سنن سعید بن منصور
كتاب الجهاد— جہاد کی کتاب
بَابُ مَنْ قَالَ: لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَالدُّعَاءِ عِنْدَ لُقِيِّهِمْ باب: دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرنے اور مقابلے کے وقت دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3695
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ» وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ يُمْهِلُ ثُمَّ يَنْهَدُ إِلَى عَدُوِّهِ وَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ»مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن سے ملاقات کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو، اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلتا تو تھوڑی دیر ٹھہر کر دشمن کی طرف بڑھتے اور یہ دعا کرتے: ”اے کتاب نازل کرنے والے، اے بادل چلانے والے، اے احزاب کو شکست دینے والے! انہیں شکست دے اور ہمیں ان پر غالب فرما۔“
وضاحت:
چونکہ ابو حيان التيمي نے روایت کسی ایسے راوی سے کی ہے جس کا نام ذکر نہیں کیا ("من حدثه")، اس لیے سند میں انقطاع اور جہالت (مبہم راوی) کی وجہ سے ضعف ہے۔