حدیث نمبر: 3085
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أنا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ الْكِنْدِيُّ، «أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْقَفَ رَجُلًا عِنْدَ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ، إِمَّا أَنْ يَفِيءَ، وَإِمَّا أَنْ يُطَلِّقَ»
مظاہر امیر خان

عمرو بن سلمہ کندی رحمہ اللہ نے کہا: ”میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے چار ماہ کے بعد ایک شخص کو روکا، یا تو رجوع کرے یا طلاق دے۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3085
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لغيرہ
تخریج حدیث «إسناده حسن لغيرہ، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 2045، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1906، 1907، 1908، 1909، 1910، 1912، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 15312، 15313، 15314، 15315، 15316، 15317، 15330، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4037، 4038، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11656، 11657، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18879، 18880، 18881، 18882»
أبو إسحاق نے عن سے روایت کی ہے، اس وجہ سے تدلیس کا احتمال ہے، البتہ چونکہ الشعبي سے روایت کر رہے ہیں اور ان کی سیدنا عمرو بن سلمة رضی اللہ عنہ سے ملاقات و معاصرت ثابت ہے، تو انقطاع کا قوی احتمال نہیں۔ متن سابقہ صحیح آثار کے موافق ہے، جیسا کہ روایت 1906 میں ہے۔