حدیث نمبر: 3159
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، أنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، أَنَّ هَانِئَ بْنَ قَبِيصَةَ، أَسْلَمَتِ امْرَأَتُهُ قَبْلَهُ، فَخَشِيَ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، فَلَقِيَ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ فَكَلَّمَهُ أَنْ يُكَلِّمَ لَهُ عُمَرَ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: «هُنَيُّ ذَهَبَ الزَّمَانُ الَّذِي عَهِدْتَنَا عَلَيْهِ، وَاللَّهِ لَوْ بَلَغَنِي أَنَّ لِيَ ابْنًا بِالْعِرَاقِ دَرَجَ عَلَى أَهْلِهِ طَرَفًا مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَدَّعِيَهُ إِلَّا فَرَقًا مِنْ عُمَرَ، وَمَا يُكَلَّمُ فِي ذَاتِ اللَّهِ»
مظاہر امیر خان

حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہانئ بن قبیصہ کی بیوی اس سے پہلے مسلمان ہو گئی، اسے ڈر تھا کہ کہیں ان دونوں کے درمیان جدائی نہ کر دی جائے، چنانچہ وہ سیدنا ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بات کریں، سیدنا ابو سفیان نے کہا: ”ہانئ، وہ زمانہ گزر گیا جس پر ہم تھے، اللہ کی قسم، اگر مجھے خبر بھی ہو کہ میرا کوئی بیٹا عراق میں ہے جو اہل عراق کے درمیان پروان چڑھ رہا ہے، تو میں عمر کے خوف کے سوا اسے اپنا بیٹا تسلیم کر لیتا، اللہ کے معاملے میں کسی کی سفارش نہیں ہوتی۔“

وضاحت:
وضاحت: حسن بن عمران کی توثیق نہیں ملی۔، اس کے بعد "عن رجل" کا مجہول مبہم راوی ہے، جو سند کو ضعیف بنا دیتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3159
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، و«انفرد به المصنف من هذا الطريق»»