کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ» کا بیان
حدیث نمبر: 600
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سَبْعٌ صِهْرٌ، وَسَبْعٌ نَسَبٌ، وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”سات رشتے صہری ہیں، اور سات نسبی، اور رضاعت سے وہی حرام ہوتا ہے جو نسب سے حرام ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 601
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي شَمْخٍ، فَرَأَى بَعْدُ أُمَّهَا، فَأَعْجَبَتْهُ، فَذَهَبَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، وَلَمْ أَدْخُلْ بِهَا، ثُمَّ أَعْجَبَتْنِي أُمُّهَا، فَأُطَلِّقُ الْمَرْأَةَ وَأَتَزَوَّجُ أُمَّهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَطَلَّقَهَا، وَتَزَوَّجَ أُمَّهَا، فَأَتَى عَبْدُ اللهِ الْمَدِينَةَ، فَسَأَلَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: لَا يَصْلُحُ، ثُمَّ قَدِمَ، فَأَتَى بَنِي شَمْخٍ، فَقَالَ: أَيْنَ الرَّجُلُ الَّذِي تَزَوَّجَ أُمَّ الْمَرْأَةِ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَهُ ؟ قَالُوا: هَاهُنَا، قَالَ: فَلْيُفَارِقْهَا، قَالُوا: وَقَدْ نَثَرَتْ لَهُ بَطْنَهَا ؟ ! قَالَ: فَلْيُفَارِقْهَا فَإِنَّهَا حَرَامٌ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ .
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے بنی شمخ کی ایک عورت سے نکاح کیا، پھر اس کی ماں کو دیکھا اور وہ اسے پسند آ گئی۔ اس نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”میں نے ایک عورت سے نکاح کیا لیکن ابھی اس سے تعلق قائم نہیں کیا، پھر مجھے اس کی ماں پسند آ گئی، تو کیا میں اسے طلاق دے کر اس کی ماں سے نکاح کر سکتا ہوں؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔“ چنانچہ اس نے اسے طلاق دے کر اس کی ماں سے نکاح کر لیا۔ بعد میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مدینہ گئے اور صحابہ سے دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: ”یہ نکاح جائز نہیں۔“ پھر وہ واپس آئے اور بنی شمخ کے پاس گئے اور پوچھا: ”وہ شخص کہاں ہے جس نے اس عورت کی ماں سے نکاح کیا جو پہلے اس کے نکاح میں تھی؟“ انہوں نے بتایا کہ وہ یہاں ہے۔ تو انہوں نے فرمایا: ”اسے فوراً علیحدہ ہو جانا چاہیے۔“ لوگوں نے کہا: ”وہ تو حاملہ ہو چکی ہے!“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پھر بھی، اسے فوراً علیحدہ ہو جانا چاہیے، کیونکہ وہ اس پر اللہ عزوجل کی طرف سے حرام ہے۔“
حدیث نمبر: 602
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: ائْتُوا بَنِي شَمْخٍ فَسَلُوهُمْ .
مظاہر امیر خان
شریح رحمہ اللہ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”بنی شمخ کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو۔“
حدیث نمبر: 603
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، حَتَّى مَاتَتْ، أَوْ طَلَّقَهَا، أَيَتَزَوَّجُ بِهَا ابْنُهُ ؟ قَالَ: فِيهِ قَتَلَ دَاوُدُ ابْنَهُ أُدِينَ .
مظاہر امیر خان
ابن ابی نجیح رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور دخول سے پہلے ہی اسے طلاق دے دے یا وہ فوت ہو جائے، تو کیا اس کا بیٹا اس سے نکاح کر سکتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”اسی مسئلے میں داؤد علیہ السلام نے اپنے بیٹے ادین کو قتل کر دیا تھا۔“
حدیث نمبر: 604
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ { وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ } قَالَ: هِيَ مُبْهَمَةٌ، فَأَرْسِلُوا مَا أَرْسَلَ اللهُ، وَاتَّبِعُوا مَا بَيَّنَ اللهُ، وَرَخَّصَ فِي الرَّبِيبَةِ إِذَا لَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِأُمِّهَا، وَكَرِهَ الْأُمَّ عَلَى كُلِّ حَالٍ .
مظاہر امیر خان
مسروق رحمہ اللہ سے ﴿وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ﴾ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: ”یہ حرمت قطعی ہے، پس جسے اللہ نے مبہم رکھا، اسے مبہم ہی چھوڑو اور جسے واضح کیا، اس کی پیروی کرو۔ اللہ نے سوتیلی بیٹی کے معاملے میں اس وقت نرمی رکھی جب اس کی ماں سے دخول نہ ہوا ہو، لیکن سوتیلی ماں کو ہر حال میں حرام قرار دیا۔“