سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ باب: اُن باندیوں کے بارے میں بیان جن کے بطن سے مالک کے اولاد پیدا ہو (یعنی امہات الأولاد)۔
حدیث نمبر: 3241
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ أنا الْعَوَّامُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ أَنَّ عُمَرَ مَرَّ عَلَى غِلْمَانٍ عَلَى بِئْرٍ يُدْلُونَ فِيهَا وَمَعَهُمْ أَمَةٌ تُدَلِّي مَعَهُمْ، فَقَالَ: «هَا، لَعَلَّ صَاحِبَ هَذِهِ أَنْ يَكُونَ يُصِيبَ مِنْهَا ثُمَّ يَبْعَثُهَا فِيمَا تَرَوْنَ، أَمَا إِنَّهَا لَوْ جَاءَتْ بِوَلَدٍ أَلْحَقْنَاهُ بِهِ»مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ غلام کنویں سے پانی کھینچ رہے ہیں اور ایک باندی بھی ان کے ساتھ ہے تو فرمایا: ”شاید اس باندی کا مالک اس سے تعلق رکھتا ہو اور پھر اسے یوں لوگوں کے ساتھ کام پر لگا دیتا ہو، اگر اس سے بچہ پیدا ہوا تو ہم بچہ اس کے مالک کے ساتھ ملا دیں گے۔“