کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: نَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُرَّةُ الْهَمْدَانِيُّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: الصِّرَاطُ عَلَى النَّارِ، يَمُرُّ أَوَّلُهُمْ مِثْلَ الْبَرْقِ، ثُمَّ كَالطَّيْرِ، ثُمَّ كَالْفَرَسِ الْجَوَادِ، وَآخِرُهُمْ يَمُرُّ حَبْوًا، وَالْمَلَائِكَةُ قِيَامٌ مَعَهُمْ كَلَالِيبُ مِنْ نَارٍ، يَخْطِفُونَ النَّاسَ يَمِينًا وَشِمَالًا حَتَّى يَقْذِفُوهُمْ فِي النَّارِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صراط جہنم کے اوپر ہے، کچھ لوگ اس پر بجلی کی طرح گزریں گے، پھر کچھ پرندے کی مانند، پھر کچھ تیز رفتار گھوڑے کی طرح، اور کچھ گھٹنوں کے بل چل کر گزریں گے، اور فرشتے وہاں کھڑے ہوں گے، ان کے پاس آگ کے کنڈے ہوں گے، وہ لوگوں کو دائیں اور بائیں سے پکڑ کر جہنم میں ڈال دیں گے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ثَابِتٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ: { السِّرَاطَ }، بِالسِّينِ .
مظاہر امیر خان
ثابت رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ﴿السِّرَاطَ﴾ کو سین کے ساتھ پڑھتے تھے۔