حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: " يَا أَبَا سَعِيدٍ، رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَارِحَةَ ثَلَاثًا وَهُوَ شَارِبٌ؟ فَقَالَ: «يُجْلَدُ ثَمَانِينَ، وَبَرِئَتْ مِنْهُ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے رات کو شراب کے نشے میں بیوی کو تین طلاقیں دے دیں؟ تو انہوں نے فرمایا: اسے اسی کوڑے مارے جائیں گے اور بیوی اس سے جدا ہو جائے گی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَابْنِ سِيرِينَ «أَنَّهُمَا كَانَا يُجِيزَانِ طَلَاقَ السَّكْرَانِ وَيَرَيَانِ أَنْ يُضْرَبَ الْحَدَّ»
مظاہر امیر خان
حسن اور ابن سیرین رحمہما اللہ طلاقِ نشے میں کو جائز سمجھتے تھے اور حد لگانے کے قائل تھے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: «طَلَاقُ السَّكْرَانِ جَائِزٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: نشے والے کی طلاق جائز ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «طَلَاقُ السَّكْرَانِ جَائِزٌ، وَيُضْرَبُ الْحَدَّ لِأَنَّهُ فِي عُدْوَانٍ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: نشے والے کی طلاق جائز ہے اور اس پر حد قائم کی جائے کیونکہ یہ زیادتی ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ «أَنَّهُ كَانَ يُجِيزُ طَلَاقَ السَّكْرَانِ، وَمَا أَتَى مِنْ حَدٍّ فِي سُكْرِهِ أُقِيمَ عَلَيْهِ» .
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: نشے میں دی گئی طلاق جائز ہے اور جو حد کا موجب بنے اس پر حد قائم ہوگی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ أَيْضًا
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء رحمہ اللہ بھی یہی کہتے تھے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يَقُولُ: «إِنَّ رَجُلًا مِنْ آلِ الْبَخْتَرِيِّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ سَكْرَانُ فَضَرَبَهُ عُمَرُ الْحَدَّ وَأَجَازَ عَلَيْهِ طَلَاقَهُ»
مظاہر امیر خان
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے فرمایا: آلِ بختری کے ایک شخص نے نشے میں بیوی کو طلاق دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر حد لگائی اور طلاق کو نافذ کیا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ «أَنَّهُ كَانَ يَرَى طَلَاقَ السَّكْرَانِ جَائِزًا» .
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نشے میں دی گئی طلاق کو جائز سمجھتے تھے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، مِثْلَهُ
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ سے بھی یہی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ «أَنَّهُ كَانَ يُجِيزُ طَلَاقَ النَّشْوَانِ»
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء رحمہ اللہ نشے میں دی گئی طلاق کو جائز کہتے تھے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ «أَنَّهُ أُتِيَ بِرَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ سَكْرَانُ، فَاسْتَحْلَفَهُ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَنَّهُ طَلَّقَ وَمَا يَعْقِلُ، فَحَلَفَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَضَرَبَهُ الْحَدَّ» .
