کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: کسی کا رشتہ طے ہونے کے بعد اس پر رشتہ بھیجنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1824
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَتْرُكَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنے بھائی کی منگیتر پر اس وقت تک نکاح کی بات نہ کرے جب تک وہ نکاح کر لے یا چھوڑ دے۔“
حدیث نمبر: 1825
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، أنا عَوْفٌ، قَالَ: أنا الْحَسَنُ قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اپنے بھائی کی منگیتر پر نکاح نہ کرے، اور نہ اس کی خریداری پر خریداری کرے۔“
حدیث نمبر: 1826
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى خَالَتِهَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ "
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے ایک عورت سے اس کی خالہ کی موجودگی میں نکاح کیا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان دونوں میں جدائی ڈال دی۔
وضاحت:
عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده کا سلسلہ "صحيح عند جمهور" ہے اگر سند میں ضعف شدید نہ ہو۔ حسين المعلم کو بعض محدثین نے اختلاط کا شکار بتایا، لیکن يزيد بن هارون جیسے ثقہ راوی نے روایت کی، تو قابلِ قبول ہے، لہٰذا سند قابل احتجاج (حسن درجے کی) ہے