کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: چار بیویوں میں سے کسی ایک کے منع کیے جانے پر طلاق کی تعیین
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ فِي رَجُلٍ لَهُ امْرَأَتَانِ نَهَى إِحْدَاهُمَا عَنِ الْخُرُوجِ، فَخَرَجْتِ الَّتِي لَمْ تُنْهَ، فَظَنَّ أَنَّهَا الَّتِي نَهَى فَقَالَ: فُلَانَةُ، أَخَرَجْتِ؟ أَنْتِ طَالِقٌ، قَالَ: «تُطَلَّقُ الَّتِي نَوَى، أَوْ أَرَادَ» قَالَ هُشَيْمٌ: وَهُوَ الْقَوْلُ
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کسی کی دو بیویاں ہوں، ایک کو باہر جانے سے منع کیا، دوسری باہر نکلی اور اس نے غلطی سے منع کی ہوئی بیوی سمجھ کر کہا: تم نکلی ہو؟ تو تم طلاق، تو طلاق اسی پر ہو گی جس کی نیت کی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: " تُطَلَّقَانِ جَمِيعًا الَّتِي فِي الْبَيْتِ بِتَسْمِيَتِهِ إِيَّاهَا، وَالَّتِي خَرَجَتْ بِقَوْلِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: دونوں پر طلاق ہو گی، ایک پر نام لینے سے اور دوسری پر طلاق کے الفاظ کہنے سے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ رَجُلٍ، لَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَطَلَعَتْ وَاحِدَةٌ، فَقَالَ: " أَنْتِ طَالِقٌ؟ قَالَ: هَذِهِ أُغْلُوطَةٌ "
مظاہر امیر خان
جب سیدنا جابر بن زید رحمہ اللہ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: یہ پیچیدہ مسئلہ ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: نا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأُغْلُوطَاتِ» قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: يَعْنِي شِرَارَ الْمَسَائِلِ ". قَالَ سَعِيدٌ: هَذَا عَنْ مُعَاوِيَةَ وَلَكِنَّهُ لَمْ يُسَمِّهِ
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیچیدہ سوالات سے منع کیا گیا ہے، یعنی سخت قسم کے سوالات سے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ شُبْرُمَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «النِّيَّةُ فِي الطَّلَاقِ فِيمَا خَفِيَ، وَأَمَّا مَا ظَهَرَ فَلَا نِيَّةَ فِيهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: طلاق میں نیت چھپی ہوئی باتوں میں معتبر ہے، ظاہر باتوں میں نیت کا اعتبار نہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ الشَّعْبِيَّ، قَالَ: «إِذَا تَكَلَّمَ بِالطَّلَاقِ وَنَوَى شَيْئًا فَهُوَ مَا نَوَى»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب کوئی طلاق کا لفظ بولے اور کسی چیز کی نیت کرے تو اس کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: «لَيْسَ الطَّلَاقُ عَلَى مَا أَضْمَرْتَ، وَلَكِنِ الطَّلَاقُ عَلَى مَا خَرَجَ مِنْ فِيكَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: طلاق دل میں چھپی نیت سے نہیں بلکہ زبان سے نکلے ہوئے الفاظ پر ہوتی ہے۔