حدیث نمبر: 1491
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ " فِي ثَلَاثَةٍ وَرِثُوا ثَلَاثَمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَأَقَرَّ أَحَدُهُمْ بِمِائَةٍ دَيْنٍ قَالَ: يُعْطِي ثُلُثَ الْمِائَةِ ثُمَّ قَالَ: هَذَا خَطَأٌ لَيْسَ يُورَثُ مِيرَاثٌ حَتَّى يُقْضَى الدَّيْنُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعْطِيَ الْمِائَةَ "
مظاہر امیر خان
عامر الشعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ تین افراد نے تین سو درہم وراثت میں حاصل کئے، ان میں سے ایک نے ایک سو درہم قرض کا اقرار کیا، تو حکم دیا گیا کہ ایک تہائی دے دے، پھر فرمایا: ”یہ غلط ہے، میراث اس وقت تقسیم ہو گی جب قرض ادا ہو چکے ہوں، اس لئے پورا قرض ادا کرے۔“
حدیث نمبر: 1492
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " إِذَا أَقَرَّ الرَّجُلُ الْوَارِثُ بِدَيْنٍ فَعَلَيْهِ بِحِصَّتِهِ فِي نَصِيبِهِ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ: يُخْرَجُ مِنْ نَصِيبِهِ كُلَّهُ "
مظاہر امیر خان
الشعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی وارث قرض کا اقرار کرے تو اپنی حصے کے بقدر قرض دے۔“ پھر فرمایا: ”اس کا سارا حصہ قرض میں جائے گا۔“
حدیث نمبر: 1493
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ فِي رَجُلٍ مَاتَ فَادَّعَى رَجُلٌ قِبَلَهُ دَيْنًا وَأَقَرَّ بِذَلِكَ بَعْضُ الْوَرَثَةِ، فَإِنْ أَقَرَّ مِنْهُمْ وَاحِدٌ فَعَلَيْهِ بِحِصَّتِهِ فِي نَصِيبِهِ وَإِنْ أَقَرَّ رَجُلَانِ أَوْ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ جَازَ عَلَى جَمِيعِهِمْ "
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر ایک میت پر کسی نے قرض کا دعویٰ کیا اور بعض ورثاء نے اس کا اقرار کیا تو جس نے اقرار کیا اس پر اپنی حصے کے بقدر قرض لازم ہے، اگر دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں اقرار کریں تو سب پر لازم ہو گا۔“
حدیث نمبر: 1494
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ فِي رَجُلٍ ادَّعَى عَلَى مَيِّتٍ أَلْفَ دِرْهَمٍ تَرَكَ الْمَيِّتُ ابْنَيْنِ لَهُ، وَتَرَكَ أَلْفَيْ دِرْهَمٍ، فَأَقَرَّ أَحَدُهُمَا وَأَبَى الْآخَرُ قَالَ: «يُعْطِي الَّذِي أَقَرَّ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی نے میت پر ایک ہزار درہم قرض کا دعویٰ کیا اور میت نے دو بیٹے چھوڑے اور دو ہزار درہم مال چھوڑا، اور ان میں سے ایک نے اقرار کیا اور دوسرے نے انکار کیا تو جس نے اقرار کیا اس پر پانچ سو درہم واجب ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 1495
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا ادَّعَى بَعْضُ الْوَرَثَةِ أَخًا أَوْ أُخْتًا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ حَتَّى يُقِرُّوا جَمِيعًا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر بعض ورثاء کسی بھائی یا بہن کا دعویٰ کریں تو جب تک سب اقرار نہ کریں وہ وارث نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 1496
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ قَالَ: «مَنْ أَقَرَّ لِوَارِثٍ بِدَيْنٍ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ يَجُزْ»
مظاہر امیر خان
شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو شخص اپنی موت کے وقت کسی وارث کے لئے قرض کا اقرار کرے تو یہ اقرار معتبر نہیں ہو گا۔“
حدیث نمبر: 1497
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ «أَنَّهُ كَانَ لَا يُجِيزُ إِقْرَارَ الرَّجُلِ عِنْدَ مَوْتِهِ بِدَيْنٍ لِوَارِثٍ»
مظاہر امیر خان
شریح رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ وہ کسی وارث کے لئے موت کے وقت قرض کے اقرار کو قبول نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1498
سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «إِذَا شَهِدَ شَاهِدَانِ أَوْ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِنَ الْوَرَثَةِ بِدَيْنٍ عَلَى الْمَيِّتِ جَازَ عَلَى جَمِيعِ الْوَرَثَةِ»
مظاہر امیر خان
الشعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب میت پر دو گواہ یا ایک مرد اور دو عورتیں ورثاء میں سے قرض کی گواہی دیں تو یہ گواہی سب ورثاء پر لازم ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1499
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا سَيَّارٌ قَالَ: قَالَ حَمَّادُ. . .، إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ: «إِذَا شَهِدَ بَعْضُ الْوَرَثَةِ بِدَيْنٍ عَلَى الْمَيِّتِ فَفِي أَنْصِبَائِهِمْ، أَوْ يُتْبِعَانِ بِهِ سَائِرَ الْوَرَثَةِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر بعض ورثاء میت پر قرض کی گواہی دیں تو اپنی اپنی حصے میں ادا کریں یا دوسرے ورثاء پر بھی الزام لگائیں۔“
حدیث نمبر: 1500
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا أَقَرَّ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ بِصَدَاقِهَا عِنْدَ مَوْتِهِ جَازَ لَهَا صَدَاقُ مِثْلِهَا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی نے اپنی بیوی کے حق مہر کا اپنی موت کے وقت اقرار کیا تو اسے عورت کے مثل حق مہر کے مطابق دینا لازم ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1501
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ قَالَ مِثْلَ قَوْلِ الْحَسَنِ
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے بھی حسن بصری رحمہ اللہ کی بات کی تائید کی۔
حدیث نمبر: 1502
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَا يَجُوزُ إِقْرَارُهُ لَهَا عِنْدَ الْمَوْتِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ إِقْرَارُهُ فِي الصِّحَّةِ قَبْلَ الْمَرَضِ لِأَنَّهَا وَارِثٌ وَلَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ» . قَالَ هُشَيْمٌ: وَهُوَ الْقَوْلُ "
مظاہر امیر خان
الشعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص اپنی موت کے وقت بیوی کے حق مہر کا اقرار کرے تو یہ اقرار جائز نہیں، سوائے اس کے کہ صحت کی حالت میں یہ اقرار کیا ہو، کیونکہ وہ وارث ہے اور وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں۔“