کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ - فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَلَكِنْ لا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا } - قَالَ: لَا تَأْخُذْ مِيثَاقَهَا أَلَّا تَنْكِحَ غَيْرَكَ، وَلَا تُوجِبِ الْعُقْدَةَ حَتَّى تَنْقَضِيَ الْعِدَّةُ .
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا﴾ کے بارے میں فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ تم کسی عورت سے عدت کے دوران یہ عہد نہ لو کہ وہ تمہارے سوا کسی اور سے نکاح نہ کرے، اور نہ ہی عدت ختم ہونے سے پہلے نکاح کا قطعی فیصلہ کرو۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا﴾ کی تفسیر میں فرمایا: اس سے مراد زنا ہے۔
وَأَنَا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ .
مظاہر امیر خان
ضحاک رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا﴾ کے بارے میں فرمایا: یعنی عورت سے عدت کے دوران خفیہ طور پر نکاح کا پختہ وعدہ نہ کرو۔
وَالتَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ .
مظاہر امیر خان
ابو مجلز رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا﴾ کی تفسیر میں فرمایا: اس سے مراد زنا ہے۔
وَأَنَا مُخْبِرٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، وَيُحَدِّثُ عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُمْ قَالُوا: هُوَ الزِّنَا .
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ زنا مراد لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، - فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: { وَلَكِنْ لا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا } - قَالَ: لَا يَخْطُبُهَا فِي عِدَّتِهَا . { إِلا أَنْ تَقُولُوا قَوْلا مَعْرُوفًا } يَقُولُ: إِنَّكِ لَجَمِيلَةٌ، وَإِنَّكِ لَفِي مَنْصِبٍ، وَإِنَّكِ لَمَرْغُوبٌ فِيكِ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے ﴿وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا﴾ کے بارے میں فرمایا: عدت کے دوران اس سے نکاح کی صریح پیشکش نہ کرے۔ «إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا» کے بارے میں فرمایا: یوں کہے کہ تم خوبصورت ہو، عزت والی ہو، اور تم میں رغبت کی جاتی ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ } - قَالَ: التَّعْرِيضُ مَا لَمْ يَنْصِبْ لِلْخِطْبَةِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے «وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ» کے بارے میں فرمایا: تعریض جائز ہے جب تک کہ واضح طور پر نکاح کی پیشکش نہ کی جائے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: نَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: يَقُولُ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ، وَإِنْ تَزَوَّجْتُ أَحْسَنْتُ إِلَى امْرَأَتِي .
مظاہر امیر خان
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: آدمی کہہ سکتا ہے کہ میں نکاح کا ارادہ رکھتا ہوں، اور اگر میں نکاح کرلوں تو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کروں گا۔