سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {إِنَّا أَنْـزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ فَلا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلا وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْـزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْـزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} . باب: اللہ تعالیٰ کے قول «إِنَّا أَنْـزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظِبْيَانَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَجُلًا هَتَمَ فَمَ رَجُلٍ عَلَى عَهْدِ مُعَاوِيَةَ، فَأُعْطِيَ دِيَةً فَأَبَى إِلَّا أَنْ يَقْتَصَّ، فَأُعْطِيَ دِيَتَيْنِ فَأَبَى، فَأُعْطِيَ ثَلَاثًا، فَحَدَّثَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ تَصَدَّقَ بِدَمٍ إِلَى دُونِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ يَوْمَ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ يَمُوتُ .عدی بن ثابت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک آدمی کا منہ توڑ دیا، تو اسے دیت دی گئی لیکن اس نے انکار کیا اور قصاص لینے پر اصرار کیا، پھر اسے دو دیتیں دی گئیں لیکن اس نے انکار کیا، پھر اسے تین دیتیں دی گئیں، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے خون کے بدلے سے کم پر صدقہ کر دے تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے اس دن سے جب وہ پیدا ہوا تھا اس دن تک جب وہ مرے گا۔