کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا تین طلاق دینے والے کو سزا دینے کے عمل کا بیان
حدیث نمبر: 2251
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ شَقِيقٍ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ: «هِيَ ثَلَاثٌ، لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ. وَكَانَ عُمَرُ إِذَا أُتِيَ بِهِ أَوْجَعَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا انس بن مالک اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ”جس نے دخول سے پہلے بیوی کو تین طلاقیں دیں تو وہ حلال نہیں ہوتی، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایسے آدمی کو سزا دیتے تھے۔“
حدیث نمبر: 2252
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سُفْيَانُ: أَظُنُّهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالُوا فِي الَّذِي يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا: «إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس، ابو ہریرہ، اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ”دخول سے پہلے تین طلاق والی عورت حلال نہیں جب تک دوسرا نکاح نہ کرے۔“
وضاحت:
سفیان بن عیینہ نے روایت میں کہا "أظنه عن أبي سلمة" یعنی ابو سلمہ کا واسطہ "ظنّی" ہے، اس سے سند میں کچھ ضعف ہے (احتمالِ انقطاع) لیکن چونکہ متن درایتاً قوی ہے، اور صحیح حدیث و آیت سے مؤید ہے اس لیے یہ اثر قابلِ ہے۔
حدیث نمبر: 2253
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَأَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِيمَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ: «لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے دخول سے پہلے بیوی کو تین طلاقیں دیں، وہ اس کے لیے حلال نہیں جب تک دوسرا نکاح نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 2254
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَا: «إِذَا طُلِّقَتِ الْبِكْرُ ثَلَاثًا فَهِيَ وَاحِدَةٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء اور جابر بن زید رحمہما اللہ نے فرمایا: ”کنواری لڑکی کو اگر تین طلاقیں دی جائیں تو وہ ایک ہی شمار ہوگی۔“
حدیث نمبر: 2255
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا: أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ قَالَ: «بَانَتْ بِالْأُولَى، وَالثِّنْتَانِ لَيْسَ بِشَيْءٍ، وَإِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا بِفَمٍ وَاحِدٍ لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر دخول سے پہلے عورت کو تین بار کہا: تو طلاق ہے، تو پہلی سے جدا ہو جائے گی، باقی دو کچھ نہیں، اور اگر ایک ہی جملے میں تین طلاق دے تو دوسرے نکاح کے بغیر حلال نہ ہو گی۔“
حدیث نمبر: 2256
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، فِيمَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا قَالَ: " لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ. وَإِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، بَانَتْ بِالْأُولَى، وَلَمْ يَكُنِ الْأُخْرَيَانِ بِشَيْءٍ "
مظاہر امیر خان
حضرت مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر تین طلاقیں دی جائیں تو دوسرا نکاح لازم ہوگا، اور اگر الگ الگ کہے تو پہلی سے جدا ہو جائے گی باقی کچھ نہیں۔“
حدیث نمبر: 2257
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا قَالَ: " هِيَ طَالِقٌ ثَلَاثًا، لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَإِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، بَانَتْ بِالْأُولَى، وَلَمْ تَكُنِ الْأُخْرَيَانِ بِشَيْءٍ. فَقِيلَ لَهُ: عَمَّنْ هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟ فَقَالَ: عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ "
مظاہر امیر خان
حضرت حکم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کہے کہ وہ تین بار طلاق ہے تو دوسرا نکاح ضروری ہوگا، اور اگر الگ الگ کہے تو پہلی سے جدا ہو جائے گی، یہ بات سیدنا علی، عبداللہ، اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔“
حدیث نمبر: 2258
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ: «إِنْ أَخْرَجَهُنَّ جَمِيعًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ، فَإِذَا أَخْرَجَهُنَّ تَتْرَى بَانَتْ بِالْأُولَى، وَالثِّنْتَانِ لَيْسَتَا بِشَيْءٍ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر دخول سے پہلے تین طلاقیں بیک وقت دے تو دوسرا نکاح لازم ہوگا، اگر ایک ایک کر کے دے تو پہلی پر جدا ہو جائے گی۔“
حدیث نمبر: 2259
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ؟: أنا مُغِيرَةُ، قَالَ: " إِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ قَالَ: إِذَا كَانَ كَلَامًا مُتَّصِلًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَإِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ ثُمَّ سَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، بَانَتْ بِالْأُولَى، وَلَمْ تَكُنِ الْأُخْرَيَانِ شَيْئًا "
مظاہر امیر خان
حضرت مغیرہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر طلاقوں کا کلام متصل ہو تو دوسرا نکاح لازم ہے، اگر الگ الگ کہے اور بیچ میں خاموشی ہو تو پہلی طلاق معتبر ہوگی۔“
حدیث نمبر: 2260
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُزَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: «إِذَا كَانَ مُتَّصِلًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ»
مظاہر امیر خان
حضرت عبداللہ بن معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر کلام متصل ہو تو دوسرا نکاح ضروری ہوگا۔“
حدیث نمبر: 2261
