سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ باب: اُن باندیوں کے بارے میں بیان جن کے بطن سے مالک کے اولاد پیدا ہو (یعنی امہات الأولاد)۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبِيدَةَ، قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ النَّاسَ فَقَالَ: شَاوَرَنِي عُمَرُ عَنْ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، فَرَأَيْتُ أَنَا وَعُمَرُ أَنْ أُعْتِقَهُنَّ فَقَضَى بِهَا عُمَرُ حَيَاتَهُ، وَعُثْمَانُ حَيَاتَهُ، فَلَمَّا وُلِّيتُ رَأَيْتُ أَنَّ أُرِقَّهُنَّ " قَالَ عَبِيدَةُ: فَرَأْيُ عُمَرَ وَعَلِيٍّ فِي الْجَمَاعَةِ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ رَأْيِ عَلِيٍّ وَحْدَهُ.حضرت عبیدہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے امہات الاولاد کے بارے میں مشورہ کیا تھا، تو میرا اور عمر کا فیصلہ تھا کہ انہیں آزاد کیا جائے، چنانچہ عمر نے اپنی زندگی میں یہی فیصلہ نافذ کیا، اور عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی زندگی میں اسی پر عمل کیا، لیکن جب مجھے خلافت ملی تو میں نے رائے بدلی اور چاہا کہ انہیں دوبارہ غلام بنا دوں۔“ عبیدہ رحمہ اللہ نے کہا: ”ہمیں عمر اور علی رضی اللہ عنہما کی جماعت کی رائے علیحدہ علی رضی اللہ عنہ کی انفرادی رائے سے زیادہ محبوب ہے۔“