حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٌ، قَالَ: نا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَدَخَلَ بِهَا، فَوَجَدَ بِهَا بَرَصًا، أَوْ مَجْنُونَةً أَوْ مَجْذُومَةً، فَلَهَا الصَّدَاقُ بِمَسِيسِهِ إِيَّاهَا، وَهُوَ لَهُ عَلَى مَنْ غَرَّهُ مِنْهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے عورت سے نکاح کیا، پھر اس سے ہمبستری کی اور اس میں برص یا جنون یا جذام پایا، تو عورت کو ہمبستری کے بدلے مہر ملے گا، اور شوہر کو جس نے اسے دھوکہ دیا اس سے مثل مہر کا حق حاصل ہوگا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَضَى: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ وَبِهَا شَيْءٌ مِنْ هَذَا الدَّاءِ، وَلَمْ يَعْلَمْ حَتَّى مَسَّهَا، فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، وَيُغْرِمُ وَلِيَّهَا زَوْجُهَا مِثْلَ مَهْرِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا: ”جس عورت سے نکاح کیا گیا اور اس میں مذکورہ بیماریوں میں سے کچھ پایا گیا، اور دخول کے بعد معلوم ہوا، تو عورت کو مہر ملے گا اور شوہر ولی سے مثل مہر کی وصولی کا حق رکھے گا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَوَجَدَهَا مَجْنُونَةً أَوْ مَجْذُومَةً أَوْ بَرْصَاءَ، فَهِيَ امْرَأَتُهُ، إِنْ شَاءَ طَلَّقَ، وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو مرد عورت سے نکاح کرے اور اس میں جنون یا جذام یا برص پائے، تو وہ اس کی بیوی ہے، چاہے تو اسے طلاق دے اور چاہے تو اپنے نکاح میں رکھے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ وَبِهَا بَرَصٌ أَوْ جُنُونٌ أَوْ جُذَامٌ أَوْ قَرَنٌ، فَزَوْجُهَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَمَسَّهَا، إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ، وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ، وَإِنْ مَسَّهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس عورت سے نکاح کیا جائے اور اس میں برص، جنون، جذام یا فرج کی بندش (قرن) ہو، تو شوہر کو دخول سے پہلے اختیار ہے: چاہے تو رکھے، چاہے تو چھوڑ دے، اور اگر دخول کر لے تو عورت کو ہمبستری کے بدلے پورا مہر ملے گا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ قَالَ: «ذَلِكَ إِذَا دَخَلَ بِهَا، فَإِنْ عَلِمَ بِذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ، وَإِنْ شَاءَ فَارَقَ بِغَيْرِ طَلَاقٍ»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ حکم دخول کے بعد ہے، اگر دخول سے پہلے عیب معلوم ہو جائے تو شوہر چاہے تو بغیر طلاق کے چھوڑ دے، اور چاہے تو نکاح برقرار رکھے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «هِيَ امْرَأَتُهُ، إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ، وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ، دَخَلَ بِهَا أَمْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا، وَلَيْسَ الْحَرَائِرُ كَالْإِمَاءِ، الْحُرَّةُ لَا تُرَدُّ مِنْ دَاءٍ» .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ اس کی بیوی ہے، دخول کرے یا نہ کرے، چاہے تو رکھے اور چاہے تو طلاق دے، اور آزاد عورت باندی کی طرح نہیں، آزاد عورت کسی عیب کی وجہ سے رد نہیں کی جاتی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے اسی طرح منقول ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: " أَرْبَعٌ لَا يُجَزْنَ فِي بَيْعٍ وَلَا نِكَاحٍ: الْمَجْنُونَةُ، وَالْمَجْذُومَةُ، وَالْبَرْصَاءُ، وَالْعَفْلَاءُ "
مظاہر امیر خان
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ نے فرمایا: ”چار قسم کے افراد نہ بیچنے میں جائز ہیں نہ نکاح میں: مجنوں، مجذوم، برص زدہ اور فرج کی بندش والی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، قَالَ: كَتَبَ عَدِيُّ بْنُ أَرْطَاةَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي ذَلِكَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ: «إِنَّهُ قَدِ ائْتَمَنَ أَصْهَارَهُ عَلَى مَا هُوَ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ، إِنْ شَاءَ طَلَّقَ، وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ»
