سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ قَالَ: نا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْوَصِيَّةِ إِذَا عَجَزَتْ عَنِ الثُّلُثِ , قَالَ: «يُبْدَأُ بِالْعَتَاقَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر وصیت تہائی سے زیادہ ہو اور سب پوری نہ ہو سکے تو سب سے پہلے غلاموں کی آزادی کی جائے گی۔“
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، قَالَ: «يُبْدَأُ بِالْعَتَاقَةِ»
مظاہر امیر خان
مسروق بن اجدع رحمہ اللہ نے بھی فرمایا: ”سب سے پہلے غلاموں کو آزاد کیا جائے گا۔“
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " يُبْدَأُ بِالْعَتَاقَةِ، قَالَ: وَنا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّهُ قَضَى بِذَلِكَ فِي نَاسٍ مِنْ كِنْدَةَ فَبَدَأَ بِالْعَتَاقَةِ "
مظاہر امیر خان
شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”سب سے پہلے غلاموں کی آزادی کی جائے گی۔“ اور حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ نے کہا کہ شریح رحمہ اللہ نے کندہ قبیلے کے بعض لوگوں کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے سب سے پہلے غلاموں کی آزادی کا حکم دیا تھا۔
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، وَعُبَيْدَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «يُبْدَأُ بِالْعَتَاقَةِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”سب سے پہلے غلاموں کی آزادی کی جائے گی۔“
سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الرَّجُلِ يُوصِي بِالْعَتَاقِ وَغَيْرِهِ، قَالَ: «يُبْدَأُ بِالْعَتَاقِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ، فَإِذَا اسْتَكْمَلَ الْعَتَاقُ الثُّلُثَ لَمْ يَكُنْ لِأَصْحَابِ الْوَصِيَّةِ شَيْءٌ وَإِنْ زَادَ الْعَتَاقُ عَلَى الثُّلُثِ اسْتَسْعَى فِيمَا بَقِيَ وَعَتَقَ، فَإِنْ كَانَ الْعَتَاقُ أَقَلَّ مِنَ الثُّلُثِ بُدِئَ بِالْعَتَاقِ، وَمَا بَقِيَ مِنَ الثُّلُثِ كَانَ بَيْنَ أَصْحَابِ الْوَصِيَّةِ بِحِصَصِهِمْ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص غلاموں کی آزادی اور دوسری وصیت کرے تو پہلے غلام آزاد کیے جائیں گے، اگر غلاموں کی آزادی تہائی مال میں پوری ہو جائے تو دوسرے اصحاب وصیت کو کچھ نہیں ملے گا، اور اگر غلاموں کی آزادی تہائی سے زیادہ ہو جائے تو غلام سے مزدوری لی جائے گی اور غلام آزاد کر دیا جائے گا، اور اگر غلاموں کی آزادی تہائی سے کم ہو تو باقی تہائی مال اصحاب وصیت میں ان کے حصے کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔“
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
شریح رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے۔
سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " إِنَّمَا يُبْدَأُ بِالْعَتَاقِ إِذَا كَانَ مَمْلُوكًا لَهُ سَمَّاهُ بِاسْمِهِ فَذَلِكَ الَّذِي يُبْدَأُ، فَإِذَا قَالَ: أَعْتِقُوا عَنِّي نَسَمَةً فَالنَّسَمَةُ وَسَائِرُ الْوَصِيَّةِ سَوَاءٌ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غلام کی آزادی میں سبقت صرف اسی وقت دی جائے گی جب کسی مخصوص غلام کا نام لے کر آزادی کی وصیت کی جائے، لیکن اگر کہا کہ ’میرے مال سے ایک غلام آزاد کیا جائے‘ تو یہ آزادی دیگر وصیتوں کے برابر ہوگی۔“
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا أَعْتَقَ فِي وَصِيَّتِهِ مَمْلُوكًا هُوَ لَهُ فَعَجَزَتْ وَصِيَّتُهُ بُدِئَ بِهِ , فَإِذَا قَالَ: أَعْتِقُوا عَنِّي، فَبِالْحِصَصِ "
مظاہر امیر خان
جب کسی شخص نے وصیت میں اپنے غلام کا نام لے کر آزادی کی ہو اور وصیت مکمل نہ ہو تو اسی غلام سے آغاز کیا جائے گا، لیکن اگر یوں کہا ہو کہ ”میری طرف سے غلام آزاد کیا جائے“ تو سب غلام برابر ہوں گے۔
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنبأ مُطَرِّفٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «يُبْدَأُ بِالْعَتَاقَةِ» وَإِنَّ الشَّعْبِيَّ قَالَ: «يُبْدَأُ بِالْحِصَصِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غلاموں کی آزادی سے آغاز کیا جائے۔“ اور الشعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”حصص کے مطابق کیا جائے۔“
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا خَالِدٌ، وَيُونُسُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: «بِالْحِصَصِ»
مظاہر امیر خان
ابن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: ”حصص کے مطابق کیا جائے گا۔“
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «بِالْحِصَصِ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”حصص کے مطابق تقسیم ہو گا۔“
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ قَالَ: " يُبْدَأُ بِالْعَتَاقَةِ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ: بِالْحِصَصِ "
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے پہلے فرمایا: ”آزادی سے آغاز ہوگا،“ پھر فرمایا: ”حصص کے مطابق۔“