سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَنْ قَالَ: لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَالدُّعَاءِ عِنْدَ لُقِيِّهِمْ باب: دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرنے اور مقابلے کے وقت دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3702
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عِيَاضٍ الْفَزَارِيِّ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَشْرَفَ عَلَى قَرْيَةٍ لِيَدْخُلَهَا قَالَ: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاءِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الْأَرْضِ وَمَا أَقَلَّتْ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا»مظاہر امیر خان
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بستی پر چڑھائی کرنے لگتے تو فرماتے: ”اے آسمان اور اس کے سائے والے کے رب، اے زمین اور اس پر بچھائے ہوئے کے رب! میں تجھ سے اس بستی کی بھلائی اور اس میں موجود بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اور اس بستی کے شر اور اس میں موجود شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“