سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ باب: اُن باندیوں کے بارے میں بیان جن کے بطن سے مالک کے اولاد پیدا ہو (یعنی امہات الأولاد)۔
حدیث نمبر: 3231
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ لَقِيَهُ رَكْبٌ بِالْأَبْوَاءِ، فَقَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَسَأَلُوهُ يَعْنِي عَنْ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: " تَعْرِفُونَ عُمَرَ: فَقَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «فَإِنَّهُ قَضَى فِيهِنَّ أَنْ يَسْتَمْتِعَ بِهِنَّ سَادَتُهُنَّ مَا بَدَا لَهُمْ، فَإِذَا هَلَكَ السَّيِّدُ فَلَا بَيْعَ فِيهَا، وَلَا مِيرَاثَ»مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے امہات الاولاد کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ جب تک مالک زندہ ہے ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، لیکن جب مالک مر جائے تو نہ انہیں بیچا جا سکتا ہے اور نہ ان کا وارث بنایا جا سکتا ہے۔“
وضاحت:
وضاحت: اگرچہ سند میں فلَیح بن سلیمان کی وجہ سے کچھ ضعف ہے، لیکن عبد اللہ بن دینار کی روایت، اور 2053 والی صحیح روایت سے تائید ہونے کی وجہ سے یہ اثر بھی قابل قبول ہے۔
یہ فقہی اصولی قول ہے، اور فقہائے مدینہ، امام مالک، اور امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ کے مسلک کے مطابق ہے۔
یہ فقہی اصولی قول ہے، اور فقہائے مدینہ، امام مالک، اور امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ کے مسلک کے مطابق ہے۔