّجُ حَتَّى تَطْهُرَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مطلقہ جب تیسرے حیض آ جائے تو شوہر سے جدا ہو جاتی ہے، مگر نکاح کرنے سے پہلے طہارت ضروری ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا دَخَلَتْ فِي الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَلَا رَجْعَةَ لَهُ عَلَيْهَا وَلَا مِيرَاثَ بَيْنَهُمَا» .
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیسرے حیض میں داخل ہونے کے بعد رجوع اور وراثت کا کوئی حق باقی نہیں رہتا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ زَيْدٌ
مظاہر امیر خان
حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ نے بھی یہی قول بیان فرمایا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: أنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عُمَرَ، وَابْنَ مَسْعُودٍ قَالَا: «هُوَ أَحَقُّ بِهَا مَا لَمْ تَغْتَسِلْ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم نے فرمایا: غسل سے پہلے تک رجوع ممکن ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " الْأَقْرَاءُ: الْأَطْهَارُ ".
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: «أقراء» سے مراد طہارتیں ہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَنْ أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوسری سند سے بھی یہی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «هُوَ أَحَقُّ بِهَا مَا لَمْ تَغْتَسِلْ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شوہر کو بیوی پر حق ہے جب تک وہ تیسرے حیض سے غسل نہ کرے۔