حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ عَنِ امْرَأَتِهِ، وَهُوَ غَائِبٌ، أَوْ طَلَّقَ وَهُوَ غَائِبٌ، فَإِنَّ الْعِدَّةَ تَقَعُ عَلَيْهَا مِنْ يَوْمِ يَمُوتُ أَوْ يُطَلِّقُهَا» .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر کسی کی بیوی اس کے غائب رہنے میں فوت ہو یا طلاق ہو تو عدت اس دن سے شروع ہوگی جس دن شوہر نے طلاق دی یا فوت ہوا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «تَعْتَدُّ مِنْ يَوْمِ مَاتَ أَوْ طَلَّقَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عورت عدت اسی دن سے گزارے گی جس دن شوہر فوت ہو یا طلاق دے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «تَعْتَدُّ مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عدت وفات کے دن سے شروع ہو گی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، وَمُجَاهِدًا، وَعَطَاءً، وَأَبَا قِلَابَةَ، وَمُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، وَعِكْرِمَةَ فَقَالُوا: «مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر، مجاہد، عطاء، ابا قلابہ، محمد بن سیرین، اور عکرمہ رحمہم اللہ نے فرمایا: عدت وفات کے دن سے شروع ہو گی۔