حدیث نمبر: 1230
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ: نا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: مَاتَ ابْنُ ابْنٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَتَرَكَ جَدَّهُ عُمَرَ وَإِخْوَتَهُ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَجَعَلَ زَيْدٌ يَحْسِبُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: شَغِّبْ مَا كُنْتَ مُشَغِّبًا، فَلَعَمْرِي إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنِّي أَحَقُّ بِهِ مِنْهُمْ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پوتے کا انتقال ہوا اور اس نے اپنے دادا عمر اور اپنے بھائی چھوڑے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا، زید حساب کرتے رہے تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بحث نہ کرو، اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ میں ان پر زیادہ حق رکھتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 1231
سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: «لَوْ وَلِيتُ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا لَأَنْزَلْتُ الْجَدَّ أَبًا»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر مجھے لوگوں کے معاملات کا اختیار ملے تو میں دادا کو والد کے مقام پر رکھوں گا۔“
حدیث نمبر: 1232
سَعِيدٌ قَالَ: نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجْرَأُكُمْ عَلَى قَسْمِ الْجَدِّ أَجْرَأُكُمْ عَلَى النَّارِ»
مظاہر امیر خان
سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو دادا کی تقسیم میں جرأت کرے وہ آگ میں گرنے کی جرأت کرے۔“
حدیث نمبر: 1233
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو بِشْرٍ، قَالَ: نا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شَيْخٌ، مِنْ مُرَادٍ عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَقَحَّمَ جَرَاثِيمَ جَهَنَّمَ فَلْيَقْضِ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جو شخص چاہے کہ جہنم کے انگاروں میں جا گرے وہ دادا اور بھائیوں کے درمیان فیصلہ کرے۔“
حدیث نمبر: 1234
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ شَيْخٍ، مِنْ مُرَادٍ، عَنْ عَلِيٍّ، مِثْلَهُ
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت ہے۔
حدیث نمبر: 1235
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى عَامِلٍ لَهُ أَنْ أَعْطِ الْجَدَّ مَعَ الْأَخِ الشَّطْرَ، وَمَعَ الْأَخَوَيْنِ الثُّلُثَ، وَمَعَ الثَّلَاثَةِ الرُّبُعَ، وَمَعَ الْأَرْبَعَةِ الْخُمُسَ، وَمَعَ الْخَمْسَةِ السُّدُسَ، فَإِذَا كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلَا تَنْقُصْهُ مِنَ السُّدُسِ "
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے عامل کو لکھا: ”دادا کو بھائی کے ساتھ نصف دو، دو بھائیوں کے ساتھ تہائی دو، تین بھائیوں کے ساتھ چوتھائی دو، چار بھائیوں کے ساتھ پانچواں حصہ دو، پانچ بھائیوں کے ساتھ چھٹا حصہ دو، اور اگر بھائی زیادہ ہوں تو دادا کا حصہ چھٹا حصہ سے کم نہ کرنا۔“
حدیث نمبر: 1236
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعَبْدُ اللَّهِ يُقَاسِمَانِ بِالْجَدِّ مَعَ الْإِخْوَةِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ السُّدُسُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ مُقَاسَمَةِ الْإِخْوَةِ، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ: «إِنِّي لَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ أَجْحَفْنَا بِالْجَدِّ، فَإِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَقَاسِمْ بِهِ مَعَ الْإِخْوَةِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ الثُّلُثُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ مُقَاسَمَتِهِمْ. فَأَخَذَ بِذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما بھائیوں کے ساتھ دادا کا مال تقسیم کرتے تھے، یہاں تک کہ اگر دادا کے لیے بھائیوں کے ساتھ تقسیم کرنا اس کے لیے نقصان دہ ہوتا تو اسے چھٹا حصہ دے دیتے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو لکھا: ”ہم نے دادا کے ساتھ زیادتی کی، اب اگر یہ خط تمہیں ملے تو دادا کو بھائیوں کے ساتھ تقسیم کرو یہاں تک کہ اس کے لیے تہائی حصہ تقسیم سے بہتر ہو۔“
