حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «إِذَا أُرْخِيَتِ السُّتُورُ فَقَدْ وَجَبَ الصَّدَاقُ وَالْعِدَّةُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب پردے لٹک جائیں تو مہر اور عدت لازم ہو جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: «إِذَا أُغْلِقَ الْبَابُ أَوْ أُرْخِيَ السِّتْرُ أَوْ كُشِفَ الْخِمَارُ فَقَدْ وَجَبَ الصَّدَاقُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”جب دروازہ بند ہو یا پردہ گرایا جائے یا خمار ہٹایا جائے تو مہر واجب ہو جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «إِذَا أُغْلِقَ الْبَابُ وَأُرْخِيَ السِّتْرُ وَوُضِعَ الْخِمَارُ وَجَبَ الصَّدَاقُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب دروازہ بند ہو، پردہ گرا دیا جائے اور خمار اتار دیا جائے تو مہر واجب ہو جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: «إِذَا أُغْلِقَ الْبَابُ وَأُرْخِيَ السِّتْرُ فَقَدْ وَجَبَ الصَّدَاقُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب دروازہ بند کر دیا جائے اور پردہ گرا دیا جائے تو مہر واجب ہو جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرٍّ، وَعَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ أَصْفَقَ بَابًا وَأَرْخَى سِتْرًا فَقَدْ وَجَبَ الصَّدَاقُ وَالْعِدَّةُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے دروازہ بند کیا اور پردہ گرایا تو اس پر مہر اور عدت لازم ہو گئی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا عَوْفٌ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، قَالَ: " قَضَى الْخُلَفَاءُ الرَّاشِدُونَ الْمَهْدِيُّونَ: أَنَّهُ مَنْ أَغْلَقَ بَابًا وَأَرْخَى سِتْرًا فَقَدْ وَجَبَ الصَّدَاقُ وَالْعِدَّةُ "
مظاہر امیر خان
زرارة بن اوفی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”خلفائے راشدین مہدیین کا فیصلہ تھا کہ دروازہ بند کرنا اور پردہ ڈالنا مہر اور عدت کو لازم کر دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا اطَّلَعَ الرَّجُلُ مِنَ امْرَأَتِهِ عَلَى مَا لَا يَحِلُّ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ فَقَدْ وَجَبَ الصَّدَاقُ وَالْعِدَّةُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب شوہر اپنی بیوی میں وہ چیز دیکھ لے جسے غیر دیکھنا حلال نہیں تو مہر اور عدت لازم ہو جاتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ: قَالَ لِي: " أُرْخِيَ عَلَيْكَ السِّتْرُ وَأُغْلِقَ عَلَيْكَ الْبَابُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَجَبَ عَلَيْكَ الصَّدَاقُ "
مظاہر امیر خان
حضرت علی بن حسین رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مجھ سے کہا گیا: کیا تم پر پردہ گرایا گیا اور دروازہ بند کیا گیا؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ تو فرمایا: تم پر مہر واجب ہو گیا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي الرَّجُلِ يَخْلُو بِالْمَرْأَةِ، فَيَقُولُ: لَمْ أَمَسَّهَا، وَتَقُولُ: قَدْ مَسَّنِي، فَالْقَوْلُ قَوْلُهَا "
مظاہر امیر خان
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے کہ اگر مرد اور عورت خلوت میں ہوں اور مرد کہے کہ میں نے اسے نہیں چھوا، اور عورت کہے کہ اس نے مجھے چھوا ہے، تو قول عورت کا معتبر ہو گا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ فِي رَجُلٍ أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ فَزَعَمَ أَنَّهُ لَمْ يَمَسَّهَا، فَقَالَ شُرَيْحٌ: «لَمْ أَسْمَعِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَذْكُرُ فِي الْقُرْآنِ بَابًا وَلَا سِتْرًا، لَهَا نِصْفُ الصَّدَاقِ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ»
مظاہر امیر خان
حضرت شریح قاضی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”قرآن میں اللہ نے دروازے یا پردے کا ذکر نہیں کیا، عورت کو نصف مہر ملے گا اور اس پر عدت لازم ہو گی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ نَافِعٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، وَكَانَتْ قَدْ أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ، فَزَعَمَ أَنَّهُ لَمْ يَقْرَبْهَا وَزَعَمَتْ أَنَّهُ قَدْ قَرَبَهَا، فَخَاصَمَتْهُ إِلَى شُرَيْحٍ فَصَبَرَ يَمِينَ عَمْرٍو بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا قَرَبَهَا، وَقَضَى عَلَيْهِ بِنِصْفِ الصَّدَاقِ ".