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ " فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا طَلَاقًا مُتَّصِلًا يَقُولُ: أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ قَالَ: لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر دخول سے پہلے متصل تین طلاق دے تو دوسرا نکاح لازم ہوگا۔“
حدیث نمبر: 2262
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ: «لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر دخول سے پہلے بیوی کو تین طلاق دے تو وہ اس کے لیے حلال نہ ہو جب تک دوسرا نکاح نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 2263
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ: أنا خُصَيْفٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ جَمِيعًا وَلَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِهَا قَالَ: «هِيَ ثَلَاثٌ، فَإِنْ طَلَّقَ وَاحِدَةً ثُمَّ ثَنَّى وَثَلَّثَ لَمْ يَقَعْ عَلَيْهَا لِأَنَّهَا بَانَتْ بِالْأَوَّلِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دیں اور دخول نہیں کیا تھا، تو وہ تینوں واقع ہوں گی، اگر ایک ایک کر کے طلاق دے تو پہلی پر جدائی ہو جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 2264
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: " إِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ "
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر دخول سے پہلے کہے کہ تو تین طلاق ہے تو وہ حلال نہیں ہوتی جب تک دوسرا نکاح نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 2265
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ قَالَ فِيمَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ: «رَغِمَ أَنْفُهُ بَلَغَ حَدَّهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: جس نے دخول سے پہلے بیوی کو تین طلاقیں دیں، اس کی ناک خاک آلود ہو، یہاں تک کہ وہ دوسرا نکاح کرے۔“
حدیث نمبر: 2266
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ قَالَ: «بَعْدَ ذَلِكَ إِنْ شَاءَ خَطَبَهَا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کے بعد چاہے تو پھر اس سے نکاح کر لے۔“
حدیث نمبر: 2267
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، وَحُصَيْنٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ» .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ اس وقت تک اس کے لیے حلال نہیں جب تک دوسرا نکاح نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 2268
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے بھی یہی فتویٰ دیا۔“
حدیث نمبر: 2269
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ أَلْفًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ: «بَانَتْ مِنْهُ بِثَلَاثٍ وَسَائِرُهُنَّ مَعْصِيَةٌ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جس نے دخول سے پہلے بیوی کو ہزار طلاقیں دیں تو تین طلاقوں سے جدا ہو جائے گا اور باقی سب معصیت ہے۔“
حدیث نمبر: 2270
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ قَالَ: «يَكْفِيكَ ثَلَاثٌ، وَسَائِرُهُنَّ عُدْوَانٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ جس نے اپنی بیوی کو ننانوے طلاقیں دیں، تو فرمایا: تین طلاقیں کافی ہیں اور باقی سب زیادتی ہے۔“
حدیث نمبر: 2271
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، أَنَّ الْعَلَاءَ بْنَ جَعُونَةَ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةَ تَطْلِيقَةٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنِ اعْتَزِلِ امْرَأَتَكَ»
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء خراسانی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ علاء بن جعودہ نے بیوی کو سو طلاقیں دیں تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیجا کہ بیوی سے جدا ہو جا۔“
وضاحت:
قال إبن حجر: عطا الخراسانی صدوق يهم كثيرا، ويرسل، ويدلس
حدیث نمبر: 2272
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، قَالَ: «الثَّلَاثُ وَالْوَاحِدَةُ لِلْبِكْرِ سَوَاءٌ»، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: «إِنَّمَا أَنْتَ قَاصٌّ وَلَسْتَ بِمُفْتٍ، الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا، وَالثَّلَاثُ تُحَرِّمُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ» .
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ نے فرمایا: کنواری عورت کے لیے ایک طلاق اور تین طلاقیں برابر ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم قصہ گو ہو، مفتی نہیں، ایک طلاق سے جدائی ہوتی ہے اور تین طلاقیں حرمت۔“
حدیث نمبر: 2273
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔“
حدیث نمبر: 2274
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا حُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «وَلَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ حلال نہ ہوگی جب تک دوسرا نکاح نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 2275
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ قَالَا: «لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم نے فرمایا: حلال نہیں ہوگی جب تک دوسرا نکاح نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 2276
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَةً لَهُ، فَقَالَتْ لَهُ: " هَلْ رَأَيْتَ مِنِّي شَيْئًا تَكْرَهُهُ؟ قَالَ: لَا , قَالَتْ: فَفِيمَ تُطَلَّقُ الْمَرْأَةُ الْعَفِيفَةُ الْمُسْلِمَةُ؟ قَالَ: فَارْتَجَعَهَا "
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک عورت کو طلاق دی، تو وہ کہنے لگی: مجھ میں کیا عیب دیکھا؟ فرمایا: کچھ نہیں، تو عورت بولی: پھر پاکیزہ مسلمہ عورت کو کیوں طلاق دیتے ہو؟ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے رجوع کر لیا۔“