حدیث نمبر: 1237
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ «إِنَّا كُنَّا أَعْطَيْنَا الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ السُّدُسَ وَلَا أَحْسَبُنَا إِلَّا قَدْ أَجْحَفْنَا بِهِ فَإِذَا أَتَاكَ كِتَابِي هَذَا فَأَعْطِ الْجَدَّ مَعِ الْأَخِ الشَّطْرَ، وَمَعَ الْأَخَوَيْنِ الثُّلُثَ، فَإِذَا كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلَا تُنْقِصْهُ مِنَ الثُّلُثَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا: ”ہم دادا کو بھائیوں کے ساتھ چھٹا حصہ دیتے تھے اور غالباً ہم نے اس کے ساتھ زیادتی کی، پس جب میرا یہ خط تمہیں پہنچے تو بھائی کے ساتھ دادا کو نصف دو، دو بھائیوں کے ساتھ تہائی دو، اور اگر بھائی زیادہ ہوں تو دادا کا حصہ تہائی سے کم نہ کرنا۔“
حدیث نمبر: 1238
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، قَالَ: أنا الْهَيْثَمُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ التَّوْأَمِ الضَّبِّيِّ، قَالَ: تُوُفِّيَ أَخٌ لَنَا فِي عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَتَرَكَ جَدَّهُ وَإِخْوَتَهُ، فَأَتَيْنَا ابْنَ مَسْعُودٍ، فَأَعْطَى الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ السُّدُسَ، ثُمَّ تُوُفِّيَ أَخٌ لَنَا آخَرُ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ، وَتَرَكَ جَدَّهُ وَإِخْوَتَهُ، فَأَتَيْنَا ابْنَ مَسْعُودٍ، فَأَعْطَى الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ الثُّلُثَ، فَقُلْنَا: أَمَا أَتَيْنَاكَ فِي أَخِينَا الْأَوَّلِ فَجَعَلْتَ لِلْجَدِّ مَعَ الْإِخْوَةِ السُّدُسَ، ثُمَّ جَعَلْتَ لَهُ الْآنَ الثُّلُثَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «إِنَّمَا نَقْضِي بِقَضَاءِ أَئِمَّتِنَا»
مظاہر امیر خان
ہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک بھائی کے انتقال پر معاملہ پیش کیا جس نے دادا اور بھائی چھوڑے تھے، تو آپ نے دادا کو بھائیوں کے ساتھ چھٹا حصہ دیا۔ پھر دوسرے بھائی کے انتقال پر بھی ایسا ہی معاملہ پیش ہوا، اس وقت آپ نے دادا کو تہائی حصہ دیا۔ جب ہم نے پوچھا کہ پہلے چھٹا اور اب تہائی کیوں؟ تو فرمایا: ”ہم اپنے حکمرانوں کے فیصلوں کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 1239
سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، " أُتِيَ فِي فَرِيضَةٍ فَفَرَضَهَا، فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الْقَابِلِ شَهِدْتُهُ أُتِيَ فِي تِلْكَ الْفَرِيضَةِ فَفَرَضَهَا عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: شَهِدْتُكَ عَامَ الْأَوَّلِ فَرَضْتَهَا عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، فَقَالَ: تِلْكَ عَلَى مَا فَرَضْنَا، وَهَذِهِ عَلَى مَا فَرَضْنَا "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک مسئلے پر سوال کیا گیا تو آپ نے ایک طرح فیصلہ دیا، پھر اگلے سال اسی مسئلے پر مختلف فیصلہ کیا۔ جب سوال کیا گیا تو فرمایا: ”پہلا فیصلہ اسی وقت کے لیے تھا اور یہ فیصلہ اب کے لیے۔“
وضاحت:
سِماک بن الفضل مختلف فیہ، بعض نے ضعیف کہا، لیکن اگر اس کی روایت متابعات سے ہو تو قبول کی جاتی ہے، مسعود بن الحکم تابعی، یہ روایت صرف اسی سند سے معروف ہے، ان کی توثیق محدود ہے ? سند میں کچھ ضعف ہے (خصوصاً سِماک اور مسعود کے سبب)، مگر متن تاریخی و اجتہادی سیاق میں قوی المعنی ہے۔
حدیث نمبر: 1240
