سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ باب: اُن باندیوں کے بارے میں بیان جن کے بطن سے مالک کے اولاد پیدا ہو (یعنی امہات الأولاد)۔
حدیث نمبر: 3225
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: اجْتَمَعَ رَأْيِي وَرَأْيُ عُمَرَ فِي عِتْقِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، فَلَمَّا وُلِّيتُ رَأَيْتُ أَنْ أُرِقَّهُنَّ قَالَ عَبِيدَةُ: فَرَأْيُ عُمَرَ وَعَلِيٍّ فِي الْجَمَاعَةِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ رَأْيِ عَلِيٍّ وَحْدَهُ فِي الْفُرْقَةِمظاہر امیر خان
حضرت عبیدہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ تھا کہ امہات الاولاد کو آزاد کر دیا جائے، لیکن جب مجھے حکومت ملی تو میں نے چاہا کہ انہیں غلامی میں رکھا جائے۔“ عبیدہ رحمہ اللہ نے کہا: ”جماعت کی رائے، علی رضی اللہ عنہ کی تنہا رائے سے زیادہ محبوب ہے۔“