سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا سَيَّارٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، فِي الرَّجُلِ إِذَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَرَدَّهَا عَلَيْهِ الْمِيرَاثُ قَالَ الشَّعْبِيُّ: «كُلْ , فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُطْعِمْكَ حَرَامًا»
مظاہر امیر خان
الشعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اگر کسی نے صدقہ کیا اور پھر وراثت کے ذریعے وہ مال واپس آ گیا تو الشعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کھا لو، اللہ نے تمہیں حرام نہیں کھلایا۔“
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «كَانُوا يُحِبُّونَ أَنْ يُوَجِّهُوهَا، فِي الْوَجْهِ الَّذِي كَانُوا وَجَّهُوهَا»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ پسند کرتے تھے کہ جو صدقہ جس نیت سے دیا تھا اسی نیت پر باقی رکھا جائے۔“
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ أَوْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: «كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ سِهَامُ الْقُرْآنِ»
مظاہر امیر خان
مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو مال قرآن کی سہم بندی کے ذریعے واپس تمہیں ملے، اسے کھا لو۔“
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «مَا رَدَّ عَلَيْكَ الْقُرْآنُ فَكُلْ»
مظاہر امیر خان
الشعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو مال قرآن واپس کرے وہ کھا لو۔“
سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّ أُمِّي مَاتَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُجِرَتْ وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي مِيرَاثِكَ»، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمٌ فَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أَصُومَ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے اپنی ماں کو ایک باندی صدقہ میں دی تھی اور میری ماں فوت ہو گئی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اس کا اجر مل گیا اور وہ باندی تمہارے ورثے میں تمہاری طرف واپس آگئی۔“ اس عورت نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری ماں پر روزے کا قرض تھا، کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ رَجُلًا تَصَدَّقَ عَلَى أُمِّهِ بِأَمَةٍ فَكَاتَبَتْهَا أمه، فَمَاتَتْ أُمُّهُ وَتَرَكَتْ مُكَاتَبَتَهَا، فَقَالَ لَهُ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: «أَنْتَ تَرِثُ أُمَّكَ» فَرَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ فِي مِثْلِ السَّبِيلِ الَّذِي كُنْتَ جَعَلْتَهُ فِيهِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایک شخص نے اپنی ماں کو باندی صدقہ میں دی، پھر ماں نے اسے مکاتب کر دیا، ماں فوت ہو گئی اور مکاتبت ادھوری تھی، تو تم اپنی ماں کے وارث ہو، اگر چاہو تو اس مال کو اسی مصرف میں لگا دو جس مصرف میں پہلے لگایا تھا۔“
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي الرَّجُلِ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ ثُمَّ يَرِثُهَا قَالَ: «كَانَ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا وَيَكْرَهُ أَنْ يَشْتَرِيَهَا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی صدقہ کرے اور پھر وہ مال وارثت میں اس کے پاس آئے تو اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ اسے خریدنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔“
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، وَحُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ حَائِطِي صَدَقَةٌ وَإِنَّهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَجَاءَ أَبَوَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا: إِنَّهُ لَيْسَ لَنَا عَيْشٌ غَيْرَ هَذَا، فَرَدَّهُ عَلَيْهِمَا، فَمَاتَ أَبَوَاهُ فَوَرِثَهُ " قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: وَابْنَا أَبِي بَكْرٍ، قَالَ سَعِيدٌ: ابْنَيْ أَبِي بَكْرٍ: عَبْدُ اللَّهِ وَمُحَمَّدٌ
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: ”میرا باغ صدقہ ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے۔“ پھر ان کے والدین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”ہمارے پاس اس کے سوا کوئی گزر بسر کا ذریعہ نہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ باغ ان کو واپس کر دیا، جب وہ دونوں فوت ہو گئے تو عبداللہ نے اس باغ کو وارثت میں پا لیا۔