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ مَرَّةً: عَنْ رَجُلٍ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْخَبَرَ، ثُمَّ أَمْلَاهُ عَلَيْنَا وَلَمْ يَذْكُرْ رَجُلٌ قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُ عَنِ الْجَدِّ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ زَيْدٌ: «اللَّهُ أَعْلَمُ بِالْجَدِّ، فَقَدْ شَهِدْتُ الْخَلِيفَتَيْنِ قَبْلَكَ وَهُمَا يُعْطِيَانِ الْجَدَّ مَعِ الْأَخِ الشَّطْرَ وَمَعَ الْأَخَوَيْنِ الثُّلُثَ، فَإِذَا كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ لَمْ يَنْقُصَاهُ مِنَ الثُّلُثِ»
مظاہر امیر خان
روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دادا کے بارے میں لکھا، تو زید نے جواب دیا: ”میں نے تم سے پہلے دونوں خلفاء کو دیکھا، وہ بھائی کے ساتھ دادا کو نصف دیتے تھے، دو بھائیوں کے ساتھ تہائی، اور زیادہ بھائیوں پر دادا کا حصہ تہائی سے کم نہ کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 1241
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «يُقَاسِمُ الْجَدُّ الْإِخْوَةَ مَا لَمْ يَنْقُصْ مِنَ الثُّلُثِ، فَإِذَا اجْتَمَعَ الْإِخْوَةُ أُعْطِيَ الْجَدُّ الثُّلُثَ، وَأُعْطِيَ الْإِخْوَةُ مَا بَقِيَ. وَكَانَ يُوَرَّثُ الْجَدُّ مَعَ ابْنٍ السُّدُسَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”دادا بھائیوں کے ساتھ مال میں شریک ہوتا ہے جب تک کہ اس کا حصہ تہائی سے کم نہ ہو، پھر اسے تہائی دیا جاتا ہے، اور بیٹے کے ساتھ دادا کو چھٹا حصہ ملتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1242
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ فِي زَوْجٍ وَأُمٍّ وَأُخْتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَجَدٍّ. قَالَ: قَالَ فِيهَا عَلِيٌّ: «لِلزَّوْجِ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ، وَلِلْأُمِّ سَهْمَانِ، وَلِلْجَدِّ سَهْمٌ، وَلِلْأُخْتِ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ» وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «لِلزَّوْجِ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ، وَلِلْأُمِّ سَهْمٌ، وَلِلْجَدِّ سَهْمٌ، وَلِلْأُخْتِ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ» وَقَالَ فِيهَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: «لِلزَّوْجِ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ، وَلِلْأُمِّ سَهْمَانِ، وَلِلْجَدِّ سَهْمٌ، وَلِلْأُخْتِ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ، ثُمَّ يُضْرَبُ جَمِيعُ السِّهَامِ فِي ثَلَاثَةٍ، فَيَكُونُ سَبْعَةً وَعِشْرِينَ سَهْمًا، لِلزَّوْجِ مِنْ ذَلِكَ تِسْعَةٌ، وَلِلْأُمِّ سِتَّةٌ، وَيَبْقَى اثْنَا عَشَرَ سَهْمًا، وَلِلْجَدِّ مِنْ ذَلِكَ ثَمَانِيَةٌ، وَلِلْأُخْتِ أَرْبَعَةٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ تھا کہ اگر شوہر، ماں، باپ و ماں کی طرف سے بہن، اور دادا وارث ہوں تو شوہر کو تین حصے، ماں کو دو حصے، دادا کو ایک حصہ، اور بہن کو تین حصے دیے جائیں، جبکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ماں کو ایک حصہ دیا۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے تقسیم کو تین سے ضرب دے کر کل 27 حصے بنائے اور ان کے مطابق تقسیم کی۔
وضاحت:
امام ذہبی (سیر أعلام النبلاء، 4/212): "لم يلق من الصحابة إلا أنس بن مالك، على خلاف فيه."
➤ یعنی: ان کی ملاقات صحابہ سے ثابت نہیں سوائے انس بن مالک کے، وہ بھی اختلاف کے ساتھ۔
ابن سعد (الطبقات الكبرى): "وكان لا يروي عن الصحابة كثيرًا، إنما يروي عن التابعين."
➤ یعنی: وہ زیادہ تر تابعین سے روایت کرتے تھے، صحابہ سے براہِ راست روایت بہت کم ہے۔
ابن حجر (تهذيب التهذيب): "مرسل كثير."
➤ یعنی: ان کی روایات اکثر مرسل (یعنی صحابی کو بلاواسطہ نقل کرتے ہیں) ہوتی ہیں۔
➤ یعنی: ان کی ملاقات صحابہ سے ثابت نہیں سوائے انس بن مالک کے، وہ بھی اختلاف کے ساتھ۔
ابن سعد (الطبقات الكبرى): "وكان لا يروي عن الصحابة كثيرًا، إنما يروي عن التابعين."
