کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: چار بیویوں میں سے کسی ایک کے منع کیے جانے پر طلاق کی تعیین
حدیث نمبر: 2353
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ فِي رَجُلٍ لَهُ امْرَأَتَانِ نَهَى إِحْدَاهُمَا عَنِ الْخُرُوجِ، فَخَرَجْتِ الَّتِي لَمْ تُنْهَ، فَظَنَّ أَنَّهَا الَّتِي نَهَى فَقَالَ: فُلَانَةُ، أَخَرَجْتِ؟ أَنْتِ طَالِقٌ، قَالَ: «تُطَلَّقُ الَّتِي نَوَى، أَوْ أَرَادَ» قَالَ هُشَيْمٌ: وَهُوَ الْقَوْلُ
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کسی کی دو بیویاں ہوں، ایک کو باہر جانے سے منع کیا، دوسری باہر نکلی اور اس نے غلطی سے منع کی ہوئی بیوی سمجھ کر کہا: تم نکلی ہو؟ تو تم طلاق، تو طلاق اسی پر ہو گی جس کی نیت کی۔
حدیث نمبر: 2354
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: " تُطَلَّقَانِ جَمِيعًا الَّتِي فِي الْبَيْتِ بِتَسْمِيَتِهِ إِيَّاهَا، وَالَّتِي خَرَجَتْ بِقَوْلِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: دونوں پر طلاق ہو گی، ایک پر نام لینے سے اور دوسری پر طلاق کے الفاظ کہنے سے۔
حدیث نمبر: 2355
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ رَجُلٍ، لَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَطَلَعَتْ وَاحِدَةٌ، فَقَالَ: " أَنْتِ طَالِقٌ؟ قَالَ: هَذِهِ أُغْلُوطَةٌ "
مظاہر امیر خان
جب سیدنا جابر بن زید رحمہ اللہ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: یہ پیچیدہ مسئلہ ہے۔
حدیث نمبر: 2356
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: نا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأُغْلُوطَاتِ» قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: يَعْنِي شِرَارَ الْمَسَائِلِ ". قَالَ سَعِيدٌ: هَذَا عَنْ مُعَاوِيَةَ وَلَكِنَّهُ لَمْ يُسَمِّهِ
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیچیدہ سوالات سے منع کیا گیا ہے، یعنی سخت قسم کے سوالات سے۔
حدیث نمبر: 2357
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ شُبْرُمَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «النِّيَّةُ فِي الطَّلَاقِ فِيمَا خَفِيَ، وَأَمَّا مَا ظَهَرَ فَلَا نِيَّةَ فِيهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: طلاق میں نیت چھپی ہوئی باتوں میں معتبر ہے، ظاہر باتوں میں نیت کا اعتبار نہیں۔
حدیث نمبر: 2358
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ الشَّعْبِيَّ، قَالَ: «إِذَا تَكَلَّمَ بِالطَّلَاقِ وَنَوَى شَيْئًا فَهُوَ مَا نَوَى»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب کوئی طلاق کا لفظ بولے اور کسی چیز کی نیت کرے تو اس کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
حدیث نمبر: 2359
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: «لَيْسَ الطَّلَاقُ عَلَى مَا أَضْمَرْتَ، وَلَكِنِ الطَّلَاقُ عَلَى مَا خَرَجَ مِنْ فِيكَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: طلاق دل میں چھپی نیت سے نہیں بلکہ زبان سے نکلے ہوئے الفاظ پر ہوتی ہے۔