حدیث نمبر: 1990
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ وَقَدْ فَجَرَتْ، قَالَ: «إِنْ لَمْ يَسْتَحْيِ لِوَلَدِهِ أَنْ يُعَيَّرَ بِذَلِكَ فَلْيَتَزَوَّجْهَا إِنْ شَاءَ» .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو شخص کسی بدکار عورت سے نکاح کرے، اگر اسے اپنے بچے کی بدنامی کا خوف نہ ہو تو نکاح کر سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1991
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح فرمایا۔
حدیث نمبر: 1992
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَا تَحِلُّ مُسَافِحَةٌ وَلَا ذَاتُ خِدْنٍ لِمُسْلِمٍ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مسلمان کے لیے کسی زناکارہ یا خفیہ دوست رکھنے والی عورت سے نکاح جائز نہیں۔“
حدیث نمبر: 1993
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «يُفَارِقُهَا إِذَا فَعَلَتْ ذَلِكَ وَهِيَ عِنْدَهُ وَلَا يُمْسِكُهَا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر عورت شوہر کے ساتھ رہتے ہوئے ایسا کرے تو اسے چھوڑ دینا چاہیے، اور ساتھ نہ رکھے۔“
حدیث نمبر: 1994
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: «لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ عَشَرَةً لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ دس مردوں کو بھی دیکھ لے، تب بھی بیوی اس پر حرام نہ ہوگی۔“