سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ باب: اُن باندیوں کے بارے میں بیان جن کے بطن سے مالک کے اولاد پیدا ہو (یعنی امہات الأولاد)۔
حدیث نمبر: 3230
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: أَدْرَكَ ابْنَ عُمَرَ رَجُلَانِ بِالْأَبْوَاءِ، فَقَالَا لَهُ: إِنَّا تَرَكْنَا هَذَا الرَّجُلَ يَبِيعُ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، يُرِيدَانِ ابْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " أَتَعْرِفَانِ أَبَا حَفْصٍ فَإِنَّهُ قَضَى فِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ: لَا يُبَعْنَ، وَلَا يُوهَبْنَ، يَسْتَمْتِعُ بِهَا صَاحِبُهَا، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ "مظاہر امیر خان
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دو آدمیوں نے ابواء کے مقام پر ملاقات کی اور کہا: ”ہم نے فلاں شخص (ابن زبیر) کو امہات الاولاد کو بیچتے دیکھا ہے۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیا تم ابو حفص (یعنی عمر) کو جانتے ہو؟ بے شک انہوں نے امہات الاولاد کے بارے میں فیصلہ دیا تھا کہ نہ ان کا بیچنا جائز ہے، نہ ہبہ کرنا، مالک ان سے فائدہ اٹھائے گا اور جب وہ مر جائے تو وہ آزاد ہو جائیں گی۔“