کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا» کا بیان
حدیث نمبر: 584
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ - فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا } - قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا حَضَرَ فَقَالَ لَهُ: أَوْصِ لِفُلَانٍ، أَوْصِ لِفُلَانٍ، وَافْعَلْ كَذَا، وَافْعَلْ كَذَا، حَتَّى يَضُرَّ ذَلِكَ بِوَرَثَتِهِ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: { وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ } قَالَ: لِيَنْظُرُوا لِوَرَثَةِ هَذَا كَمَا يَنْظُرُ أَحَدُهُمْ لِوَرَثَةِ نَفْسِهِ، فَلْيَتَّقُوا اللهَ، وَلْيَأْمُرُوهُ بِالْعَدْلِ وَالْحَقِّ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: جب کسی شخص کی وفات کا وقت آتا تو لوگ اسے وصیت کرنے لگتے کہ فلاں کے لیے وصیت کرو، فلاں کے لیے وصیت کرو، یہ کام کرو، وہ کام کرو، یہاں تک کہ یہ اس کے وارثوں کے حق میں نقصان دہ ہو جاتا، تو اللہ عزوجل نے فرمایا: اور انہیں ڈرنا چاہیے جو اگر اپنے پیچھے کمزور بچے چھوڑ جاتے تو ان کے بارے میں خوف محسوس کرتے، یعنی انہیں مرنے والے کے وارثوں کے بارے میں اسی طرح سوچنا چاہیے جیسے وہ اپنی اولاد کے بارے میں سوچتے ہیں، پس اللہ سے ڈریں اور اسے عدل و حق کی وصیت کریں۔
حدیث نمبر: 585
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّهُ حَضَرَ رَجُلًا يُوصِي، فَآثَرَ بَعْضَ الْوَرَثَةِ عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَسَمَ بَيْنَكُمْ فَأَحْسَنَ الْقَسْمَ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْغَبْ بِرَأْيِهِ عَنْ رَأْيِ اللهِ تَعَالَى يَضِلَّ، فَأَوْصِ لِذِي قَرَابَةٍ مِمَّنْ لَا يَرِثُ، ثُمَّ دَعِ الْمَالَ كَمَا قَسَمَهُ اللهُ .
مظاہر امیر خان
مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ ایک شخص کے پاس موجود تھے جو اپنی وفات کے وقت وصیت کر رہا تھا اور بعض وارثوں کو دوسروں پر ترجیح دے رہا تھا، تو انہوں نے اس سے کہا: بےشک اللہ عزوجل نے تمہارے درمیان تقسیم کی ہے اور بہترین تقسیم فرمائی ہے، اور جو کوئی اللہ کے فیصلے کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دے گا وہ گمراہ ہو جائے گا، پس اس شخص کے لیے وصیت کرو جو تمہارا قریبی رشتہ دار ہو لیکن وارث نہ ہو، اور پھر مال کو اسی تقسیم پر چھوڑ دو جیسا کہ اللہ نے مقرر فرمایا ہے۔