مظاہر امیر خان
حضرت عدی بن ارطاة نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو لکھا تو انہوں نے جواب دیا: ”آدمی نے اپنے سسرالیوں پر اس سے بڑی چیز میں اعتماد کیا ہے، اب چاہے تو عورت کو رکھے اور چاہے تو طلاق دے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِنْ عَلِمَ بِذَلِكَ الْوَلِيُّ فَالصَّدَاقُ عَلَيْهِ كَمَا غَرَّهُ مِنْهَا، وَإِنْ لَمْ يَعْلَمْ فَهِيَ امْرَأَتُهُ، إِنْ شَاءَ طَلَّقَ، وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر ولی کو علم تھا تو مہر اس کے ذمہ ہے جس نے دھوکہ دیا، اور اگر علم نہیں تھا تو نکاح برقرار ہے، چاہے رکھے یا چھوڑ دے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: " أَرْبَعٌ لَا يُجَزْنَ فِي بَيْعٍ وَلَا نِكَاحٍ إِلَّا أَنْ يَمَسَّ، فَإِنْ مَسَّ فَقَدْ جَازَ: الْجُنُونُ، وَالْجُذَامُ، وَالْبَرَصُ، وَالْقَرَنُ "
مظاہر امیر خان
حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ نے فرمایا: ”چار چیزوں میں بیع اور نکاح نہیں ہوتا جب تک مباشرت نہ ہو: جنون، جذام، برص، اور قرن۔ اگر مباشرت ہو جائے تو نکاح درست ہو جائے گا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا جَمِيلُ بْنُ زَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: " تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي غِفَارٍ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ وَضَعَتْ ثِيَابَهَا، فَرَأَى بِكَشْحِهَا بَيَاضًا، فَقَالَ: «الْبَسِي ثِيَابَكِ وَالْحَقِي بِأَهْلِكِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو غفار کی ایک عورت سے نکاح کیا، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کپڑے اتارے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پہلو میں سفیدی دیکھی، فرمایا: ’کپڑے پہن لو اور اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ‘۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا شَرِيكٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «لَا تُرَدُّ الْحُرَّةُ مِنْ عَيْبٍ» .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”آزاد عورت کسی عیب کی بنا پر واپس نہیں کی جاتی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا رَجُلٌ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ حَدِيثٍ قَبْلَهُ، «أَمَرَ لَهَا بِالصَّدَاقِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا زید بن کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے لیے مہر کا حکم دیا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُمَرَ، وَسَهْلُ بْنُ زَنْجَلَةَ الرَّازِيُّ، قَالَ: نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ: أَيُّ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ؟ فَقَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ ابْنَةَ الْجَوْنِ الْكِلَابِيَّةَ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ يَدْنُو مِنْهَا، فَقَالَتْ: عَائِذًا بِاللَّهِ. فَقَالَ: «عُذْتِ بِعَظِيمٍ، ضُمِّي ثِيَابَكِ وَالْحَقِي بِأَهْلِكِ»
مظاہر امیر خان
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب بنی کلاب کی بیٹی (امیمہ بنت نعمان) آئیں تو آپ ان کے قریب ہوئے، انہوں نے کہا: ”میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں”۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے عظیم کی پناہ لی ہے، کپڑے پہن لو اور اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ“۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَلَمَّا دَخَلَ بِهَا بَدَا مِنَ الرَّجُلِ عَيْبٌ، بَرَصٌ أَوْ جُذَامٌ. قَالَ عَطَاءٌ: «لَا تُنْزَعُ مِنْهُ امْرَأَتُهُ»
مظاہر امیر خان
حضرت عطا رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر مرد نے عورت سے نکاح کیا اور اس میں بعد از دخول برص یا جذام کا عیب نکلا، تو عورت اس سے جدا نہیں کی جائے گی۔“