➤ یعنی: وہ زیادہ تر تابعین سے روایت کرتے تھے، صحابہ سے براہِ راست روایت بہت کم ہے۔
ابن حجر (تهذيب التهذيب): "مرسل كثير."
➤ یعنی: ان کی روایات اکثر مرسل (یعنی صحابی کو بلاواسطہ نقل کرتے ہیں) ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 1243
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا الْمُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، مِثْلَ ذَلِكَ، وَزَادَ هُشَيْمٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،: «لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ الثُّلُثُ، وَلِلْجَدِّ مَا بَقِيَ، وَلَيْسَ لِلْأُخْتِ شَيْءٌ»
مظاہر امیر خان
یہی روایت سیدنا علی، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہم سے ہے، اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ اضافہ فرمایا کہ: ”شوہر کو نصف، ماں کو تہائی، اور دادا کو بقیہ دیا جائے اور بہن کو کچھ نہ ملے۔“
حدیث نمبر: 1244
سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ، وَزَيْدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ.
مظاہر امیر خان
سیدنا علی، سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا زید بن ثابت اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی یہی روایت ہے۔
حدیث نمبر: 1245
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ، وَزَيْدٍ مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
یہی بات سیدنا علی، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہم سے بھی روایت ہے۔
حدیث نمبر: 1246
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعَبْدُ اللَّهِ «لَا يُفَضِّلَانِ أُمًّا عَلَى جَدٍّ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما ماں پر دادا کو فضیلت نہ دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 1247
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ «فِي رَجُلٍ تَرَكَ جَدَّهُ وَأُمَّهُ وَأُخْتَهُ، فَجَعَلَ لِلْأُخْتِ النِّصْفَ، وَلِلْأُمِّ الثُّلُثَ، وَلِلْجَدِّ السُّدُسَ» وَإِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ جَعَلَ لِلْأُخْتِ النِّصْفَ، وَلِلْأُمِّ السُّدُسَ، وَلِلْجَدِّ الثُّلُثَ " وَإِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ جَعَلَهَا مِنْ تِسْعَةٍ، فَجَعَلَ لِلْأُمِّ الثُّلُثَ، وَجَعَلَ مَا بَقِيَ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْأُخْتِ، لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک مسئلے میں جہاں وارث دادا، ماں اور بہن تھے، فیصلہ کیا کہ بہن کو نصف، ماں کو تہائی اور دادا کو چھٹا حصہ دیا جائے۔ جبکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بہن کو نصف، ماں کو چھٹا، اور دادا کو تہائی دیا۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ماں کو تہائی دیا اور باقی مال دادا اور بہن کے درمیان لڑکے کے دو حصے اور لڑکی کے ایک حصہ کے تناسب سے تقسیم کیا۔
حدیث نمبر: 1248
سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أُتِيَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ فِي هَذِهِ الْفَرِيضَةِ، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: مَا تَقُولُ فِيهَا؟ فَقُلْتُ: وَمَا هِيَ؟ قَالَ: أُمٌّ وَجَدٌّ وَأُخْتٌ. قُلْتُ: مَا قَالَ فِيهَا الْأَمِيرُ؟ فَأَخْبَرَنِي بِقَوْلِهِ، فَقُلْتُ: لَهَذَا قَضَاءُ أَبِي تُرَابٍ - يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - وَقَالَ فِيهَا سَبْعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ فِيهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَابْنُ مَسْعُودٍ: لِلْأُخْتِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ السُّدُسُ، وَلِلْجَدِّ الثُّلُثُ. وَقَالَ فِيهَا عَلِيٌّ: لِلْأُمِّ الثُّلُثُ، وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ، وَلِلْجَدِّ السُّدُسُ، وَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ: لِلْأُمِّ الثُّلُثُ، وَلِلْأُخْتِ الثُّلُثُ، وَلِلْجَدِّ الثُّلُثُ، فَقَالَ الْحَجَّاجُ: لَيْسَ هَذَا بِشَيْءٍ، وَقَالَ فِيهَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: هِيَ مِنْ تِسْعَةِ أَسْهُمٍ، لِلْأُمِّ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ، وَلِلْجَدِّ أَرْبَعَةٌ، وَلِلْأُخْتِ سَهْمَانِ. وَقَالَ فِيهَا ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ الزُّبَيْرِ: لِلْأُمِّ الثُّلُثُ، وَلِلْجَدِّ مَا بَقِيَ، وَلَيْسَ لِلْأُخْتِ شَيْءٌ
