کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: کیا آدمی اپنے مال میں ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1507
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، قَالَ: نا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ قَدِمَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ قَالَ: فَمَرِضْتُ مَرَضًا أَشْفَقْتُ عَلَى نَفْسِي الْمَوْتَ، فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَدَعُ مَالًا كَثِيرًا، وَلَا أَدَعُ وَارِثًا إِلَّا ابْنَتِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: «لَا» قَالَ: فَالشَّطْرُ؟ قَالَ: «لَا» قَالَ: فَالثُّلُثُ؟ قَالَ: «الثُّلُثُ , وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ. إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً - أَظُنُّهُ قَالَ - تُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ فِيهَا حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي قَالَ: «إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً، وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكِ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں مکہ میں بیمار ہوا اور موت کا خوف ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے آئے، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میرا مال زیادہ ہے اور وارث صرف ایک بیٹی ہے، کیا میں اپنے مال کا دو تہائی صدقہ کر دوں؟“ فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: ”نصف؟“ فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: ”تہائی؟“ فرمایا: ”تہائی، اور تہائی بھی بہت ہے، بہتر ہے کہ اپنے وارثوں کو خوشحال چھوڑو، انہیں فقیری میں چھوڑنے سے بہتر ہے، اور جو خرچ اللہ کی رضا کے لئے کرو گے، اس کا تمہیں اجر ملے گا، یہاں تک کہ جو لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے۔“
حدیث نمبر: 1508
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ، هَذَا أَحَدُهُمْ يَعْنِي عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا مَرِضَ بِمَكَّةَ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَدَعُ مَالًا وَلَيْسَ لِي وَارِثٌ إِلَّا كَلَالَةٌ أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ: «لَا» قَالَ: فَبِنِصْفِهِ؟ قَالَ: «لَا»، قَالَ: فَبِثُلُثِهِ؟ قَالَ: " الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ أَهْلَكَ بِعَيْشٍ - أَوْ قَالَ: بِخَيْرٍ - خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ "
مظاہر امیر خان
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ! کیا میں اپنی ہجرت کے بعد پیچھے چھوڑ دیا جاؤں گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جو عمل اللہ کی رضا کے لئے کرو گے وہ تمہیں بلندی اور درجہ دے گا اور شاید اللہ تمہارے ذریعے کچھ لوگوں کو نفع دے اور کچھ کو نقصان۔“
حدیث نمبر: 1509
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَرِضْتُ مَرَضًا فَعَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: «أَوْصَيْتَ؟» فَقُلْتُ: نَعَمْ أَوْصَيْتُ بِمَالِي كُلِّهِ لِلْفُقَرَاءِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْصِ بِالْعُشْرِ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مَالِي كَثِيرٌ وَوَرَثَتِي أَغْنِيَاءُ , فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاقِصُنِي، وَأُنَاقِصُهُ حَتَّى قَالَ: «أَوْصِ بِالثُّلُثِ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جب میں مکہ میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لئے آئے، میں نے کہا: میرا مال زیادہ ہے اور کوئی وارث نہیں سوائے ایک بہن کے، کیا میں سارا مال وصیت کر دوں؟“ فرمایا: ”نہیں۔“ پھر آدھا؟ فرمایا: ”نہیں۔“ پھر تہائی؟ فرمایا: ”تہائی اور تہائی بھی زیادہ ہے، اپنے وارثوں کو خوشحال چھوڑنا بہتر ہے۔“
حدیث نمبر: 1510
