سنن سعید بن منصور
كتاب الطلاق— طلاق کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ وَعِنْدَهُ أَكْثَرُ مِنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ، أَوْ أُخْتَانِ باب: اس شخص کے بارے میں بیان جس نے اسلام قبول کیا اور اس کے نکاح میں چار سے زیادہ بیویاں یا دو بہنیں ہوں۔
حدیث نمبر: 3046
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا عَوْفٌ، قَالَ: نا شَيْخٌ فِي مَجْلِسِ الْأَشْيَاخِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ جَمَعَ بَيْنَ أُخْتَيْنِ، ثُمَّ أَسْلَمَ فِي عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: «اخْتَرْ إِحْدَاهُمَا»، قَالَ عَوْفٌ: فَذَكَرْتُ لِنَاسٍ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ فَعَرَفُوا الرَّجُلَ، وَقَالُوا: هَذَاكَ هَنَّامٌ الْبَكْرِيُّ رَجُلٌ مِنَّا، وَإِنَّ فِيهِ جَفَاءً، وَكَانَ يَقُولُ لِلَّتِي فَارَقَ: أَمَا إِنَّكِ امْرَأَتِي، وَلَكِنْ غَلَبَنِي عَلَيْكِ عُمَرُمظاہر امیر خان
ایک شخص بکر بن وائل سے تھا جس نے دو بہنوں کو جمع کر رکھا تھا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ان میں سے ایک کو اختیار کرو۔“ اس کا نام ہنام بکری بتایا گیا۔
وضاحت:
وضاحت: شیخٌ فی مجلس الأشياخ – مجہول۔