مظاہر امیر خان
عمرو بن نافع نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور دعویٰ کیا کہ اس نے اسے نہیں چھوا، عورت نے مخالفت کی، معاملہ حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس گیا۔ حضرت شریح نے عمرو سے قسم لی اور عورت کے حق میں نصف مہر کا فیصلہ کیا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا سَيَّارٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
حضرت شریح قاضی رحمہ اللہ نے اسی طرح فیصلہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ نَافِعٍ، تَزَوَّجَ بِنْتَ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ فَطَلَّقَهَا، وَزَعَمَ أَنَّهُ لَمْ يَقْرَبْهَا، فَخَاصَمُوهُ إِلَى شُرَيْحٍ فَاسْتَحْلَفَهُ وَقَضَى عَلَيْهِ بِنِصْفِ الصَّدَاقِ "
مظاہر امیر خان
عمرو بن نافع نے سیدہ بنت یحییٰ بن الجزار سے نکاح کیا اور طلاق دی، اور دعویٰ کیا کہ اس نے بیوی کو نہیں چھوا۔ حضرت شریح رحمہ اللہ نے قسم لے کر عورت کے حق میں نصف مہر کا فیصلہ دیا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ قَالَ لَهَا: «لَا لَا أُصَدِّقُكِ لِنَفْسِكِ، وَأَتَّهِمُكِ لِنَفْسِكَ» قَالَ هُشَيْمٌ يَقُولُ: فَعَلَيْكِ الْعِدَّةُ، وَلَا تَزَوَّجِي حَتَّى تَعْتَدِّي.
مظاہر امیر خان
حضرت شریح رحمہ اللہ نے عورت سے کہا: ”میں تیرے حق میں تیرے قول کو تسلیم نہیں کرتا، اور تمہیں خود پر متہم کرتا ہوں۔“ اور فرمایا: ”تم پر عدت واجب ہے اور عدت پوری کیے بغیر نکاح نہ کرو۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَكَانَ يَبِيتُ عِنْدَهَا فَطَلَّقَهَا، فَقَالَتْ: لَمْ يَقْرَبْنِي وَكَانَ يَبِيتُ عِنْدِي وَعَلَيَّ ثِيَابِي قَالَ: «عَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الصَّدَاقُ أَلَا تَرَى أَنَّهَا لَوِ ادَّعَتْ حَمْلًا صُدِّقَتْ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نکاح کیا، اس کی بیوی نے کہا: وہ رات میرے پاس گزارتا مگر کپڑے بدستور ہوتے۔ ابراہیم نے فرمایا: ”اس عورت پر عدت واجب ہے اور اس کا مہر بھی لازم ہے۔ دیکھتے نہیں کہ اگر عورت حمل کا دعویٰ کرے تو بھی اس کی تصدیق کی جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا لَيْثٌ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ إِذَا أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ، ثُمَّ طَلَّقَهَا فَزَعَمَ أَنَّهُ لَمْ يَمَسَّهَا، قَالَ: «عَلَيْهِ نِصْفُ الصَّدَاقِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اگر مرد عورت کو اپنے نکاح میں لائے اور طلاق دے دے اور دعویٰ کرے کہ میں نے اسے نہیں چھوا، تو اس پر نصف مہر واجب ہو گا۔