حدیث نمبر: 2345
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ فِي رَجُلٍ لَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ , فَقَالَ: بَيْنَكُنَّ تَطْلِيقَةٌ، قَالَ: «يُطَلِّقُ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ تَطْلِيقَةً»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کسی کے پاس چار بیویاں ہوں اور کہے: تم سب کے درمیان ایک طلاق، تو ہر بیوی پر ایک طلاق واقع ہو گی۔
حدیث نمبر: 2346
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ فِي رَجُلٍ قَالَ لِأَرْبَعِ نِسْوَةٍ: قَسَمْتُ بَيْنَكُنَّ تَطْلِيقَةً قَالَ: " يُطَلِّقُ كُلَّ وَاحِدَةٍ وَاحِدَةً إِلَى أَرْبَعِ تَطْلِيقَاتٍ، فَإِنْ قَالَ: خَمْسَ تَطْلِيقَاتٍ، طُلِّقَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ ثِنْتَيْنِ إِلَى ثَمَانِ تَطْلِيقَاتٍ، فَإِنْ قَالَ: تِسْعَ تَطْلِيقَاتٍ، طُلِّقَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ ثَلَاثًا "
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر چار بیویوں کو کہے کہ تم میں ایک طلاق ہے تو ہر ایک پر ایک طلاق ہو گی، اگر پانچ کہے تو ہر ایک پر دو دو طلاقیں ہوں گی، اگر نو کہے تو ہر ایک پر تین تین طلاقیں ہو جائیں گی۔
حدیث نمبر: 2347
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ فِي رَجُلٍ لَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَقَالَ: امْرَأَتُهُ طَالِقٌ، وَلَمْ يَدْرِ أَيَّتَهُنَّ طَلَّقَ، قَالَ: «يَنْوِي، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ نَوَى اعْتَزَلَهُنَّ جَمِيعًا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر ایک آدمی کہے کہ میری بیوی طلاق، اور نہ معلوم ہو کہ کون سی، تو نیت پر فیصلہ ہوگا، اگر نیت نہ ہو تو سب بیویوں کو چھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 2348
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي رَجُلٍ لَهُ ثَلَاثُ نِسْوَةٍ طَلَّقَ إِحْدَاهُنَّ تَطْلِيقَةً، وَلَمْ تَقَعْ نِيَّتُهُ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُنَّ قَالَ: «يَنَالُهُنَّ مِنَ الطَّلَاقِ مَا يَنَالُهُنَّ مِنَ الْمِيرَاثِ» .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر کسی شخص کی تین بیویاں ہوں اور وہ ایک کو طلاق دے اور نیت کسی ایک پر نہ ہو تو طلاق ان میں تقسیم ہو گی جس طرح وراثت تقسیم ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 2349
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو بِشْرٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَهُ
مظاہر امیر خان
یہی روایت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دوسری سند سے بھی آئی ہے۔
حدیث نمبر: 2350
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أنا بَعْضُ أَصْحَابِنَا أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ عُمَانَ اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ وَكَانَ عِنْدَهُ نِسْوَةٌ فَطَلَّقَ إِحْدَاهُنَّ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «إِنْ كُنْتَ نَوَيْتَهَا فِي نَفْسِكَ ثُمَّ نَسِيتَهَا فَقَدْ ذَهَبْنَ جَمِيعًا، يَشْتَرِكْنَ فِي الطَّلَاقِ كَمَا يَشْتَرِكْنَ فِي الْمِيرَاثِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ نَوَيْتَهُنَّ فَأَيَّتَهُنَّ شِئْتَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر کسی نے دل میں طلاق کسی ایک کی نیت کی تھی مگر بھول گیا تو سب پر طلاق واقع ہوگی، اور اگر نیت نہیں تھی تو جس کو چاہے طلاق دے۔
حدیث نمبر: 2351
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَمُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُمَا قَالَا فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ لَقِيَهُ آخَرُ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ لَقِيَهُ آخَرُ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ، قَالَا: «نِيَّتُهُ إِنْ نَوَى قَوْلَهُ الْأَوَّلَ فَإِنَّمَا هِيَ تَطْلِيقَةٌ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری اور ابراہیم نخعی رحمہما اللہ نے فرمایا: اگر ایک شخص بیوی کو طلاق دے کر کہے کہ طلاق دی، پھر دوسرے سے بھی ایسا ہی کہے، تو نیت دیکھی جائے، اگر پہلے کے قول کی نیت تھی تو ایک ہی طلاق ہوگی۔
حدیث نمبر: 2352
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ فِي رَجُلٍ قَالَ لِأَرْبَعِ نِسْوَةٍ لَهُ: بَيْنَكُنَّ ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ، قَالَ: تَبِينُ كُلُّ وَاحِدَةٍ بِثَلَاثٍ، وَإِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ رُبُعًا، أَوْ ثُلُثًا، أَوْ نِصْفًا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ تَامَّةٌ "
مظاہر امیر خان
حضرت حارث عکلی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کسی نے چار بیویوں سے کہا کہ تم میں تین طلاقیں تقسیم، تو ہر بیوی پر تین طلاقیں ہو جائیں گی، اور اگر کہے: تو چوتھائی یا تہائی یا نصف طلاق، تو ایک مکمل طلاق واقع ہو گی۔