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس ایک نشے میں طلاق دینے والا آیا، انہوں نے قسم لی کہ اگر بے ہوشی میں طلاق دی ہے تو بیوی واپس کر دی اور حد لگائی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ قَالَ كَمَا قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
مظاہر امیر خان
حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے بھی حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے مطابق فتویٰ دیا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «كُلُّ الطَّلَاقِ جَائِزٌ إِلَّا طَلَاقَ النَّشْوَانِ وَطَلَاقَ الْمَجْنُونِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر طلاق جائز ہے سوائے نشے میں اور مجنون کی طلاق کے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ النَّخَعِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: «كُلُّ الطَّلَاقِ جَائِزٌ إِلَّا طَلَاقَ الْمَعْتُوهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر طلاق جائز ہے سوائے معتوہ (ذہنی معذور) کی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالَ أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ ذَلِكَ أَيْضًا
مظاہر امیر خان
عبدالرحمٰن بن عابس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، وَأَبُو عَوَانَةَ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «كُلُّ الطَّلَاقِ جَائِزٌ إِلَّا طَلَاقَ الْمَعْتُوهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت عابس بن ربیعہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر طلاق جائز ہے سوائے معتوہ کی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «مَنْ طَلَّقَ فَيَجُوزُ طَلَاقُهُ إِلَّا طَلَاقَ الْمَعْتُوهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس نے طلاق دی تو اس کی طلاق جائز ہے سوائے معتوہ کی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ عُتَيْبَةَ قَالَ: «مَنْ طَلَّقَ فِي سُكْرٍ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَيْسَ طَلَاقُهُ بِشَيْءٍ، وَمَنْ طَلَّقَ فِي سُكْرٍ مِنَ الشَّيْطَانِ فَطَلَاقُهُ لَهُ لَازِمٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ نے فرمایا: جو اللہ کے خوف سے نشے میں ہو اس کی طلاق باطل ہے اور جو شیطان کے نشے میں ہو اس کی طلاق لازم ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْحَجَّاجُ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: «كَانَ يَقُولُ فِي طَلَاقِ الْمُبَرْسَمِ، وَالْمَحْمُومِ الَّذِي يَهْذِي وَنِكَاحِ الْجِنِّ أَنَّ طَلَاقَهُمْ لَيْسَ بِشَيْءٍ، وَإِنَّ نِكَاحَ الْجِنِّ لَيْسَ بِشَيْءٍ»
مظاہر امیر خان
حضرت حکم رحمہ اللہ نے فرمایا: مبرسم (بےہوش)، محموم (بخار زدہ جو ہذیان بکتا ہو) اور جنات کا نکاح و طلاق کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: «طَلَاقُ السَّكْرَانِ جَائِزٌ، وَالْمُبَرْسَمُ لَا يَجُوزُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: نشے والے کی طلاق جائز ہے، مبرسم کی طلاق جائز نہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُسْلِمٍ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «لَا يَحُوزُ طَلَاقُ الْمَجْنُونِ إِذَا طَلَّقَ فِي جُنُونِهِ، وَإِذَا عَقَلَ فَطَلَاقُهُ جَائِزٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر مجنون حالتِ جنون میں طلاق دے تو وہ معتبر نہیں، ہوش میں آکر دے تو معتبر ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «لَا يَجُوزُ طَلَاقُ الْمَعْتُوهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: معتوہ کی طلاق جائز نہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَا: «طَلَاقُ الْمَجْنُونِ فِي إِفَاقَتِهِ جَائِزٌ، وَإِذَا طَلَّقَ فِي غَيْرِ إِفَاقَتِهِ لَمْ يَجُزْ طَلَاقُهُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی اور عامر شعبی رحمہما اللہ نے فرمایا: مجنون کی طلاق ہوش میں جائز ہے، بے ہوشی میں جائز نہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَا يَجُوزُ طَلَاقُ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَبْرَأَ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: مجنون کی طلاق درست نہیں جب تک ہوش میں نہ آ جائے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «لَا يَجُوزُ طَلَاقُ الْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: مغلوب العقل کی طلاق جائز نہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ عُبَيْدَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَيُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ «أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْا طَلَاقَ الْمُبَرْسَمِ شَيْئًا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی، عامر شعبی، اور حسن بصری رحمہم اللہ نے فرمایا: مبرسم کی طلاق کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا كَانَ الْمَجْنُونُ يُفِيقُ وَيَعْقِلُ جَازَ مَا صَنَعَ فِي إِفَاقَتِهِ مِنْ عِتْقٍ، أَوْ طَلَاقٍ، أَوْ حَدٍّ، أَوْ شِرًى»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر مجنون کبھی ہوش میں آتا ہے تو ہوش کی حالت میں اس کا عتق، طلاق، حد اور خرید جائز ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «لَا يَجُوزُ نِكَاحُ السَّكْرَانِ وَيَجُوزُ طَلَاقُهُ»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: نشے میں نکاح جائز نہیں، مگر طلاق جائز ہے۔