حدیث نمبر: 2360
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ فِي رَجُلٍ كَتَبَ بِطَلَاقِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ مَحَاهُ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ، قَالَ: «لَيْسَ بِشَيْءٍ إِلَّا أَنْ يُمْضِيَهُ أَوْ يَتَكَلَّمَ بِهِ» .
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کسی نے طلاق لکھ دی پھر بولنے سے پہلے مٹا دی تو کچھ نہیں ہوگا، جب تک اس پر عمل نہ کرے یا اسے زبان سے نہ کہے۔
حدیث نمبر: 2361
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
یہی قول حسن بصری رحمہ اللہ سے دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 2362
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا كَتَبَهُ فَقَدْ لَزِمَهُ تَكَلَّمَ بِهِ أَوْ لَمْ يَتَكَلَّمْ بِهِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کسی نے طلاق لکھی تو وہ لازم ہو گئی، چاہے زبان سے کہے یا نہ کہے۔
حدیث نمبر: 2363
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا خَطَّ الرَّجُلُ بِيَدِهِ الطَّلَاقَ فَهُوَ طَلَاقٌ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کسی نے اپنے ہاتھ سے طلاق لکھی تو وہ طلاق واقع ہو گئی۔
حدیث نمبر: 2364
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَالْحَكَمِ، قَالَ: «مَنْ خَطَّ بِيَدِهِ طَلَاقًا فَهُوَ كَمَا كَتَبَ»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی اور حکم رحمہما اللہ نے فرمایا: جس نے طلاق لکھی، وہ اسی طرح لازم ہے جیسے لکھا۔
حدیث نمبر: 2365
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، " أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ كَتَبَ إِلَى امْرَأَتِهِ وَهُوَ غَائِبٌ: إِذَا جَاءَكِ كِتَابِي هَذَا فَاعْتَدِّي، فَلَمْ يَأْتِهَا الْكِتَابُ، وَهَلَكَ دُونَهَا قَالَ: لَيْسَ بِشَيْءٍ "
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کسی نے بیوی کو خط لکھا: جب میرا خط تمہیں پہنچے تو عدت شروع کر دینا، اور خط نہ پہنچ سکا اور وہ مر گیا، تو کچھ نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 2366
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ كَتَبَ إِلَى امْرَأَتِهِ وَهُوَ غَائِبٌ: اعْتَدِّي، فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَهَا الْكِتَابُ، قَالَ: «إِنْ كَانَتْ لَمْ تَنْقَضِ عِدَّتُهَا وَرِثَهَا، وَإِنْ كَانَتْ قَدِ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا لَمْ يَتَوَارَثَا»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کسی نے بیوی کو خط لکھا: عدت شروع کرو، اور بیوی خط پہنچنے سے پہلے فوت ہو گئی تو اگر عدت پوری نہ ہوئی ہو تو وراثت میں شریک ہو گی، ورنہ نہیں۔
حدیث نمبر: 2367
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ، كَتَبَ إِلَى امْرَأَتِهِ: اعْتَدِّي فَزَعَمَتْ أَنَّهُ لَمْ يَأَتْهَا الْكِتَابُ، فَقَالَ: «أَمَّا زَوْجُهَا فَتَكَلَّمَ بِطَلَاقِهَا، لَا يَضُرُّهَا أَتَاهَا كِتَابُهُ أَمْ لَا فَلْتَصْنَعْ مَا أَمَرَهَا بِهِ زَوْجُهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کسی نے بیوی کو خط لکھا اور بیوی کہتی ہے کہ مجھے خط نہیں ملا، تو شوہر نے طلاق دے دی ہے، خط پہنچے یا نہ پہنچے، اسے شوہر کے حکم پر عمل کرنا ہوگا۔
حدیث نمبر: 2368
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَفْلِحِي، فَقَالَ: «إِنْ كَانَ نَوَى طَلَاقَهَا فَهُوَ طَلَاقٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت طاؤس رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کسی نے بیوی سے کہا: فلاح پا، اور طلاق کی نیت کی تھی تو طلاق واقع ہو جائے گی۔