مظاہر امیر خان
حجاج بن یوسف کے پاس ایک مسئلہ لایا گیا: ماں، دادا اور بہن کا۔ اس نے مجھ سے پوچھا، میں نے کہا: یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سات صحابہ کا فیصلہ ہے: سیدنا عمر، سیدنا عبداللہ بن مسعود نے کہا: ”بہن کو نصف، ماں کو چھٹا اور دادا کو تہائی۔“ سیدنا علی نے کہا: ”ماں کو تہائی، بہن کو نصف اور دادا کو چھٹا۔“ سیدنا عثمان نے کہا: ”تینوں کو تہائی تہائی۔“ حجاج نے کہا: یہ کچھ نہیں۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نو حصوں میں تقسیم کرو، ماں کے تین، دادا کے چار اور بہن کے دو۔“ سیدنا ابن عباس اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”ماں کو تہائی، دادا کو باقی، بہن کو کچھ نہیں۔“
حدیث نمبر: 1249
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فِي ابْنَةٍ وَأُخْتٍ وَجَدٍّ قَالَ: «أَعْطَى الِابْنَةَ النِّصْفَ، وَجَعَلَ مَا بَقِيَ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْأُخْتِ، لَهُ نِصْفٌ وَلَهَا نِصْفٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیٹی، بہن اور دادا کے مسئلے میں فیصلہ کیا کہ بیٹی کو نصف دیا جائے اور جو باقی بچے اسے دادا اور بہن میں برابر تقسیم کیا جائے۔
حدیث نمبر: 1250
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ عَنِ ابْنَةٍ، وَأُخْتَيْنِ، وَجَدٍّ، فَقَالَ: «لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَجَعَلَ مَا بَقِيَ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْأُخْتَيْنِ، لَهُ نِصْفٌ وَلَهُمَا نِصْفٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیٹی، دو بہنوں اور دادا کے مسئلے میں فیصلہ کیا کہ بیٹی کو نصف دیا جائے اور باقی دادا اور دونوں بہنوں میں برابر تقسیم ہو۔
حدیث نمبر: 1251
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ عَنِ ابْنَةٍ وَثَلَاثِ أَخَوَاتٍ وَجَدٍّ «فَأَعْطَى الِابْنَةَ النِّصْفَ، وَجَعَلَ لِلْجَدِّ خُمْسَيْ مَا بَقِيَ، وَأَعْطَى لِلْأَخَوَاتِ خُمْسًا خُمْسًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیٹی، تین بہنوں اور دادا کے مسئلے میں فیصلہ کیا کہ بیٹی کو نصف دیا جائے، دادا کو بقیہ کے پانچویں حصے میں سے دو حصے دیے جائیں، اور ہر بہن کو ایک ایک پانچواں حصہ۔
حدیث نمبر: 1252
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ «لَا يُقَاسِمُ بِالْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ مَعَ الْإِخْوَةِ مِنْ أَبٍ وَأُمٍّ، وَلَا بِأَخَوَاتٍ مِنْ أَبٍ مَعَ أَخَوَاتٍ مِنْ أَبٍ وَأُمٍّ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”بھائیوں کے ساتھ صرف باپ کی طرف سے بہنوں یا بھائیوں کو باپ و ماں کی طرف سے بہنوں یا بھائیوں کے ساتھ شریک نہیں کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 1253
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ «لَا يَزِيدُ الْجَدَّ مَعَ الْوَلَدِ عَلَى السُّدُسِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول تھا: ”اولاد کے ساتھ دادا کا حصہ چھٹا ہی رہے گا، اس سے زیادہ نہیں ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1254
سَعِيدٌ قَالَ: نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، فِي ابْنَةٍ وَأُخْتٍ وَجَدٍّ قَالَ: «لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِلْجَدِّ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیٹی، بہن اور دادا کے معاملے میں فیصلہ کیا کہ: ”بیٹی کو نصف، دادا کو چھٹا اور باقی بہن کو دیا جائے۔“
حدیث نمبر: 1255
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَّثَ إِخْوَةً مِنْ أُمٍّ مَعَ جَدٍّ فَقَدْ كَذَبَ»
مظاہر امیر خان
عامر شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس نے یہ کہا کہ کسی صحابی نے دادا کے ساتھ ماں کی طرف سے بہنوں کو وارث بنایا ہے، وہ جھوٹا ہے۔“