کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اُس شخص کا معاملہ جو مرض الموت میں اپنا غلام آزاد کرے جبکہ اُس کے پاس اُس کے سوا کوئی مال نہ ہو
حدیث نمبر: 1583
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حَجَّاجٌ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ بَدْرٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْمَكِّيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ، وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ «فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسْعَى فِي قِيمَتِهِ»
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے اپنے غلام کو موت کے وقت آزاد کیا جبکہ اس کے پاس اور مال نہیں تھا اور اس پر قرض تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلام کی قیمت سے قرض کی ادائیگی کے لیے کام لیا جائے۔“
حدیث نمبر: 1584
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْتَقَ مِنْهُ الثُّلُثَ، وَاسْتَسْعَى فِي الثُّلُثَيْنِ
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے موت کے وقت اپنا غلام آزاد کیا، اس کا اور کوئی مال نہ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلام کے ایک تہائی کو آزاد کیا جائے اور دو تہائی کی قیمت کی ادائیگی کے لیے غلام کو کام کرنے کا حکم دیا۔“
حدیث نمبر: 1585
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ، لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ وَقَالَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ» . ثُمَّ دَعَا مَمْلُوكِيهِ فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً ".
مظاہر امیر خان
ایک انصاری نے موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کیے جبکہ اس کا اور کوئی مال نہ تھا، نبی صلی اللہ کہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو ناراض ہوئے اور فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ اس پر نماز نہ پڑھوں، پھر قرعہ اندازی کی اور دو غلام آزاد کیے اور چار کو غلامی میں رکھا۔“
حدیث نمبر: 1586
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا خَالِدٌ، قَالَ: نا أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ.
مظاہر امیر خان
نبی صلی اللہ کہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت ابو قلابہ رحمہ اللہ نے ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔
وضاحت:
اگرچہ زمانی و مکانی اتصال کی بنیاد پر ابو قلابة کا ابو زيد الأنصاري (الصحابی) سے سماع ممکن ہے،لیکن جب تک صراحتِ سماع موجود نہ ہو، اس روایت کو مرسل (تابعی عن الصحابي) قرار دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 1587
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
مظاہر امیر خان
ابن سیرین رحمہ اللہ نے نبی صلی کہ اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔
حدیث نمبر: 1588
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ لَهُ فِي مَرَضِهِ، فَأَقْرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً "
مظاہر امیر خان
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ غلاموں میں قرعہ اندازی کی، دو آزاد کیے اور چار غلام رہنے دیے۔
حدیث نمبر: 1589
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: «يُسْتَسْعَوْنَ، فَيُعْتَقُ مِنْهُمُ الثُّلُثُ، وَيَسْعَوْنَ فِي الثُّلُثَيْنِ» .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غلاموں میں سے تہائی آزاد کیے جائیں گے اور دو تہائی قیمت کی ادائیگی کے لیے کام کریں گے۔“
حدیث نمبر: 1590
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، بِمِثْلِ قَوْلِ إِبْرَاهِيمَ.
مظاہر امیر خان
الشعبی رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے۔
حدیث نمبر: 1591
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ
مظاہر امیر خان
الشعبی رحمہ اللہ سے ایک اور روایت بھی اسی مفہوم کی ہے۔
حدیث نمبر: 1592
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مِثْلَ قَوْلِ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَإِذَا كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ أَكْثَرُ مِنْ قِيمَتِهِ فَهُوَ رَقِيقٌ يُبَاعُ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الدَّيْنُ أَقَلَّ مِنْ قِيمَتِهِ بِدِرْهَمٍ وَاحِدٍ فَمَا سِوَى ذَلِكَ، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ وَقَعَتِ السِّعَايَةُ
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر غلام پر کوئی قرض نہ ہو تو تہائی آزاد ہوں گے اور دو تہائی کام کریں گے، اور اگر غلام پر اتنا قرض ہو جو اس کی قیمت سے زیادہ ہو تو وہ فروخت کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 1593
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَمُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ فِي الرَّجُلِ يُعْتِقُ مَمْلُوكَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ، لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ قَدْرُ قِيمَتِهِ - أَوْ قَالَ أَكْثَرُ - قَالَا: «يُسْعَى فِي قِيمَتِهِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اور الشعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر غلام کی قیمت کے برابر یا زیادہ قرض ہو تو غلام قیمت کی ادائیگی کے لیے کام کرے گا۔“