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أنا عَطَاءٌ بْنُ السَّائبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنَّا يَبْلُغُ فِي وَصِيَّتِهِ الثُّلُثَ حَتَّى يَنْقُصَ مِنْهُ شَيْئًا لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الثُّلُثُ , وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابو عبدالرحمٰن رحمہ اللہ نے کہا: ”ہم میں سے کوئی بھی اپنی وصیت میں تہائی مال تک نہیں پہنچتا تھا، یہاں تک کہ اس میں کچھ کمی کرتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ» کی وجہ سے۔“
حدیث نمبر: 1511
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعَلِيًّا، «أَوْصَيَا بِالْخُمُسِ مِنْ أَمْوَالِهِمَا لِمَنْ لَا يَرِثُ مِنْ ذَوِي قَرَابَتِهِمَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو بکر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے اپنے مال کا پانچواں حصہ اپنے ان قریبیوں کے لئے وصیت کیا جو ان کے وارث نہ تھے۔
حدیث نمبر: 1512
سَعِيدٌ قَالَ: نا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أنا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ، قَالَ: نا الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: جَاءَ شَيْخٌ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ وَإِنَّ مَالِي كَثِيرٌ، وَتَرِثُنِي أَعْرَابٌ مَوَالٍ، كَلَالَةٌ، مَنْزُوحٌ نَسَبُهُمْ، أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ: لَا , قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ وَمَالِي كَثِيرٌ وَيَرِثُنِي أَعْرَابٌ مَوَالٍ، كَلَالَةٌ، مَنْزُوحٌ نَسَبُهُمْ، أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ: لَا , قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ يَحُطُّهُ حَتَّى بَلَغَ الْعُشْرَ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک بوڑھا شخص آیا اور کہا: ”میرا مال بہت زیادہ ہے اور میرے وارث بدوی عرب ہیں، کیا میں سارا مال وصیت کر دوں؟“ فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ وہ دسواں حصہ پر آ گیا۔“
حدیث نمبر: 1513
سَعِيدٌ قَالَ: نا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ سُوَيْدٍ يُحَدِّثُ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: " أَمَرَنِي وَالِدِي أَنْ أَسْأَلَ عُلَمَاءَ أَهْلِ الْبَصْرَةِ: أَيُّ الْوَصِيَّةِ أَمْثَلُ؟ فَمَا تَتَابَعُوا عَلَيْهِ فَهُوَ وَصِيَّتِي، فَسَأَلْتُهُمْ فَتَتَابَعُوا عَلَى الْخُمُسِ "
مظاہر امیر خان
علاء بن زیاد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس کے والد نے اسے حکم دیا کہ بصرہ کے علماء سے پوچھے کہ بہترین وصیت کیا ہے؟ سب نے پانچواں حصہ کی وصیت پر اتفاق کیا۔
حدیث نمبر: 1514
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " كَانَ الْخُمُسُ فِي الْوَصِيَّةِ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ الرُّبُعِ، وَالرُّبُعُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ الثُّلُثِ، وَكَانَ يُقَالُ: هُمَا الْمُرَّيَانِ مِنَ الْأَمْرِ: الْإِمْسَاكُ فِي الْحَيَاةِ، وَالتَّبْذِيرُ فِي الْمَمَاتِ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پانچواں حصہ کی وصیت چوتھائی سے بہتر تھی، اور چوتھائی تہائی سے بہتر، اور کہا جاتا تھا کہ زندگی میں بخل اور موت پر اسراف یہ دونوں بری باتیں ہیں۔“
حدیث نمبر: 1515
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: " تَانِكَ الْمُرَّيَانِ: الْإِمْسَاكُ فِي الْحَيَاةِ، وَالتَّبْذِيرُ عِنْدَ الْمَمَاتِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”زندگی میں بخل اور موت پر اسراف یہ دونوں بری باتیں ہیں۔“
حدیث نمبر: 1516
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «الْإِقْتَارُ فِي الْحَيَاةِ، وَالتَّبْذِيرُ عِنْدَ الْمَوْتِ، تَانِكَ الْمُرَّيَانِ مِنَ الْأَمْرِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”زندگی میں تنگی اور موت پر اسراف یہ دونوں بری باتیں ہیں۔“
حدیث نمبر: 1517
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ: «كَانَ الْخُمُسُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ الثُّلُثِ , وَأَمَّا الثُّلُثُ فَهُوَ مُنْتَهَى الْجَامِحِ»
مظاہر امیر خان
الشعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پانچواں حصہ تہائی سے زیادہ پسندیدہ تھا، اور تہائی حد سے بڑھنے والے کے لئے ہے۔“
حدیث نمبر: 1518
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ شُرَيْحٌ: «الثُّلُثُ جَهْدٌ وَهُوَ جَائِزٌ»
مظاہر امیر خان
شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تہائی مال کا وصیت کرنا سخت مشقت ہے، مگر جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 1519
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: «الْجَنَفُ فِي الْوَصِيَّةِ وَالْإِضْرَارُ فِيهَا مِنَ الْكَبَائِرِ»
مظاہر امیر خان
عکرمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وصیت میں زیادتی اور نقصان دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔“
حدیث نمبر: 1520
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «الْجَنَفُ فِي الْوَصِيَّةِ وَالْإِضْرَارُ فِيهَا مِنَ الْكَبَائِرِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”وصیت میں زیادتی اور نقصان کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔“
حدیث نمبر: 1521
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «الْحَيْفُ وَالْجَنَفُ فِي الْوَصِيَّةِ، وَالْإِضْرَارُ فِيهَا مِنَ الْكَبَائِرِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”وصیت میں ظلم اور زیادتی کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔“
حدیث نمبر: 1522
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أنا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: «مَنْ أَوْصَى بِوَصِيَّةٍ فَلَمْ يَجُرْ وَلَمْ يَحِفْ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ مَا أَعْطَاهَا، وَهُوَ صَحِيحٌ»
مظاہر امیر خان
عامر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس نے وصیت کی اور نہ زیادتی کی اور نہ ظلم کیا، اس کو اس چیز کا اجر ملے گا جو اس نے دی، جبکہ وہ تندرست ہو۔“
حدیث نمبر: 1523
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، وَهُشَيْمٌ، قَالَا جَمِيعًا: نا دَاوُدُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عُمَرَ، وَقَالَ هُشَيْمٌ: ابْنُ عَمْرٍو، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ قَالَ: قَالَ لِي: أَوْصَى أَبُوكَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَمُرْهُ فَلْيُوصِ، فَإِنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّهُ مِنْ تَمَامِ مَا نَقَصَ مِنَ الزَّكَاةِ»
مظاہر امیر خان
ثمامہ بن حزن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میرے والد نے وصیت نہیں کی تھی، تو انہوں نے فرمایا: اسے کہو کہ وصیت کرے کیونکہ یہ زکاۃ میں سے جو کمی ہوئی ہے، اسے مکمل کرتی ہے۔“
حدیث نمبر: 1524
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، قَالَ: أنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُوصِيَ الرَّجُلُ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَيَقُولُ: يَدْخُلُ فِي ذَلِكَ الْمُنْخُلُ وَنَحْوِهِ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ وصیت میں تہائی یا چوتھائی کرنے کو ناپسند کرتے تھے اور کہتے تھے کہ: ”اس میں چھانٹی اور اس جیسی چیزیں داخل ہو جاتی ہیں۔“
حدیث نمبر: 1525
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا جَمِيعًا: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُوصِيَ الرَّجُلُ بِمِثْلِ نَصِيبِ بَعْضِ الْوَرَثَةِ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنَ الثُّلُثِ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص وارثوں میں سے کسی کے برابر وصیت کرے اگرچہ وہ تہائی سے کم ہی ہو۔
حدیث نمبر: 1526
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، فِي رَجُلٍ لَهُ ثَلَاثَةُ بَنِينَ فَأَوْصَى لِرَجُلٍ بِمِثْلِ نَصِيبِ أَحَدِ وَلَدِهِ قَالَ: «يُجْعَلُ رَابِعًا»
مظاہر امیر خان
عامر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس شخص کے تین بیٹے ہوں اور وہ کسی کو اپنے ایک بیٹے کے برابر وصیت کرے تو اسے چوتھا شمار کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 1527
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عَوْفٌ، قَالَ: شَهِدْتُ هِشَامَ بْنَ هُبَيْرَةَ أُتِيَ فِي رَجُلٍ أَوْصَى لِرَجُلٍ بِمِثْلِ نَصِيبِ بَعْضِ وَلَدِهِ , فَقَالَ هِشَامٌ: «إِنْ كَانَ وَلَدُهُ ذَكَرًا فَلَهُ نَصِيبُ ذَكَرٍ، وَإِنْ كَانُوا إِنَاثًا فَلَهُ نَصِيبُ الْأُنْثَى»
مظاہر امیر خان
ہشام بن حبیرہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی نے کسی کے لئے اپنے کسی بیٹے کے برابر وصیت کی تو اگر اس کے بیٹے مرد تھے تو اسے مرد کا حصہ ملے گا اور اگر عورتیں تھیں تو عورت کا حصہ ملے گا۔“
حدیث نمبر: 1528
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ «إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ مِنْ مَالِهِ بِثُلُثٍ أَوْ رُبْعٍ أَوْ خُمُسٍ فَهُوَ مِنْ عَاجِلِ مَالِهِ وَآجِلِهِ، وَإِذَا أَوْصَى لِفُلَانٍ بِكَذَا، وَلِفُلَانٍ بِكَذَا، فَهُوَ مِنْ عَاجِلِ مَالِهِ حَتَّى يَبْلُغَ الثُّلُثَ، فَإِذَا بَلَغَ الثُّلُثَ فَهُوَ مِنَ الْعَاجِلِ وَالْآجِلِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنے مال کا تہائی، چوتھائی یا پانچواں حصہ وصیت کرے تو یہ مال کے حاضر اور مؤجل دونوں سے شمار کیا جائے گا، اور اگر کسی کے لئے کوئی معین چیز وصیت کی تو جب تک تہائی پورا نہ ہو صرف حاضر مال سے ہو گا، پھر آگے حاضر اور مؤجل دونوں سے شمار کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 1529
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: «إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ بِالثُّلُثِ أَوِ الرُّبُعِ كَانَ فِي الْعَيْنِ وَالدَّيْنِ، وَإِذَا أَوْصَى بِثَلَاثِينَ دِرْهَمًا أَوْ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا، كَانَ مِنَ الْعَيْنِ دُونَ الدَّيْنِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص تہائی یا چوتھائی وصیت کرے تو یہ نقدی اور قرض دونوں میں شامل ہو گی، اور جب کسی معین درہموں یا چیز کی وصیت ہو تو یہ نقدی سے ہی دی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 1530
سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ بِالثُّلُثِ أَوِ الرُّبُعِ كَانَتِ الْوَصِيَّةُ عَلَى الْعَاجِلِ وَالْآجِلِ فَإِذَا أَوْصَى بِدَرَاهِمَ مُسَمَّاةٍ، أَوْ بِثَوْبٍ، أَوْ بِدَابَّةٍ كَانَتِ الْوَصِيَّةُ فِي الْعَاجِلِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الثُّلُثِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص تہائی یا چوتھائی وصیت کرے تو یہ نقدی اور قرض دونوں پر جاری ہو گی، اور جب کسی مقرر درہم، کپڑے یا سواری کی وصیت کرے تو یہ نقدی میں شمار ہو گی جب تک کہ تہائی مکمل نہ ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 1531
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْمَرٍ: " مَنْ قَالَ: اجْعَلُوا ثُلُثِي حَيْثُ أَمَرَ اللَّهُ، جَعَلْنَاهُ لِمَنْ لَا يَرِثُ مِنْ ذِي قَرَابَةٍ، وَمَنْ سَمَّى شَيْئًا جَعَلْنَاهُ حَيْثُ سَمَّى "
مظاہر امیر خان
عبداللہ بن معمر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس نے کہا کہ میرے مال کا تہائی اللہ کی طرف سے جہاں چاہے وہاں خرچ کیا جائے، ہم اسے ان کے قریبی رشتہ داروں میں دے دیتے تھے جو وارث نہ ہوں، اور جس نے کسی خاص چیز کی تعیین کی تو ہم اسے وہیں دیتے تھے جہاں تعیین کی۔“
حدیث نمبر: 1532
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، وَحُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «مَنْ أَوْصَى لِغَيْرِ ذِي قَرَابَةٍ فَلِلَّذِينَ أَوْصَى لَهُمْ ثُلُثَ الثُّلُثِ، وَلِقَرَابَتِهِ ثُلُثَيِ الثُّلُثِ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو کسی غیر قریبی کے لئے وصیت کرے تو ایک تہائی میں سے ایک تہائی غیر قریبی کو اور دو تہائی قریبی رشتہ داروں کو دیا جائے۔“
حدیث نمبر: 1533
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: «مَنْ مَاتَ وَلَمْ يُوصِ لِذِي قَرَابَتِهِ فَقَدْ خَتَمَ عَمَلَهُ بِمَعْصِيَةٍ»
مظاہر امیر خان
ضحاک رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے قریبی رشتہ داروں کے لئے وصیت نہ کرے وہ اپنے عمل کو معصیت پر ختم کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1534
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَوْ كُنْتُ وَالِيًا فَأُوتَيْتُ بِمَنْ أَوْصَى لِغَيْرِ ذِي قَرَابَتِهِ رَدَدْتُ ذَلِكَ وَلَوْ بُنِيَتْ بِهِ الدُّورُ أَوِ اتُّخِذَتْ بِهِ الْأَمْوَالُ»
مظاہر امیر خان
ضحاک رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر میں حاکم ہوتا اور کوئی غیر قریبی کے لئے وصیت کرتا، تو میں اس وصیت کو رد کر دیتا، چاہے اس سے محلات بنائی جاتیں یا مال حاصل کیا جاتا۔“
حدیث نمبر: 1535
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِنَّ الْوَصِيَّةَ كَانَتْ قَبْلَ الْمِيرَاثِ، فَلَمَّا نَزَلَ الْمِيرَاثُ نَسَخَ الْمِيرَاثُ مَنْ يَرِثُ، وَبَقِيَتِ الْوَصِيَّةُ لِمَنْ لَا يَرِثُ فَهِيَ ثَابِتَةٌ، فَمَنْ أَوْصَى لِغَيْرِ ذِي قَرَابَتِهِ لَمْ تُجَزْ وَصِيَّتُهُ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ»
مظاہر امیر خان
ابن طاؤس رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وصیت پہلے تھی، جب میراث کے احکام نازل ہوئے تو وہ وارثوں کے لئے مخصوص ہو گئی اور وصیت غیر وارثین کے لئے باقی رہی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وارث کے لئے وصیت جائز نہیں»۔“
حدیث نمبر: 1536
سَعِيدٌ قَالَ: أنا أَبُو عَتَّابٍ مُسْلِمُ بْنُ عَطَاءٍ الْقُرَشِيُّ أَنَّ رَجُلًا تُوُفِّيَ فَأَوْصَى فِي قَرَابَتِهِ بِشَيْءٍ فَاسْتَقَلَّتْهُ الْقَرَابَةُ فَقَالُوا لِي: لَوْ زِدْتَهُمْ، وَكُنْتُ أَنَا الْوَصِيَّ، فَقُلْتُ: لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَزِيدَهُمْ عَلَى مَا أَمَرَ لَهُمْ، فَقَالُوا: فَهَلْ لَكَ أَنْ تَسْأَلَ الْحَسَنَ قُلْتُ: نَعَمْ، فَذَهَبْتُ مَعَ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ إِلَى الْحَسَنِ فَسَأَلَهُ حُمَيْدٌ عَنْ ذَلِكَ وَأَنَا أَسْمَعُ، فَقَالَ: «أُرَاهُ قَدْ سَمَّى لَهُمْ شَيْئًا انْتَهُوا إِلَى مَا سَمَّى لَهُمْ»
مظاہر امیر خان
مسلم بن عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی قرابت داروں کے لئے کچھ وصیت کی، مگر قرابت دار اس کو کم سمجھے، تو انہوں نے کہا: ”ان کے حصے کو بڑھا دو۔“ میں نے کہا: ”میں ان کا حصہ نہیں بڑھا سکتا۔“ پھر انہوں نے کہا: ”حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھو۔“ جب پوچھا گیا تو فرمایا: ”جو اس نے مقرر کیا ہے وہی کافی ہے۔“
حدیث نمبر: 1537
سَعِيدٌ قَالَ: نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ: أَوْصَى جَارٌ لِمَسْرُوقٍ فَدَعَاهُ لِيُشْهِدَهُ، فَوَجَدَهُ قَدْ بَذَّرَ وَأَكْثَرَ فَقَالَ مَسْرُوقٌ: «إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ بَيْنَكُمْ فَأَحْسَنَ الْقَسْمَ، فَمَنْ يَرْغَبْ بِرَأْيِهِ عَنْ رَأْيِ اللَّهِ يَضِلَّ، فَأَوْصِ لِذِي قَرَابَتِكَ مِمَّنْ لَا يَرِثُ، وَدَعِ الْمَالَ عَلَى قَسْمِ اللَّهِ، وَأَبَى أَنْ يَشْهَدَ»
مظاہر امیر خان
مسروق رحمہ اللہ کے پاس ایک ہمسایہ آیا، جو اس سے اپنی وصیت پر گواہی چاہتا تھا، مگر مسروق نے دیکھا کہ اس نے فضول خرچی اور زیادتی کی تھی، تو مسروق نے کہا: ”اللہ نے تمہارے درمیان بہترین تقسیم کی ہے، جس نے اللہ کی تقسیم کے مقابلے میں اپنی رائے کو پسند کیا وہ گمراہ ہو گیا، اپنے رشتہ داروں میں سے ان کے لئے وصیت کرو جو وارث نہیں، اور اللہ کی تقسیم پر چھوڑ دو۔“ اور گواہی دینے سے انکار کر دیا۔
حدیث نمبر: 1538
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: " حَضَرَ رَجُلًا يُوصِي , فَأَوْصَى بِأَشْيَاءَ لَا يَنْبَغِي، فَقَالَ لَهُ مَسْرُوقٌ: إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ بَيْنَكُمْ فَأَحْسَنَ الْقَسْمَ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْغَبْ بِرَأْيِهِ عَنْ رَأْيِ اللَّهِ يَضِلَّ، أَوْصِ لِذِي قَرَابَتِكَ مِمَّنْ لَا يَرِثُكَ، ثُمَّ دَعِ الْمَالَ عَلَى مَا قَسَمَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ "
مظاہر امیر خان
مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ایک شخص وصیت کر رہا تھا اور ان چیزوں کی وصیت کرنے لگا جو مناسب نہ تھیں، تو بے شک اللہ نے تمہارے درمیان بہترین تقسیم کی ہے، اور جو شخص اللہ کی تقسیم کو چھوڑ کر اپنی رائے پر چلے وہ گمراہ ہو جاتا ہے، تم اپعات کے لئے وصیت کرو جو تمہارے وارث نہیں، پھر اللہ کی تقسیم پر مال چھوڑ دو۔“
حدیث نمبر: 1539
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، فِي رَجُلٍ وَهَبَ لِأَوْلَادِهِ فَآثَرَ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ لَهُ: «إِنَّ اللَّهَ قَدْ قَسَمَ بَيْنَكُمْ فَأَحْسَنَ الْقِسْمَةَ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْغَبْ بِرَأْيِهِ عَنْ رَأْيِ اللَّهِ يَضِلَّ فَأَوْصِ لِذِي قَرَابَتِكَ مِمَّنْ لَا يَرِثُكَ، وَدَعِ الْمَالَ عَلَى قِسْمَةِ اللَّهِ»
مظاہر امیر خان
مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنی اولاد میں کسی کو دوسرے پر ترجیح دی، تو اللہ نے تمہارے درمیان بہترین تقسیم کی ہے، جو اپنی رائے کو اللہ کی رائے پر مقدم کرے وہ گمراہ ہو جائے گا، تم اپنے غیر وارث قریبیوں کے لئے وصیت کرو اور مال کو اللہ کی تقسیم پر چھوڑ دو۔“
حدیث نمبر: 1540
سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ عَطَاءٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، فِي رَجُلٍ أَوْصَى بِسَهْمٍ مِنْ مَالِهِ , قَالَ: «لَا , لَيْسَ بِشَيْءٍ، لَمْ يُبَيِّنْ»، وَقَالَ الْحَسَنُ: «لَهُ السُّدُسُ عَلَى كُلِّ حَالٍ»
مظاہر امیر خان
عطاء اور عکرمہ رحمہما اللہ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مال میں ایک حصہ وصیت کرے، وہ کچھ نہیں، کیونکہ اس نے بیان نہیں کیا۔“ اور حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس کا حق ہر حال میں چھٹا حصہ ہے۔“
حدیث نمبر: 1541
سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أنا زَائِدَةُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أنا يَسَارُ بْنُ أَبِي كَرِبٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى شُرَيْحًا فَسَأَلَهُ عَنْهَا فَقَالَ: «تُحْسَبُ الْفَرِيضَةُ فَمَا بَلَغَتْ سُهْمَانُهَا أُعْطِيَ الْمُوصَى لَهُ سَهْمًا كَأَحَدِهَا»
مظاہر امیر خان
شریح رحمہ اللہ سے ایک شخص نے پوچھا: ”جس نے مال کے حصے کی وصیت کی ہو۔“ تو فرمایا: ”مال کی تقسیم کی جائے گی اور جتنا ایک حصہ بنے گا اتنا اس وصیت کرنے والے کو دیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 1542
سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ عَطَاءٍ، وَعَنْ مَطَرٍ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي رَجُلٍ أَوْصَى لِبَنِي فُلَانٍ قَالَ: " الذَّكَرُ وَالْأُنْثَى سَوَاءٌ إِلَّا أَنْ يَكُونَ قَالَ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11]
مظاہر امیر خان
عطاء اور حسن بصری رحمہما اللہ نے فرمایا: ”جو شخص بنی فلاں کے لئے وصیت کرے تو مرد و عورت سب برابر ہوں گے، جب تک یہ نہ کہے: «لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ»۔“
حدیث نمبر: 1543
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ بِثُلُثِهِ لِبَنِي فُلَانٍ فَهُوَ لَهُمْ، الذَّكَرُ وَالْأُنْثَى سَوَاءٌ فِيهِ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص بنی فلاں کے لئے اپنے مال کے تہائی کی وصیت کرے تو وہ سب کے لئے برابر ہو گا، مرد اور عورت برابر۔“