حدیث نمبر: 1863
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عَوْفٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّهُ كَانَ إِذَا زَوَّجَ بِنْتًا مِنْ بَنَاتِهِ أَوْ مِنْ مَوَالِيهِ، قَالَ: يَقُولُ: عَلَيْكَ أَنْ تُمْسِكَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تُسَرِّحَ بِإِحْسَانٍ "
مظاہر امیر خان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب اپنی بیٹیوں یا لونڈیوں کا نکاح کرتے تو فرماتے: ”تم پر لازم ہے کہ معروف طریقے سے انہیں روکو یا اچھے طریقے سے رخصت کرو۔“
حدیث نمبر: 1864
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا نَكَحَ قَالَ: " أَنْكَحْتُكَ عَلَى مَا أَمَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ}
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب نکاح کرتے تو فرماتے: ”میں نے تمہارا نکاح اس پر کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے: «معروف طریقے سے انہیں روکو یا اچھے طریقے سے رخصت کرو» [البقرہ: 229]۔“
حدیث نمبر: 1865
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ رَجُلٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ سُلَيْمَانُ قَالَ: خَطَبْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ مَوْلَاةً لَهُ، فَقَالَ: " أُنْكِحُكَ عَلَى مَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ}
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی لونڈی کا رشتہ مانگا، آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہارا نکاح اس پر کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے: «معروف طریقے سے انہیں روکو یا اچھے طریقے سے رخصت کرو» [البقرہ: 229]۔“
حدیث نمبر: 1866
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ حَفْصٍ يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: لَحِقْتُ ابْنَ عُمَرَ فَخَطَبْتُ إِلَيْهِ ابْنَتَهُ، فَقَالَ لِي: " إِنَّ ابْنَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ لَأَهْلٌ أَنْ يُنْكِحَ، نَحْمَدُ رَبَّنَا وَنُصَلِّي عَلَى نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَنْكَحْنَاكَ عَلَى مَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ}
مظاہر امیر خان
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کی بیٹی کا رشتہ مانگا تو آپ نے فرمایا: ’ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں، میں نے تمہارا نکاح اس پر کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے: «معروف طریقے سے انہیں روکو یا اچھے طریقے سے رخصت کرو» [البقرہ: 229]۔‘“
حدیث نمبر: 1867
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ «كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَضَعَ، الرَّجُلُ يَدَهُ عَلَى امْرَأَةٍ قَدْ نَكَحَهَا حَتَّى يُسَمِّيَ صَدَاقَهَا أَوْ يُقَدِّمَ شَيْئًا»
مظاہر امیر خان
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وہ ناپسند کرتے تھے کہ مرد مہر مقرر کیے بغیر عورت کو ہاتھ لگائے یا کچھ مال پہلے نہ دے۔“