سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ الْأَمَةُ غَيْرُ مَسْلَمَةٍ أَيَحِلُّ لَهُ أَنْ يُصِيبَهَا باب: اُس مرد کا بیان جس کی باندی مسلمان نہ ہو، کیا اس کے لیے اس سے جماع کرنا جائز ہے؟
حدیث نمبر: 3221
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ قَالَ: «إِذَا سُبِيَتِ الْيَهُودِيَّاتُ وَالنَّصْرَانِيَّاتُ يُجْبَرْنَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَإِذَا أَسْلَمْنَ وُطِئْنَ وَاسْتُخْدِمْنَ، وَإِنْ أَبَيْنَ وُطِئْنَ وَاسْتُخْدِمْنَ، وَإِذَا سُبِيَتِ الْمَجُوسِيَّاتُ وَعَبْدَةُ الْأَوْثَانِ أُجْبِرْنَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَسْلَمْنَ وُطِئْنَ وَاسْتُخْدِمْنَ، وَإِنْ لَمْ يُسْلِمْنَ اسْتُخْدِمْنَ وَلَمْ يُوطَأْنَ»مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب یہودیہ اور نصرانیہ عورتیں قید میں آئیں تو ان پر اسلام قبول کرنا لازم کرایا جائے، اگر وہ اسلام لے آئیں تو ان سے مباشرت اور خدمت لی جائے، اگر انکار کریں تب بھی خدمت لی جائے گی مگر مباشرت نہ کی جائے گی، اور جب مجوسیہ اور بت پرست عورتیں قید میں آئیں تو ان پر بھی اسلام لازم کیا جائے، اگر وہ اسلام قبول کریں تو ان سے مباشرت اور خدمت دونوں لی جائیں گی، اور اگر اسلام قبول نہ کریں تو ان سے صرف خدمت لی جائے گی، مباشرت نہیں ہو گی۔“