کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول «إِنَّا أَنْـزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْـزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ } قَالَ: لَيْسَ بِالْكُفْرِ الَّذِي تَذْهَبُونَ إِلَيْهِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ کے بارے میں فرمایا: یہ وہ کفر نہیں ہے جو تم لوگ سمجھتے ہو۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّمَا أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْـزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ }، وَ: { الظَّالِمُونَ }، وَ: { الْفَاسِقُونَ } فِي الْيَهُودِ خَاصَّةً .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ عزوجل نے ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ اور ﴿الظَّالِمُونَ﴾ اور ﴿الْفَاسِقُونَ﴾ صرف یہودیوں کے بارے میں نازل فرمائی ہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: نَا الشَّعْبِيُّ قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْـزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ } فِي أَهْلِ الْإِسْلَامِ: { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْـزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ } قَالَ: نَزَلَتْ فِي الْيَهُودِ: { فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ } قَالَ: نَزَلَتْ فِي النَّصَارَى .
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: آیت ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ اہلِ اسلام کے بارے میں نازل ہوئی، ﴿فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی، اور ﴿فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ نصرانیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا الْعَوَّامُ، عَنْ يُسَيْرٍ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مَنْ قَضَى بَيْنَ اثْنَيْنِ بَعْدَ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ الثَّلَاثِ: { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْـزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ }، وَ { الظَّالِمُونَ }، فَمَا رَأَيْتُ مِثْلَ مَنْ قَضَى بَيْنَ اثْنَيْنِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے ان تین آیات ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾، ﴿الظَّالِمُونَ﴾ کے بعد کسی کو دو افراد کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے ایسا نہیں دیکھا جیسا اس نے کیا، یعنی کوئی اس ذمہ داری کی سنگینی کے برابر نہیں پایا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا الْمُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي أَهْلِ الذِّمَّةِ إِذَا اسْتُحْلِفُوا: يُغَلَّظُ عَلَيْهِمْ بِدِينِهِمْ، فَإِذَا بَلَغَتِ الْيَمِينُ اسْتُحْلِفُوا بِاللهِ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: اہلِ ذمہ کو جب قسم دی جائے تو ان پر ان کے دین کے مطابق سختی کی جائے، اور جب قسم کا موقع آ جائے تو انہیں اللہ کی قسم دی جائے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مُغِيرَةُ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنْ لَا تَسْتَحْلِفُوا بِغَيْرِ اللهِ أَحَدًا .
مظاہر امیر خان
مغیرہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھا کہ کسی کو بھی اللہ کے سوا کسی اور کی قسم نہ دی جائے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا عَبْدُ الْمَلِكِ، قَالَ: يُسْتَحْلَفُونَ بِاللهِ، وَإِنَّ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ لَمِنْ كُتِبِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ .
مظاہر امیر خان
عبد الملک رحمہ اللہ نے فرمایا: ان سے اللہ کی قسم لی جائے، اور بیشک تورات اور انجیل اللہ عزوجل کی کتابوں میں سے ہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ كَانَ يَسْتَحْلِفُ أَهْلَ الْكِتَابِ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ
مظاہر امیر خان
مسروق رحمہ اللہ اہلِ کتاب سے قسم لیتے وقت اللہ عزوجل ہی کی قسم دلواتے تھے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا حُصَيْنٌ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ } قَالَ: كَفَّارَةٌ لِلْجَارِحِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ﴾ کے بارے میں فرمایا: یہ زخمی کرنے والے کے لیے کفارہ ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ﴿فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ﴾ کا مطلب ہے یہ زخمی کرنے والے کے لیے کفارہ ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا مُغِيرَةُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: لِلْجَارِحِ، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: لِلْمَجْرُوحِ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ﴿فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ﴾ سے مراد زخمی کرنے والا ہے، اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس سے مراد زخمی ہونے والا ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ } قَالَ: الَّذِي أَصَابَهُ، وَالْمَجْرُوحُ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ .
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ﴾ کی تفسیر میں فرمایا: یہ کفارہ اس کے لیے ہے جس نے معاف کیا، اور جو زخمی ہوا، اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعَ أَبَا إِسْحَاقَ يَسْأَلُ مُجَاهِدًا عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ } قَالَ: لِلْجَارِحِ .
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ﴾ کی تفسیر میں فرمایا: یہ کفارہ جارح یعنی زخمی کرنے والے کے لیے ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظِبْيَانَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَجُلًا هَتَمَ فَمَ رَجُلٍ عَلَى عَهْدِ مُعَاوِيَةَ، فَأُعْطِيَ دِيَةً فَأَبَى إِلَّا أَنْ يَقْتَصَّ، فَأُعْطِيَ دِيَتَيْنِ فَأَبَى، فَأُعْطِيَ ثَلَاثًا، فَحَدَّثَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ تَصَدَّقَ بِدَمٍ إِلَى دُونِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ يَوْمَ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ يَمُوتُ .
مظاہر امیر خان
عدی بن ثابت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک آدمی کا منہ توڑ دیا، تو اسے دیت دی گئی لیکن اس نے انکار کیا اور قصاص لینے پر اصرار کیا، پھر اسے دو دیتیں دی گئیں لیکن اس نے انکار کیا، پھر اسے تین دیتیں دی گئیں، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے خون کے بدلے سے کم پر صدقہ کر دے تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے اس دن سے جب وہ پیدا ہوا تھا اس دن تک جب وہ مرے گا۔