حدیث نمبر: 1921
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، قَالَ جَرِيرٌ: أُرَاهُ عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُدْخَلَ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ وَأَوْصَاهُمْ خَيْرًا، فَأَصَابَ الرَّجُلُ بَعْدُ حَتَّى صَارَ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ”ایک مسلمان مرد کے پاس کچھ بھی نہیں تھا، اس نے ایک عورت سے نکاح کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کی بیوی اس کے پاس بھیجی جائے اور انہیں بھلائی کی وصیت کی۔ بعد میں وہ مرد مالدار ہو کر شرفاء میں شمار ہونے لگا۔“
وضاحت:
جریر کے تردد ("أراه عن عائشة") اور خیثمہ کے سماع پر شک کی وجہ سے سند منقطع یا ضعیف ہے۔ نیز ابن حجر کہتے ہیں کہ خثیمہ تدلیس کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1922
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: نا حَجَّاجٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ تَزَوَّجَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ فَقِيرٌ وَلَيْسَ عِنْدَهُ شَيْءٌ أَفَنُدْخِلُهَا عَلَيْهِ وَلَمْ يُعْطِهَا شَيْئًا مِنْ صَدَاقِهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ أَدْخِلُوهَا عَلَيْهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت خیثمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری مرد نے نکاح کیا۔ صحابہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! یہ فقیر ہے، اس کے پاس مہر کے لیے کچھ نہیں۔ کیا ہم اسے بیوی کے ساتھ خلوت کی اجازت دیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اس کی بیوی کو اس کے پاس بھیج دو۔“
وضاحت:
خثیمہ کی تدلیس، عن رجل، مجہول
حدیث نمبر: 1923
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو حَمْزَةَ عِمْرَانُ بْنُ أَبِي عَطَاءٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ - وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَأَنَّهُ أَعْسَرَ عَنْ صَدَاقِهَا - فَقَالَ: «إِنْ لَمْ تَجِدْ إِلَّا إِحْدَى نَعْلَيْكَ فَأَعْطِهَا إِيَّاهَا وَادْخُلْ بِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: ”میں نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے مگر مہر ادا کرنے سے عاجز ہوں۔“ فرمایا: ”اگر تمہارے پاس ایک جوتی بھی ہو تو اسے دے دو اور بیوی کے پاس جاؤ۔“
وضاحت:
أبو حمزة عمران بن أبي عطاء: صدوق، لیکن کمزور (غیر ثقہ)، اور ابن عباس سے سماع ناممکن۔
حدیث نمبر: 1924
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا حَجَّاجٌ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ «تَزَوَّجَ فُلَانُ بْنُ هُرْمُزَ لَيْلَى بِنْتَ الْعَجْمَاءِ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى أَرْبَعَةِ آلَافٍ ثُمَّ دَخَلَ بِهَا قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا مِنْ صَدَاقِهَا شَيْئًا»
مظاہر امیر خان
روایت ہے کہ فلان بن ہرمز نے سیدہ لیلیٰ بنت العجماء سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں چار ہزار مہر پر نکاح کیا، اور مہر ادا کیے بغیر بیوی کے پاس گیا۔
حدیث نمبر: 1925
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ: «يَكْرَهُ أَنْ يَدْخُلَ، بِامْرَأَتِهِ حَتَّى يُعْطِيَهَا شَيْئًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ بیوی کے پاس جانے سے پہلے کچھ مہر دینا ضروری سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1926
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حَجَّاجٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّ كُرَيْبَ بْنَ أَبِي مُسْلِمٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، «تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى أَرْبَعَةِ آلَافٍ فَدَخَلَ بِهَا قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا شَيْئًا»
مظاہر امیر خان
حضرت کریب بن ابی مسلم رحمہ اللہ نے چار ہزار مہر پر نکاح کیا اور مہر دیے بغیر بیوی کے پاس چلے گئے۔
حدیث نمبر: 1927
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا حَجَّاجٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ كُرَيْبِ بْنِ هِشَامٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، «أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى أَرْبَعَةِ آلَافٍ، ثُمَّ دَخَلَ بِهَا قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا مِنْ صَدَاقِهَا شَيْئًا»
مظاہر امیر خان
حضرت کریب بن ہشام رحمہ اللہ نے بھی ایسا ہی کیا۔
حدیث نمبر: 1928
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَأنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ «أَنَّهُمَا كَانَا لَا يَرَيَانِ بَأْسًا أَنْ يَدْخُلَ الرَّجُلُ بِامْرَأَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا شَيْئًا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ دونوں بیوی کے پاس جانے سے پہلے کچھ مہر نہ دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1929
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ إِذَا تَزَوَّجَتْ أَرْسَلَتْ إِلَى زَوْجِهَا: أَنْ بِتْ عِنْدَنَا لِكَيِ أَسْتَوْجِبَ الصَّدَاقَ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا شَيْئًا "
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مدینہ کی عورت نکاح کے بعد اپنے شوہر کو بلاتی تاکہ وہ اس کے ہاں رات گزارے اور مہر لازم ہو جائے، حالانکہ ابھی کچھ دیا نہ ہوتا۔“
حدیث نمبر: 1930
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَمَّنْ سَمِعَ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، «أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا شَيْئًا»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ بیوی کے پاس جانے سے پہلے کچھ مہر نہ دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1931
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: «أَحْسَنُ الْأُلْفَةِ أَنْ لَا يَقْرَبَهَا حَتَّى يَأْتِيَ بَيْتَهُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اچھا تعلق یہی ہے کہ مرد بیوی کے پاس جانے سے پہلے اسے اپنے گھر لے آئے۔“
حدیث نمبر: 1932
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا إِذَا مَلَكَ الرَّجُلُ عُقْدَةَ النِّكَاحِ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَبْلَ أَنْ يُنْقِدَهَا شَيْئًا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب نکاح ہو جائے تو شوہر کے لیے بیوی کے پاس جانے میں کوئی حرج نہیں، اگرچہ مہر نہ دیا ہو۔“
حدیث نمبر: 1933
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ: أنا خُصَيْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الرَّجُلُ عَلَى امْرَأَتِهِ حَتَّى يُقَدِّمَ إِلَيْهَا شَيْئًا، قَمِيصًا أَوْ رِدَاءً خِمَارًا، وَلَوْ خَاتَمًا»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مرد کو چاہیے کہ بیوی کے پاس جانے سے پہلے کوئی چیز دے، خواہ قمیص، چادر، خمار یا یہاں تک کہ انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔“