حدیث نمبر: 1503
أنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: نا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانُوا يَكْتُبُونَ فِي صَدْرِ وَصَايَاهُمْ: هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، أَوْصَى أَنَّهُ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا، وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ، وَأَوْصَى مَنْ تَرَكَ مِنْ أَهْلِهِ أَنْ يَتَّقُوا اللَّهَ، وَيُصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِهِمْ، وَيُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ، وَأَوْصَاهُمْ بِمَا أَوْصَى بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ {يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [البقرة: 132]
مظاہر امیر خان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لوگ اپنی وصیت کے شروع میں لکھتے تھے: یہ وصیت فلاں بن فلاں کی ہے، جو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، و قیامت ضرور آئے گی جس میں کوئی شک نہیں، و اللہ قبروں سے لوگوں کو اٹھائے گا، و وہ اپنے گھر والوں کو اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے، باہم اصلاح کرنے، اللہ و اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا تھا، و ابراہیم و یعقوب علیہما السلام کی اس وصیت کو یاد دلاتا تھا «يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ»۔“
حدیث نمبر: 1504
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: قَالَ: أنا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: أَوْصَى الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ: «هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ وَأَشْهَدَ اللَّهَ عَلَى نَفْسِهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا وَجَازِيًا لِعِبَادِهِ الصَّالِحِينَ وَمُثِيبًا، أَنِّي رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا. وَرَضِيتُ لِنَفْسِي وَمَنْ أَطَاعَنِي أَنْ يَعْبُدُوا اللَّهَ فِي الْعَابِدِينَ، وَيَحْمَدُوهُ فِي الْحَامِدِينَ، وَيَنْصَحُوا لِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ»
مظاہر امیر خان
ربیع بن خثیم رحمہ اللہ نے وصیت کی: ”میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور اللہ گواہی کے لئے کافی ہے کہ میں اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مانتا ہوں، اور میں چاہتا ہوں کہ میری اطاعت کرنے والے اللہ کے عابدین میں شامل ہوں، اللہ کا شکر ادا کرنے والوں میں ہوں اور مسلمانوں کی جماعت کے خیرخواہ ہوں۔“
حدیث نمبر: 1505
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ أَبُو بِشْرٍ وَصِيَّتَهُ فَقَالَ: اكْتُبْ: «هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ، أَوْصَى أَنَّهُ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا، وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ، إِنِّي رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا، عَلَى ذَلِكَ أَحْيَا، وَعَلَيْهِ أَمُوتُ، وَعَلَيْهِ أُبْعَثُ، وَأَوْصَى أَهْلَهُ وَمَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ أَنْ تَتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ»
مظاہر امیر خان
جعفر بن ایاس رحمہ اللہ نے وصیت لکھوائی: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں، قیامت آنے والی ہے جس میں کوئی شک نہیں، اور اللہ قبروں سے زندہ کرے گا، میں اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مانتا ہوں، اسی پر زندہ ہوں گا، اسی پر مروں گا اور اسی پر اٹھایا جاؤں گا، اور اپنے گھر والوں کو اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے اور اسلام پر مرتے وقت وصیت کرتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 1506
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ عَلَى فَرَسٍ أَوْ بِرْذَوْنٍ أَبْلَقَ فَقَالَ: أَتَأْمُرُنِي أَنْ أَشْتَرِيَ هَذَا؟ قَالَ: وَمَا شَأْنُهُ؟ قَالَ رَجُلٌ أَوْصَى إِلَيَّ وَهُوَ مِنْ تَرِكَتِهِ، وَقَدْ أَخْرَجْتُهُ إِلَى السُّوقِ فَقَامَ عَلَيَّ الثَّمَنُ فَقَالَ: «لَا تَشْتَرِ مِنْ تَرِكَتِهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْتَسْلِفْ مِنْهُ»
مظاہر امیر خان
ابو اسحاق رحمہ اللہ نے روایت کی، انہوں نے کہا: ”میں نے یہ حدیث صلہ بن زفر رحمہ اللہ سے ستر سال پہلے سنی تھی، انہوں نے کہا: ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک گھوڑے یا چتکبرے گھوڑے پر آیا اور کہا: کیا آپ مجھے حکم دیتے ہیں کہ میں یہ خرید لوں؟ انہوں نے کہا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: ایک شخص نے مجھے وصیت کی ہے اور یہ اس کی ترکہ میں سے ہے، اور میں اسے بازار میں لے گیا تو اس کی قیمت مجھ پر قائم ہو گئی۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو کسی میت کی چیز کو وصی ہونے کی وجہ سے بازار میں لے جائے تو اسے خود نہ خریدے اور نہ ہی اس سے قرض لے۔“