کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى» کا بیان
حدیث نمبر: 385
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: كَانَ شُرَيْحٌ يَقُولُ: الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ: الزَّوْجُ .
مظاہر امیر خان
شریح رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: نکاح کا اختیار شوہر کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 386
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: هُوَ الْوَلِيُّ .
مظاہر امیر خان
علقمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اس سے مراد ولی ہے۔
حدیث نمبر: 387
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: هُوَ الْوَلِيُّ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: اس سے مراد ولی ہے۔
حدیث نمبر: 388
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ وَأَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّهُمْ قَالُوا: الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ هُوَ الْوَلِيُّ، فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، هُوَ الزَّوْجُ، فَرَجَعُوا عَنْ قَوْلِهِمْ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ عَفَا الْوَلِيُّ، وَأَبَتِ الْمَرْأَةُ، مَا يَعْنِي عَفْوُ الْوَلِيِّ ؟ أَوْ عَفَتْ هِيَ، وَأَبَى الْوَلِيُّ، مَا لِلْوَلِيِّ مِنْ ذَلِكَ ؟ .
مظاہر امیر خان
طاؤس رحمہ اللہ، عطاء رحمہ اللہ اور اہل مدینہ نے فرمایا: ”جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، وہ ولی ہے۔“ جب انہیں سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا قول بتایا گیا کہ ”یہ زوج ہے“ تو وہ اپنے قول سے رجوع کر گئے۔ پھر جب سعید بن جبیر رحمہ اللہ تشریف لائے تو فرمایا: ”اگر ولی معاف کر دے اور عورت انکار کر دے، تو ولی کی معافی کا کیا مطلب؟ یا اگر عورت معاف کر دے اور ولی انکار کر دے، تو ولی کو اس کا کیا حق حاصل ہے؟“
حدیث نمبر: 389
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْعَفْوِ، وَأَذِنَ فِيهِ، فَإِنْ عَفَتْ جَازَ عَفْوُهَا، وَإِنْ شَحَّتْ، وَعَفَا وَلِيُّهَا، جَازَ عَفْوُهُ .
مظاہر امیر خان
عکرمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے معاف کرنے کا حکم دیا اور اس کی اجازت دی، پس اگر عورت معاف کر دے تو اس کی معافی جائز ہے، اور اگر وہ بخل کرے اور اس کا ولی معاف کر دے تو اس کی معافی بھی جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 390
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَّا امْرَأَةً فَطَلَّقَهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَعَفَا أَخُوهَا عَنْ صَدَاقِهَا، فَارْتَفَعُوا إِلَى شُرَيْحٍ فَأَجَازَ عَفْوَهُ، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: أَنَا أَعْفُو عَنْ صَدَاقِ بَنِي مُرَّةَ، فَكَانَ يَقُولُ بَعْدُ: الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ: الزَّوْجُ، أَنْ يَعْفُوَ عَنِ الصَّدَاقِ كُلِّهِ، فَيُسَلِّمَهُ لَهَا، أَوْ تَعْفُوَ هِيَ عَنِ النِّصْفِ الَّذِي فَرَضَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهَا، وَإِنْ تَشَاحَّا، فَلَهَا نِصْفُ الصَّدَاقِ .
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہم میں سے ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا، پھر اس کے شوہر نے اس سے خلوت سے پہلے طلاق دے دی، تو اس کے بھائی نے اس کا مہر معاف کر دیا، پس وہ لوگ شریح رحمہ اللہ کے پاس گئے تو انہوں نے اس کی معافی کو جائز قرار دیا، پھر بعد میں فرمایا: میں بنی مرہ کے مہر کو معاف کرتا ہوں، اس کے بعد وہ فرمایا کرتے تھے: ’جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے‘ اس سے مراد شوہر ہے، کہ وہ پورے مہر کو معاف کرے اور وہ عورت کو دے دے، یا عورت اس نصف مہر کو معاف کر دے جو اللہ عزوجل نے اس کے لیے مقرر کیا ہے، اور اگر دونوں میں اختلاف ہو تو عورت کو نصف مہر ملے گا۔“
حدیث نمبر: 391
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: وَاللهِ مَا قَضَى شُرَيْحٌ بِقَضَاءٍ قَطُّ، كَانَ أَحْمَقَ مِنْهُ، حِينَ تَرَكَ قَوْلَهُ الْأَوَّلَ وَأَخَذَ بِهَذَا .
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! شریح رحمہ اللہ نے کبھی ایسا فیصلہ نہیں کیا جو اس سے زیادہ نامناسب ہو، جب انہوں نے اپنی پہلی بات کو چھوڑ دیا اور اس دوسرے قول کو اختیار کر لیا۔“